*وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے روٹری فاؤنڈیشن کے چھ رکنی وفد کی اہم ملاقات، پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ*

وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے روٹری فاؤنڈیشن کے چھ رکنی وفد سے اہم ملاقات میں پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرض بچوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر مہمات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال ستمبر، اکتوبر اور دسمبر میں اورل پولیو ویکسین (منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین) کی مہم چلائی جائے گی جس میں 15 سال تک کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔وفد میں ہولگر کناک (چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز روٹری فاؤنڈیشن)، مائیکل کے میک گورن (چیئرمین روٹری انٹرنیشنل پولیو پلس کمیٹی)، عزیز میمن (نیشنل چیئرمین پاکستان پولیو پلس کمیٹی)، محمد فائز قدوائی (سابق ڈائریکٹر روٹری انٹرنیشنل)، شکیل قائم خانی (ڈسٹرکٹ گورنر روٹری انٹرنیشنل سندھ) اور شہزاد صابر (ڈسٹرکٹ گورنر منتخب) شامل تھے۔ وزیرِاعلیٰ کے ہمراہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور وزیرِاعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری رحیم شیخ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سندھ میں پولیو کے خاتمے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیرِاعلیٰ نے پولیو کیسز میں تشویشناک اضافے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 2024 میں 23 کیسز سامنے آئے جبکہ رواں سال اب تک 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں آخری کیس جولائی 2025 میں ضلع بدین میں ریکارڈ ہوا۔ تاہم انہوں نے ماحولیاتی نگرانی (اینوائرمنٹل سرویلنس) کے مثبت اشارے بھی بیان کیے جن کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کے ایک تہائی نمونے جون اور جولائی میں وائرس سے پاک پائے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک مجموعی طور پر 21 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں پنجاب کا ایک، سندھ کے چھ، خیبرپختونخوا کے 13 اور آزاد جموں و کشمیر/گلگت بلتستان کا ایک کیس شامل ہے۔ سندھ میں ضلع حیدرآباد ڈویژن سے تین، لاڑکانہ سے دو اور میرپورخاص سے ایک کیس رپورٹ ہوا۔

 

پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے صوبہ سندھ نے آزاد مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) اور ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی) کی سفارشات کی روشنی میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں باقاعدہ ٹاسک فورس اجلاسوں کے ذریعے احتسابی نظام قائم کرنا، فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین سے انکاری گھروں میں داخلے اور آگاہی میں مدد فراہم کرنے کےلیے 1300 معاون ٹیموں کی تعیناتی شامل ہیں۔ خاص طور پر کراچی میں قائم کیے گئے ’ریفیوزل کنورژن کمیٹیز‘ نے ویکسین سے انکار کرنے والے خاندانوں کی تعداد میں 15 فیصد کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔روٹری انٹرنیشنل نے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے تقریباً 50 کروڑ امریکی ڈالر قومی پولیو پروگرام کو فراہم کیے ہیں جس سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا بلکہ پسماندہ برادریوں کے لیے صحت کیمپ بھی قائم کیے گئے۔وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ ماہ ستمبر، اکتوبر اور دسمبر 2025 میں تین بڑی اورل پولیو ویکسین (منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین مہمات چلانے کا اعلان کیا۔ ان مہمات میں 15 سال تک کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ مہمات اعلیٰ معیار کے مطابق ہوں۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام اضلاع میں روتری کلبز کو متحرک کیا جائے گا تاکہ عوامی آگاہی اور ویکسین کے حوالے سے اعتماد کو بڑھایا جا سکے۔چیئرمین روتری فاؤنڈیشن ہولگر کناک نے وزیرِاعلیٰ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی تنظیم اعلیٰ سطحی اسٹیک ہولڈرز میں وکالت اور شمولیت کے عمل کو مزید فروغ دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو ریسورس سینٹرز، ٹیم سپورٹ سینٹرز اور ٹرانزٹ پوسٹس کو ہائی رسک اور پسماندہ علاقوں میں وسعت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دور دراز اضلاع کے لیے کولڈ چین آلات اور سولر ریفریجریٹرز فراہم کیے جائیں گے جن میں 3000 ویکسین کیرئیرز، 10 ہزار آئس پیکس اور 25 سولر آئی ایل آرز شامل ہوں گی۔مزید یہ کہ ضرورت مند برادریوں میں 20 مزید سولر واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب یا بحال کیے جائیں گے۔ یونین کونسل کی سطح پر علما اور کمیونٹی ورکشاپس کو بڑھایا جائے گا تاکہ ویکسین سے انکار کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ساحلی پٹی اور مشکل رسائی والے علاقوں میں 50 ہیلتھ کیمپس قائم کیے جائیں گے جہاں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح کم ہے۔اختتام پر وزیرِاعلیٰ سندھ نے روتری انٹرنیشنل اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مہینے اس جدوجہد میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button