سندھ اور وفاق کا 300 روزہ کلائمیٹ ایکشن پلان بنانے پر اتفاق،چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں ورکنگ گروپ قائم

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے مون سون سے قبل 300 روزہ کلائمیٹ ایکشن پلان شروع کرنے، سکھر بیراج کی گنجائش بڑھانے، دریائے سندھ کے کمزور پشتوں کو مضبوط کرنے اور پرانے قدرتی راستوں کی بحالی پر بات چیت کی تاکہ دریائی اور برساتی سیلابوں کے دوران قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کو روکا جا سکے۔ اجلاس پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور پرنسپل سیکریٹری آغا واصف بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آنے والے مون سون سیزن جو معمول سے 15 دن پہلے شروع ہونے کی توقع ہے، کے پیش نظر 300 روزہ کلائمیٹ ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت چاروں صوبائی حکومتیں اپنی تجاویز اور ضروری منصوبے پیش کریں گی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بروقت اور پیشگی اقدامات سے بارشوں اور دریائی سیلابوں کے نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سنگین نقصانات کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ اجلاس میں کاربن کریڈٹ مارکیٹ کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو کاربن کریڈٹ مارکیٹ کھولنے میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ نے پہلے ہی کاربن کریڈٹ مارکیٹنگ شروع کر دی ہے اور اس کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دریا میں طغیانی کی وجہ سے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ سکھر بیراج کی صورتحال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیراج کی اصل ڈیزائن گنجائش 15 لاکھ کیوسک تھی لیکن ہائیڈرولک مسائل اور 10 گیٹ بند ہونے کی وجہ سے یہ گنجائش کم ہوکر 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک رہ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا ہمیں سکھر بیراج کی گنجائش بڑھانا ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے دریائے سندھ کے بعض پشتوں کی کمزور حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جاپان سندھ میں ان پشتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کر رہا ہے خصوصاً کے کے بند اور قادرپور-شاہنک بند پر، اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبے جلد عملی شکل اختیار کریں گے۔ انہوں نے مون سون سیلاب کو قابو کرنے کے لیے قدرتی راستوں کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 1930 کی دہائی میں بیراجوں کی تعمیر کے بعد کچے کے علاقے وجود میں آئے جس سے قدرتی بہاؤ متاثر ہوا۔ سندھ کے پاس 14 نہریں ہیں اور دریائے سندھ کے دائیں اور بائیں کنارے دونوں پر قدرتی نکاس بحال کرنا ہوگا۔ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دائیں کنارے پر پہاڑی سلسلہ شدید پانی منچھر جھیل میں لے آتے ہیں جہاں سے یہ پانی دو نہروں کے ذریعے دریائے سندھ میں چھوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ان نہروں کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ منچھر جھیل کا پانی بنیادی طور پر اڑل واہ/نہر اور دانستر نہر کے ذریعے دریائے سندھ میں چھوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے دونوں راستوں کو بہتر اور ری ماڈل کیا ہے لیکن ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ بائیں کنارے پر شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، تھرپارکر اور عمرکوٹ کے اضلاع میں بارشوں کا پانی بھی قدرتی راستوں کا تقاضا کرتا ہے۔ تاریخی طور پر ھکڑو ندی اس پانی کو بہاکر لے جاتی تھی لیکن لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) کی تعمیر کے بعد یہ قدرتی راستے بند ہوگئے جس کے باعث بارشوں کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ انکی حکومت نے ڈھورو پران کو دوبارہ زندہ کیا جس کا افتتاح 2024 میں ہوا تاکہ قدرتی بہاؤ کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے سکھر بیراج کی گنجائش بڑھانے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیراعلیٰ سندھ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے عالمی معاونت ناگزیر ہے۔ اجلاس میں موسمی پیشگوئی کے نظام کو جدید بنانے اور بروقت الرٹس و تیاری یقینی بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر نے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کی سربراہی میں ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ 300 روزہ کلائمیٹ ایکشن پلان دو ہفتوں میں تیار کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button