بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اورنگی ٹاؤن میں ایک ارب روپے مالیت کی 5 ایکڑ کمرشل زمین دوبارہ اپنے قبضے میں لے لی

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اورنگی ٹاؤن میں 5 ایکڑ قیمتی کمرشل زمین، جس کی مالیت ایک ارب روپے سے زائد ہے، کامیابی کے ساتھ دوبارہ اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ یہ اقدام شہر کے قیمتی اثاثوں کے تحفظ اور عوامی زمین کو صرف بلدیاتی قوانین کے مطابق استعمال میں لانے کی پالیسی کی ایک اہم پیشرفت ہے۔ مذکورہ زمین دراصل ایک اسپتال کے قیام کے لیے لیز پر دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے لیز معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر اسکولوں، آڈیٹوریم، کینٹینز اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

میئر کراچی کی اس واضح پالیسی کے تحت کہ قبضہ شدہ یا غلط استعمال ہونے والی بلدیاتی اراضی واپس حاصل کی جائے، کے ایم سی نے اس سے قبل اورنگی ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے تحت 500 سے زائد پلاٹس کے معاہدے منسوخ کیے تھے محکمہ جاتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس 5 ایکڑ قیمتی زمین کی منسوخی باضابطہ طور پر منظور کر لی گئی۔ بعد ازاں کے ایم سی کے اورنگی ٹاؤن شپ ڈپارٹمنٹ نے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ایک جامع آپریشن کیا، جو پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاون فیصل رضوی کی نگرانی میں انجام پایا۔ ٹیموں نے کامیابی کے ساتھ زمین کو سیل کر دیا، تاہم وہ حصہ جو اسپتال کے طور پر کام کر رہا ہے فی الحال فعال رکھا گیا تاکہ زیرِ علاج مریضوں کی سہولت متاثر نہ ہو۔ جیسے ہی مریضوں کا علاج مکمل ہوگا، باقی حصہ بھی تحویل میں لے لیا جائے گا. میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی حکام اور ضلعی انتظامیہ کی مربوط کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی زمین کے غلط استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی بلدیاتی زمین کا ہر انچ شہریوں کی ملکیت ہے اور ہم اس کا تحفظ، بحالی اور درست استعمال یقینی بنائیں گے. انہوں نے کہا کہ قبضہ شدہ اور غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والی زمین کی واگزاری کے لیے کے ایم سی کی کارروائیاں پوری شفافیت اور تیزی کے ساتھ جاری رہیں گی.میئرکراچی نے کہا کہ ہماری مہم کا مقصد یہ ہے کہ کراچی کے اثاثے صرف کراچی کے عوام کے مفاد میں استعمال ہوں، نہ کہ نجی مفادات کے لیے۔

جواب دیں

Back to top button