وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسکول ایجوکیشن سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بنیادی تعلیم اور ارلی چائلڈہوڈ کیئر اینڈ ایجوکیشن (ECCE) کی اہمیت پر زور دیا اور ہیڈ ماسٹرز کی اسکول سطح پر مالی اور انتظامی اختیارات میں وسعت کی منظوری دی اورٹاؤن افسران، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) کے لیے اضافی یا ڈپلیکیٹ پوسٹوں کو ختم کرنے کی حمایت کی اور محکمہ تعلیم کو ڈیجیٹل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈیجیٹائزیشن میں مانیٹرنگ اورایویلوایشن (M&E) کا عمل جس سے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اساتذہ اور طلباء کی حاضری یقینی بنائی جائے گی۔ مزید برآں تعلقہ سے لے کر ڈویژنل سطح تک غیر ضروری انتظامی بوجھ کو ختم کیا جائے گا۔مڈل ٹیک اور میٹرک ٹیک جیسے اقدامات کے ذریعے تکنیکی تعلیم اور ہنر کے فروغ پر زور دیا جائے گا، جس میں رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں میں اسٹریم لیبز(STREAM Labs) کو بھی شامل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ ایجوکیشن فنڈ (SEF) ماڈل اور ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز (EMOs) کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کا مقصد پرائمری اور پوسٹ پرائمری اسکولوں کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے، موجودہ اسکولوں کی تعداد کو بڑھا کر ضروری سہولیات کے ساتھ کلاس رومز کا اضافہ کرنا ہے۔اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، محتسب سندھ سہیل راجپوت، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی) نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اندراج کے اعدادوشمار: وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ صوبے میں 40,990 اسکول ہیں جن میں 36,300 پرائمری اسکول، 2,600 ایلیمنٹری اسکول، 1,600 سیکنڈری اسکول اور 490 ہائیر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔ تمام اسکولوں میں موجودہ اندراج 5.2 ملین ہے، جس میں تقریباً 3.09 ملین لڑکے (59 فیصد) اور 2.12 ملین لڑکیاں (41 فیصد) ہیں۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 7.8 ملین ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئندہ مالی سال کے دوران 10 لاکھ بچوں کوا سکول لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ا سکولوں میں لڑکیوں کے داخلے کا تناسب حوصلہ افزا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ پرائمری میں داخلے کی شرح 67 فیصد ہے جبکہ ثانوی تعلیم میں 22 فیصد ہے۔ انہوں نے پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے پرائمری سے پوسٹ پرائمری تعلیم میں منتقلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔منتقلی کے اس عمل کو آسان بنانے کے لیے مراد علی شاہ نے پرائمری اسکولوں میں ایلیمنٹری اسکولوں کی دوسری شفٹ شروع کرنے کی منظوری دی تاکہ پرائمری اور پوسٹ پرائمری اسکولوں کے درمیان فرق کو ختم کیاجاسکے۔
پوسٹوں کا خاتمہ: محکمہ تعلیم کے ساتھ مشاورت میں وزیر اعلیٰ سندھ نے ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) کے متعدد عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جن میں ڈی ای او ایس ای ایم آئی ایس، ڈی ای او اکیڈمکس، ڈی ای او اسپورٹس اور ڈی ای او کوالٹی ایشورنس شامل ہیں۔ تعلقہ ایجوکیشن آفیسرز (TEOs) کی تعداد میں بھی کمی کی جائے گی۔ چار کے بجائے فی تعلقہ ایک ٹی ای او ہوگا۔ مزید برآں 2 ڈی ای اوز (ایک سیکنڈری اور ایک پرائمری ) کے بجائے فی ضلع ایک ڈی ای او ہوگا تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے۔ اسی طرح ڈویژنل سطح پر دو کی بجائے ایک ڈائریکٹرا سکول ایجوکیشن ہو گا۔
ماڈل اسکول: وزیراعلیٰ سندھ نے ہائی اسکولوں کو ماڈل اسکولوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہر تعلقہ میں چار ماڈل اسکول قائم کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔26-2025 تعلیمی سال کے دوران تقریباً 150 اسکولوں کو ماڈل اداروں کے طور پر تیار کیا جائے گا ۔29-2028 کے تعلیمی سال کے اختتام تک تقریباً 600 اسکولوں کی ماڈل اسکولوں میں تبدیلی متوقع ہے۔
گورننس اور مینجمنٹ: اجلاس میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (SMCs) کو مضبوط بنانے، ٹریننگ اور کمیونٹی شمولیت میں اضافہ اور کلسٹرنگ پالیسی کے ذریعے اسکول کی سطح پر اختیارات کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کا مقصد اساتذہ کے تربیتی اداروں جیسے STEDA، PITE، DCAR اور دیگر کی ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
اسکول کلسٹرنگ پالیسی کو صوبے بھر میں نافذ کیا جائے گا۔ اسکولوں کےمجموعی طور پر 1,656 کلسٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) اور کلسٹر حب اسکولوں کے سربراہان تربیت حاصل کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ کلسٹرحب ا سکولوں کو ان کے متعلقہ کام کی تفصیل کے ساتھ مطلع کریں۔26-2025 تعلیمی سال کا ہدف کاسٹ سینٹرز کے ساتھ 1,150 کلسٹرز کا ہے۔
سہولیات کی عدم موجودگی: وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بہت سے اسکولوں میں ضروری سہولیات جیسے پانی، صفائی، واش روم، کمپاؤنڈ وال اور سولر پاور کی کمی ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ ہیڈ ماسٹرز کو اسکول کے مخصوص بجٹ کے ذریعے ان سہولیات تک رسائی کے لیے بااختیار بنائیں۔ انہوں نے سولر پاور اور پینے کے پانی کی سہولیات سے آراستہ 1600 پرائمری اسکولوں کو سیکنڈری لیول تک اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی۔
مراد علی شاہ نے وزیر تعلیم سردار شاہ کو ایک تفصیلی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی جس کی مدد سے آئندہ مالی سال میں اسکول کے لیے مخصوص بجٹ مختص کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے صلاحیت میں اضافے اور تربیت سمیت مختلف اقدامات کی منظوری دی۔ جس میں تمام کلسٹر حب اسکولوں کے لیے کنٹینیوئس پروفیشنل ڈیولپمنٹ (CPD) اور تدریسی تربیت بھی شامل ہے۔ ہیڈ ماسٹر سبجیکٹ ٹیچرز (HSTs) اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کے لیے تربیت، بشمول ICT مہارت کی تربیت اور نصاب کا جائزہ اور اپ ڈیٹ بھی شامل ہے۔
انہانسمنٹ آف فاؤنڈیشنل لرننگ (FL) کے تحت مراد علی شاہ نے ارلی چائلڈ ہوڈ کیئراینڈ ایجوکیشن (ECCE) میں بہتری اور پوسٹ پرائمری اسکولوں میں اسٹریم (سائنس، ٹیکنالوجی، مذہب، انجینئرنگ، آرٹس، ریاضی) لیبز اور اسکلز لیبز کے قیام کی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہائی ا سکولوں کو ماڈل ا سکولوں میں تبدیل کرنے اور ایلیمنٹری اور ہائی ا سکولوں میں اسمارٹ کلاس رومز کے قیام کی بھی منظوری دی اور محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ سندھ میں ٹیچنگ لائسنس کا نظام نافذ کیا جائے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے سیلاب میں 19,808 اسکولوں کو نقصان پہنچا تھا، ان میں سے 4,089 اسکولوں کو ADP/PSDP پروگراموں کے تحت دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ سردار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ان اسکولوں کو نقصان پہنچنے سے 23 لاکھ بچوں کا داخلہ متاثر ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر نو کے عمل کو تیز کریں۔






