ایل ڈی اے گورننگ باڈی کا رواں سال کا چوتھا اجلاس ایل ڈی اے آفس جوہر ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد نے ایل ڈی اے گورننگ باڈی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں وائس چیئرمین واساچودھری شہباز احمد،ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے شرکت کی۔

گورننگ باڈی اجلاس میں مختلف ایجنڈے منظوری کے لیے پیش کیے گئے۔گورننگ باڈی اجلاس میں ایل ڈی اے اور ٹیپا کا سال2025-26کا بجٹ منظور کیا گیا۔ایل ڈی اے کے رواں مالی سال کے لیے 59 ارب روپے اورٹیپا کا رواں مالی سال کے لیے تین ارب کا بجٹ منظورکیا گیا۔ ایل ڈی اے نے ڈویلپمنٹ رسید کے لیے 23.3 ارب جبکہ نان ڈویلپمنٹ رسید کے 24.3 ارب روپے مختص کیے۔ایل ڈی اے ٹاؤن پلاننگ ونگ کا رواں مالی سال کے لیے 16.5 ارب کا ہدف مقررکیا گیا۔سی ایم پی ونگ کے لیے ایک ارب، سیلز اینڈ آکشن کے لیے 11.4 ارب کا ٹارگٹ مقررکیا گیا۔ایل ڈی اے رواں سال ایل ڈی اے سٹی، ایونیو ون اور دیگر سکیموں میں 14 ارب کے ترقیاتی کام کرے گا۔ایل ڈی اے سٹرکچر پلان روڈ کے لیے حکومت پنجاب سے مزید 10 ارب بطور لون لے گا۔ایل ڈی اے سٹرکچر پلان روڈز کی تعمیر پر مجموعی طور پر 20 ارب خرچ کرے گا۔گورننگ باڈی اجلاس میں ہاؤسنگ،اربن پلاننگ، ٹاؤن پلاننگ اور شعبہ انجینئرنگ کے مختلف ایجنڈے منظور کیے گئے۔اجلاس میں جناح مارکیٹ ٹاون شپ اور چائلڈ ویلفیئر سنٹر کے لیے نقشہ منظوری اور پوزیشن فیس مکمل طور پر معاف کرنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں آکشن اینڈ الاٹمنٹس کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کی منظوری دی گئی۔ایل ڈی اے ایونیو ون کی مذاکراتی کمیٹی کی دوبارہ تشکیل نو کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ایل ڈی اے بلڈنگ اینڈ زوننگ ریگولیشن 2019 میں مختلف ترامیم کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ہائی رائز بلڈنگ کے ایف اے آر میں ترمیم، لازمی بیسمنٹ اور انڈرگراونڈ پارکنگ کی تعمیر کو آپشنل کر دیا گیا۔اجلاس میں دومرلہ تک کے کمرشل املاک میں آرکیٹ ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔ایز آف ڈوئنگ بزنس کے لیے 90 فٹ تک کی ہائیٹ اور 4 کنال تک کے کمرشل املاک کے لیے ٹیپا ٹی آئی اے کی ریکوائرمنٹ کو ختم کر دیا گیا۔ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا میں پہلے سے موجود اور نئی بننے والی کمرشل املاک کے باہری حصے (فساڈ) کی بہتری اور انفورسمنٹ کے لیے ریگولیشنز اور کمیٹی کی منظوردی گئی۔اجلاس میں غیر قانونی کمرشلائزیشن پرپینلٹی فیس ریوائز کرکے 5 مرلہ تک ڈی سی ریٹ کا ایک فیصد جبکہ 5 مرلہ سے زائد 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔تعلیمی اداروں اور ہیلتھ فیسلیٹیز پر پیلنٹی ریوائز کرکے 5 مرلہ تک کی املاک پر 0.75 فیصد جبکہ 5 مرلہ سے بڑی املاک پر ایک فیصد کر دی گئی۔اجلاس میں ایل ڈی اے لینڈ یوز رولز میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں اتھارٹی ممبران نے ریونیو جنریشن میں ریکارڈ بہتری لانے پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔اجلاس میں گلبرگ سکیم کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ماڈل اور ایل ڈی اے ایونیو ون کے ڈویلپمنٹ پلان کے ایجنڈے کی اصولی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا کی سڑکوں پر پیچ ورک اور معمول کی مرمت و بحالی کے لیے ایم اینڈ آر کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں گورننگ باڈی کے ٹیکنیکل ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں چیف انجینئر ایل ڈی اے، ایڈیشنل ڈی جیز، چیف میٹرو پولیٹن پلاننگ، چیف ٹاون پلانر، ڈائریکٹر سی اینڈ ائی، ڈائریکٹر فنانس، ڈائریکٹر ہاو سنگ، ڈائریکٹر ایل ڈی اے ایونیو ون، ایل ڈی اے، ٹیپا اور واسا کے متعلقہ افسران،ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ، پی اینڈ ڈی، لوکل گورنمنٹ، کمشنر آفس، نیسپاک اور فنانس کے نمائندگان نے شرکت کی۔






