وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں محکمہ بلدیات کے 78.087 ارب روپے کے ترقیاتی پورٹ فولیو 2025-26ء کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 78 ارب 8 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے 765 ترقیاتی اسکیموں پر کام کیا جائے گا، جن میں 696 جاری اسکیمیں اور 60 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ ان نئی اسکیموں میں 16 گزشتہ سال سے منتقل ہونے والی اور 44 بالکل نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں میگا پروجیکٹس کراچی کے لیے 9 اسکیموں پر 8 ارب 28 کروڑ 87 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کراچی اور حیدرآباد کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جو محکمہ بلدیات کے تحت جاری ہیں۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال کے لیے کُل 863 ارب 75 کروڑ 60 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 233 ارب 90 کروڑ 82 لاکھ روپے جاری ہوچکے ہیں جبکہ 14 ارب 12 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ جاری اسکیموں کی مجموعی پیش رفت سات فیصد رہی جبکہ نئی اسکیموں کی منظوری حال ہی میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے دی ہے۔
کراچی ترقیاتی منصوبے
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی کہ کراچی میں چھ بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی مالیت 8 ارب 20 کروڑ روپےہے۔ ان منصوبوں میں ایف بی ایریا میں علامہ اقبال پارک کا قیام، ضلع جنوبی میں نہرِ خیام کی بحالی، ضلع وسطی میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، کورنگی کاز وے کی ازسرِنو تعمیر اور سچل گوٹھ میں سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منظور کالونی میں نکاسی آب کے نظام کی بحالی، برساتی نالوں کے منصوبے جن میں تھدو نالہ، مہران ڈرین، این 5 مرغی خانہ کے قریب ملیر ندی اور کورنگی کاز وے پر شاہراہِ بھٹو کے جنکشن پر ترقیاتی کام شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت دی کہ ان میگا اسکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور اعلان کیا کہ وہ جلد منصوبہ جات کا ذاتی طور پر دورہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لانا ناگزیر ہے۔مالی سال 2025-26ء کے لیے کراچی میں 13 نئی اسکیمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ ان منصوبوں میں پرانے شہر کے علاقوں اور بڑے تجارتی مراکز کی ترقی، پرانی کے ایم سی مارکیٹوں کی بحالی، چیک پوسٹ نمبر 4 (ملیر کینٹ) سے موٹروے ایم 9 تک سڑک کی مرمت، چیک پوسٹ نمبر 3 سے شاہراہِ بھٹو تک سڑک کی تعمیر، آئی بی سومرو ایونیو اور معمارروڈز کی تعمیر، شاہ فیصل کالونی میں سڑکوں کی تعمیر، طوفانی نالوں کی بحالی، شاہراہِ بھٹو تک لنک روڈز کی تعمیر، گلشنِ حدید موڑ سے اللہ والی چورنگی تک نئی سڑک، حب ریور روڈ (توری بنگش) سے اتحاد ٹاؤن تک سڑک کی تعمیر، کراچی ٹریفک کوریڈور پراجیکٹ، گجر نالہ پر فلائی اوور کراسنگ، سر شاہ سلیمان روڈ پر تعمیراتی کام، برڈ ایویری سائٹ پر کڈنی ہل پارک کی تعمیر، گٹر باغیچہ کو عوامی پارک کے طور پر ترقی دینا، مختلف قبرستانوں میں سہولیات کی بہتری اور ناظم آباد میں ضیاءالدین اسپتال کے قریب ہاکی گراؤنڈ کی تعمیر شامل ہیں۔
حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبے
وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ مالی سال 2025-26ء کے لیے حیدرآباد میں 3 نئی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں جن کی مجموعی مالیت 4 ارب 40 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں میں 23 انچ قطر کی واٹر سپلائی اسکیم شامل ہے جو کمبائنڈ چینل کو لطیف آباد یونٹ نمبر 4 میں واقع 6 ایم جی ڈی فلٹریشن پلانٹ سے جوڑے گی، اس پر 1 ارب 20 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ قاسم آباد کے مصری گوٹھ میں 2 ارب روپے کی لاگت سے 6 ایم جی ڈی ریپڈ گریوٹی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر اور خان پوٹا میں 6 ایم جی ڈی واٹر فلٹریشن پلانٹ کا قیام شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ ان منصوبوں پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے سڑکوں کے انفراسٹرکچر میں پہلے ہی بہتری لائی جاچکی ہے اور اب پانی اور فلٹریشن کے منصوبوں کی تکمیل سے شہر کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔






