پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی)، یونیسیف، اور یونیورسٹی آف لاہور کے اشتراک سے ہڈیارہ ڈرین کے ری وائٹلائزیشن منصوبے کا افتتاح لاہور میں کیا گیا۔ تقریب میں سیکریٹری بلدیات میاں شکیل احمد ، ایم ڈی پی ایم ڈی ایف سی سید زاہد عزیز، چئیرمین یونیورسٹی آف لاہور، یونیسیف، ای پی اے پنجاب، اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس منصوبے کے تحت ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے ہڈیارہ ڈرین کے 500 میٹر حصے میں فلوٹنگ ویٹ لینڈز نصب کی جائیں گی، جو پانی کی قدرتی صفائی کے لیے مخصوص پودوں کا استعمال کریں گی۔

سیکریٹری بلدیات شکیل احمد میاں نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں مزید 500 میٹر شامل کیا جائے گا، اور مستقبل میں اسے 10 کلومیٹر تک وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ”یہ منصوبہ پانی کی قدرتی صفائی کا جدید اور ماحول دوست حل ہے، جو بدبو کے خاتمے اور ماحولیاتی نظام کی بہتری کو یقینی بنائے گا۔”نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (این آئی بی جی ای) کے ڈاکٹر افضل نے فلوٹنگ ویٹ لینڈز کی تنصیب اور کام کے طریقہ کار پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پودے نہ صرف پانی کو صاف کریں گے بلکہ زیر زمین واٹر ٹیبل کی کوالٹی کو بھی بہتر بنائیں گے۔ایم ڈی پی ایم ڈی ایف سی سید زاہد عزیز نے کہا، ”پی ایم ڈی ایف سی نے ماضی میں بھی پانی کی قدرتی صفائی کے منصوبے کامیابی سے مکمل کیے ہیں، اور یہ منصوبہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ جدید ڈیجیٹل واٹر ٹیسٹنگ سسٹم سے پانی کی کوالٹی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی، جو اس منصوبے کی شفافیت اور کامیابی کو یقینی بنائے گا۔”یونیسیف اور ای پی اے پنجاب کے نمائندوں نے منصوبے کی ماحولیاتی اہمیت کو سراہا اور اسے پنجاب کے دیگر ڈرینز کے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ منصوبے سے نہ صرف پانی کی آلودگی کم ہوگی بلکہ ماحولیاتی نظام اور زیر زمین پانی کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔






