*مقامی حکومتوں کے لازمی فرائض* تحریر: زاہد اسلام

پاکستان میں مقامی حکومتوں کو خود مختار اور با وسائل بنانے کی باتیں آج کل زیادہ زیادہ شدت سے کی جا رہی ہیں۔ملک دو صوبائی اسمبلیاں باقاعدہ متفقہ قرار دادوں کے ذریعہ مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار،انتخابی کونسلوں کی مضبوطی،تسلسل اور استحکام کے ذریعے وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ آف پاکستان سے تقاضہ کر چکی ہیں کہ آئین میں چند بنیادی نوعیت کی ترامیم کے ذریعہ یہ مقاصد حاصل کئے جائیں۔ اورپھر سبھی سیاسی حلقے،عوامی تنظیمیں اور رائے عامہ پر اثر رکھنے والے سرکلز بھی بار ہاایسی ہی درخواستیں کر رہے ہیں۔یہ سلسلہ2010ء سے زیادہ شدت سے جاری ہے۔جبکہ اس کے بعد دو دفعہ انتخابات ہو چکے ہیں۔2013ء میں کی گئی قانون سازی جو2001ء کے قانون کو عملی طور پر بدلنے کی کوشش تھی۔ما سوائے خیبر پختونخواہ دیگر تینوں صوبوں میں 2001ء والے ماڈل میں ترامیم لائی گئیں۔اور اس کے بعد بھی قانون میں کم از کم دس بارہ ترامیم لائی گئیں۔پنجاب میں تو سات قوانین ہی لائے گئے مگر اسمبلیوں کی قرار دادیں اور دیگر حلقوں کی منشا پوری نہیں ہوئی۔بلکہ جو مطالبہ کیا جا رہا ہے اس کبھی سنجیدگی سے ایڈریس بھی نہیں گیا۔جبکہ ترامیم ہوتی آتی ہیں۔لیکن بنیادی سوالات وہی ہیں۔ جو2013ء میں اٹھائے گئے تھے۔یعنی آئینی فریم ورک کی مکمل پاسداری،دوسرے لفظوں میں منتخب مقامی حکومتیں اور مالیاتی،انتظامی اورسیاسی لحاظ سے با اخسیار بنانا۔صوبائی اسمبلیوں کی متفقہ قرار داد کا 2025 ء اور2026 ء میں سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے اگرچہ منتخب مقامی حکومتوں کا آپشن موجود بھی ہے اور پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں عمل درآمد بھی ہوا ہے۔مگر اس کے باوجود مقامی حکومتیں با اختیار نہیں ہیں۔یعنی صورتحال وہی ہے،جو2013ء میں کی تھی۔ابھی حال ہی میں اسلام آباد ایک کانفرنس جسے ڈیویلیوشن سمٹ (Develution Sumitt) کا نام دیا گیا اور دعوی کیا گیا کہ یہ اعلی سطحی کل پارٹی بلکہ پورے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورتی محفل ہے۔مشاورتی بھی انہی معنوں میں رہی کہ اس میں با اختیار اور طاقتور افراد ہی مقامی حکومتوں کی بے اختیاری اور عدم استحکام کا رونا رو رہے تھے یعنی ذمہ دار بھی خود اور عمل کرنے کے لئے با اختیار اور اپنے ہی عمل پر تنقید بھی کرتے ہیں۔اب خبر آئی ہے کہ اسلام آباد میں انتخابی شیڈول پھر واپس لے لیا گیا ہے انتخابات کا اعلان کرنا اور پھر واپس لے لینا یہ اس قدرے تسلسل اور عزی صمیم کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ حکمران کی بہترین مثال ہے۔بہر حال سرکاری اعلان تو سرکاری ہوتا ہے۔ہم جیسے لوک بھی بہت ہیں،جو ملک بھر میں مقامی حکومتوں کے انتظامی سیاسی اور مالیاتی اختیارات کے حوالہ سے چند بنیادی گزارشات تسلسل سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ان میں سے چند بنیادی گزارشات ایک بار پھر آپ کے سامنے رکھی جا رہی ہیں۔اول:بنیادی بات تو یہی ہے کہ آئین میں کچھ ایشوز کی مزید وضاحتی تشریح ضروری ہے کچھ اضافے ضروری ہیں۔آئین کے آرٹیکل سات میں لوکل گورنمنٹ کو باقاعدہ حکومتی درجہ قرار دیکر مقامی حکومتوں کے حوالہ سے ایک نیا باب شامل کیا جائے،جو فنکشنز اور ذرائع مالیات،ریونیو،ٹیکس وغیرہ کی بھی وضاحت کرے۔مملکت کے بنیادی اصولوں میں درج مقامی حکومتوں کا ذکر کرتے ہوئے نمائندگی کے حوالہ سے زیادہ جامع اور مکمل (Inclusive) نمائندگی کو یقینی بنانے کا ذکر ہو۔صوبوں کے اختیارات اور فریم ورک کے پہلووں پر ذکر کرتے قدرے تشریح کے ساتھ 140-A کو نئے انداز میں ترتیب دیا جائے۔جس سے منتخب مقامی حکومتوں کا قیام اور تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔الیکشن ایکٹ میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے کہ نمائندگی کے حوالہ سے سیاسی جماعتوں پرپابندی عائد کی جائے کہ وہ آبادی کے کمزور اور عمومی طور پر نظر انداز حصوں،طبقوں کی نمائندگی یقینی بن سکے۔دوم:انتظامی حوالوں سے یہ سوال بنیادی ہے کہ مقامی حکومتوں کا دائرہ کار کیا ہے۔مقامی حکومتوں کی تشریح قانونی سٹرکچر میں کی جانا ضروری ہے۔یہ طے شدہ بات ہے کہ مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبہ سازی۔عمل درآمد بشمول ٹاؤن پلاننگ،ہاؤسنگ لازمی طور پر مقامی حکومتوں کے ہی دائرہ کار میں آنا چاہیے۔اس کا عملی اظہار یہی ہو گا کہ تمام تر ڈویلپمنٹ اتھارٹیاں مقامی حکومتوں کا حصہ ہوں اور متعلقہ مقامی حکومتوں کا ذیلی حصہ قرار دی جائیں۔پنجاب میں دس ضلعی اتھارٹیاں بڑھا کر 12کی جائیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میں سات محکمے تحصیل کی سطح پر اضافہ کے ساتھ مکمل طور پر منتقل کئے جائیں۔ضلعی حکومت میں تحصیل حکومت کے سربراہان کو بھی شامل کیا جائے۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی اسی طرح کے اقدامات کئے جائیں۔عوامی شراکت کو مزید ٹھوس بنایا جائے،یعنی مقامی حکومتوں کے قوانین میں زیادہ سے زیادہ فنکشنز کی ادائیگی میں مقامی رہائشی آبادی عملی شریک کار ہو۔ضروریات کی نشاندہی۔بجٹ سازی،منصوبہ سازی اور عمل درآمد۔ ہر سطح پر عملی شکل میں رہائشی آبادی شریک کار ہو۔ٹیکنیکل امداد اور سہولیات تو پروفیشنل افراد کے ذریعہ ہی مہیا ہونگی۔مگر پالیسی سازی اور ٹھوس فیصلوں میں عوامی مشاورت کی شکلیں قانون میں سٹرکچر ہونا چاہیں۔ملک بھر میں مقامی حکومتوں کے فنکشنز اور دائرہ اختیار میں بنیادی اپروچ، عوام کی سہولیات ہونا چاہیے۔اور وہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب صوبے اپنے کچھ اختیارات کو مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔انتخابی عمل میں باقاعدگی لانے کے لئے الیکشن کمیشن پر کوئی پابندی صوبوں سے مشاورت کے حوالہ سے عائد نہ کی جائے،بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کو صوبائی حکومت کی منشا اور رضا مندی سے مشروط کرنا،اصولی طور پر مناسب نہیں۔سوم:مالیات کے بغیر بعنی ریونیو میں اضافہ کے بغیر با اختیار مقامی حکومتوں کی موجودگی اور فعالیت ممکن نہیں ہو سکتی،جب مقامی حکومتوں کو آئین میں تھوڑی وضاحت کے ساتھ تیسرے درجہ کی حکومت کا رتبہ مل جائے گا۔اور ایک نیا باب شامل کر دیا جائے گا تو لازمی طور پر مالیاتی اختیار میں اضافہ ہو گا۔انڈین آئین کی طرح مقامی حکومتوں کے دائرہ ٹیکس میں بھی وسعت آئے گی اور اسے ٹھوس شکل دینے کے لئے صوبائی فنانس کمیشن کے دائرہ اختیار میں مالیات میں وسعت بھی آئے گی۔ان سب گزارشات کی سمری یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کے دائرہ اختایر میں وسعت کے ساتھ ساتھ گہرائی کے ساتھ وضاحت کی ضرورت ہے۔اس لئے آئینی وضاحت بھی لازمی ہے کہ صوبائی قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے۔صوبائی قوانین میں ترامیم تو ضرور ہوں،ضرورت اور وقت کی مناسبت سے کی جائیں،مگر قانون کو یکسر تبدیل کرنا اور پھر مسلسل تبدیل کرتے جانا منسب نہیں۔ویسے تو ایسغ ملک میں جہاں ملکی آئین میں ضرورت کے تحت ضروری تبدیلیاں یکے بعد دیگرے غیر متفقہ طور پر کی جا رہی ہوں۔وہاں مقامی حکومتوں کے قوانین کا استحکام اور تسلسل کا تعین مشکل امر ہے۔مگر جو لوگ آواز بلند کرنا چاہتے ہوں وہ مرض کی نشاندہی کرتے ہوئے حل بھی تجویز کریں۔ہر جگہ ہر لمحہ جنرل اور عمومی باتوں کو دھرانا محض رسمی کاروائی سے آگے کچھ نہیں ہوتا۔ہماری عدالتیں بھی گاہے بگاہے ایس نشاندہی کرتی چلی آتی ہیں۔مگر ان کے نتیجے میں عملی اقدمات بھی ضروری ہیں۔ہمارے ملک میں مقامی حکومتوں نے ہر حال وفاقی مملکت کے فریم ورک میں ہی فعال اور متحرک رہنا ہے۔اور وفاقی مملکت بھی ایسی جہاں مقامی حکومتوں کو فعالیت صوبائی حکومتی فریم ورک میں محدود ہے مگر صوبہ اور مقامی حکومت تعلقات میں وضاحت کی ضرورت ہے اور یہ مسئلہ مقامی حکومت کے فنکشنز میں وسعت اور از سر نو ترتیب سے مشروط ہے۔بعض ایسے فنکشن(فرائض،اختیارات) ہیں۔جو ہر لحاظ سغ مقامی حکمرانی کا حصہ ہیں اور دنیا بھر میں ایسا ہے۔یعنی میونسپل (بلدیاتی فرائض) رہائشی بستیوں کی مقامی سطح کی تعمیر و ترقی،ٹاؤن پلاننگ،ہاؤسنگ،چھوٹے شہروں دوسرے لفظوں میں انٹر سٹی انفراسٹرکچر،بنیادی خدمات /سہولیات کی فراہمی اور دستیابی،پانی کی فراہمی،نکاسی آب،سینی ٹیشن،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ،معیاری اور اچھی صحت مند خوراک،صارفین کا تحفظ،مارکیٹ اکانومی کی مینجمنٹ،بنیادی تعلیم،بنیادی صحت،لوکل ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مینجمنٹ،عوامی سطح پر تفریح،کھیل،حفظان صحت اور بہبود آبادی،ویلفیئر وغیرہ۔یہ سب کچھ مقامی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔تحفظ ماحولیات قدرتی آفات اور مشکلات سے نبرد آزما ئی عملی طور پر مقامی حکومتوں کے دائرہ کار کے موضوعات ہیں ے انہیں قانون میں سٹرکچر کر کے منتقل کرنا چاہیے۔ہمارے سارے تھینک ٹینک اس حوالہ سے کام کریں تو پھر ہی عملی طور پر مقامی حکومت با اختیار ی کی طرف جا سکے گی۔

جواب دیں

Back to top button