لاہور پریس کلب کی آر ٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے زیراہتمام سینئر ترین صحافی سرفراز سید کی 89ویں سالگرہ منائی گئی۔ تقریب کی صدارت پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کی۔سینئر صحافی کی آمد پر ان کا استقبال کلب کے گیٹ پر ڈھول کی تھاپ پر کیا گیا اور نثار عثمانی ہال تک ان پر پھول نچھاور کئے گئے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت سلمان رسول نے حاصل کی۔سعید اختر نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔سٹیج پر صدر پریس کلب ارشد انصاری‘نائب صدر افضال طالب‘فنانس سیکرٹری سالک نواز‘ ممبر گورننگ باڈی رانا شہزاد‘ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی‘اور مہمانوں میں پرائیڈ آف پرفارمنس اداکار راشد محمود‘بابا نجمی‘ ڈاکٹر خالد جاوید جان موجود تھے۔آغاز میں سرفراز سید نے کہا کہ حاضرین میں سے سب کو جانتے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ تقریب میں موجود ہر شخص ان پر بولنا چاہتا ہے مگر میں زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکوں گا اس لئے میری نظم سنئیے۔نظم سنانے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ساٹھ سالہ صحافتی دور میں 14ہزار کالم راوی نامہ کے نام سے لکھے۔

ان کے کالموں کا ایک مجموعہ راوی نامہ کے نام سے اور شاعری کی کتاب ”حصارِ شہرِ جاں“کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔تقریب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ شاہ جی بہت مشفق اور ملنسار ہیں۔ اللہ انہیں زندگی دے ہم ان کی100ویں سالگرہ بھی پریس کلب میں منائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز سید جیسے صحافی اب آنا بند ہو چکے ہیں‘ انہوں نے جتنا عرصہ صحافت کو دیا اتنی ہماری عمر نہیں۔انہوں نے ایماندارانہ صحافت کی جو شمع روشن کی ہم اس سے اپنی صحافتی زندگی کی راہیں روشن کر سکتے ہیں‘ ہم اپنے سینئرز کو ایسے ہی شایان ِشان طریقے سے یاد کر تے رہیں گے۔سرفراز سید کی صاحبزادیوں پروفیسر سحرین بخاری اورپروفیسر سیماب بخاری کے علاوہ ان کے نواسے سید صفدر بخاری اور امان بخاری نے بھی مائیک پر محبت کا اظہارکیا۔ نائب صدر افضال طالب‘فنانس سیکرٹری سالک نواز‘ ممبر گورننگ باڈی رانا شہزاد‘ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی‘ اظہر غوری‘ محمد علی‘رانا خالد قمر‘ حامدنواز‘پرویز الطاف نے بھی ان کی صحافتی اور ادبی زندگی پر گفتگو کی۔تقریب کے انعقاد میں تعاون پر روزنامہ لیڈر کے ایڈیٹر علی احمد ڈھلوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے ادارہ کی نمائندگی امجد کمبوہ نے کی۔ سرفراز سید کی جانب سے خصوصی سووینئرز ارشد انصاری‘ سعید اختر اور شہزاد فراموش کو پیش کئےگئے۔ تقریب میں ایکٹ کمیٹی کے تمام شرکاء کو سرفراز سید نے اپنی کتاب اور قلم پیش کئے۔تقریب میں قمربھٹی‘ طارق کامران‘ شفقت حسین‘شعیب مرزا‘شوکت ڈار‘قیوم زاہد‘ساجد یزدانی‘اعجاز حفیظ‘امریز خان‘ناصف اعوان‘ عطیہ زیدی‘فراز فاروقی‘حبیب چوہان‘عمران نومی‘نفیس قادری‘طاہر اصغر‘فیصل سلہریا‘ظہیر بابر‘ راجہ ریاض‘طاہر چودھری‘فرخ‘سجاد اعوان‘عمر شریف‘عندلیب بھٹی‘ اقبال جکھڑ‘حماد سعید‘ڈاکٹر شجاعت‘اے آر گل‘غلام زہرا،دبیر بٹ‘مسعود بھٹی اور بہت سے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔






