پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام بری طرح ناکام،ڈریمز سے افسران کے خواب پورے ہونے لگے

پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام بری طرح ناکام ہو گیا ہے جس کے تحت شروع کیا گیا کوئی بھی منصوبہ بروقت مکمل نہیں ہو سکا۔پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت 16 شہروں جن میں اوکاڑہ، جڑانوالہ، گوجرہ، جھنگ، کمالیہ، مریدکے، حافظ آباد، کاموکی، ڈسکہ، وزیر آباد، جہلم، وہاڑی، بورے والا، خانیوال، بہاولنگر اور کوٹ ادو شامل ہیں میں ناقص کارکردگی اور بارہا ڈیڈ لائن پر کام مکمل نہ کرنے اور منصوبے میں توسیع پر بھی ناکامی کے ذمہ دار افسران کے کنٹریکٹ میں توسیع کر دی گئی بلکہ پہلے سے پرکشش عہدے کا مراعات دے دی گئیں۔سابق وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزادار کے دور میں لوکل گورنمنٹ ٹریننگ اکیڈمی جوہر ٹاؤن لاہور کی تعمیر کا ایک ارب 86 کروڑ روپے لاگت منصوبہ کی پسپ کو دیا گیا جس کے لئے 18 ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی مقررہ مدت میں 20 فیصد بھی کام مکمل نہ ہوا جس پر سابق سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر ارشاد احمد نے نوٹس لیا اور کام کی رفتار تیز کرنے کی نئی ڈیڈلائن دی جس پر بھی کام مکمل نہ کیا گیا۔پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام جس میں منظور نظر افسران اور دفتر پر ہی کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں کو ناقص کارکردگی کے باوجود ڈیمز پراجیکٹ بھی سونپ دیا گیا جس سے اور کچھ ہو نہ ہو افسران اور اعلٰی حکام کے خواب پورے ہونگے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون شروع منصوبوں میں تاخیر سے ملک اور حکومت پنجاب کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ساہیوال اور سیالکوٹ میں منصوبوں کی تکمیل میں سابق سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر ارشاد احمدنے چینی کمپنی اور پسپ حکام کی سرزنش بھی کی اور کمپنیوں کو معاہدے کے مطابق جرمانے کرنے کی ہدایت کی لیکن افسران کے مضبوط مافیا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ان کے بعد دیگر لوکل گورنمنٹ کے سیکرٹریز نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ان منصوبوں میں شفافیت اور ٹائم لائن پر تکمیل پر توجہ نہ دی۔پسپ اور ڈریمز پراجیکٹ میں بھرتیوں،افسران کی فوج ظفر موج ،سمیت اخراجات، ترقیاتی کاموں،ادائیگیوں اور ٹھیکہ جات کا ٹھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے تو اہم انکشافات ہونگے۔پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام میں سے متحرک مرزا سلمان عثمان ہیں جو پہلے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں سیکشن آفیسر تھے اب ان کے پاس ڈپٹی پروگرام ڈائریکٹر، فنانس اور ایڈمن کے اہم عہدے بھی ہیں۔چیف انجینئر شیخ محمد طاہر جن کا کنٹریکٹ ختم ہو گیا ناقص کارکردگی کے باوجود ان کے ناصرف کنٹریکٹ میں توسیع کی گئی بلکہ مزید منصوبوں کے حوالے سے بھی بااختیار بنا دیا گیا۔منتخب کی گئی16 میونسپل کمیٹیوں کی زیادہ حالت تو نہ بدلی تاہم پسپ افسران کے حالات بہتر ہو گئے۔حکومت پنجاب کی طرف سے چیف سیکرٹری کی وساطت سے الیکشن کے دوران جن غیر ملکی فنڈ سے چلنے والے جن منصوبوں کے لیے استثنیٰ طلب کیا گیا ان میں ورلڈ بینک سے 55 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی اور صفائی کا منصوبہ، 23 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا پنجاب سٹیز پروگرام، ایشیائی ترقیاتی بینک کے فنڈ سے 25 کروڑ ڈالر کا پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروجیکٹ، ایک کروڑ 63 لاکھ ڈالر کا پنجاب اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اور لاہور فورٹ پروجیکٹ میں 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا ہیریٹیج اربن ری جنریشن کا منصوبہ شامل تھے۔ جو اس کے باوجود بروقت مکمل نہ ہوئے۔پنجاب سٹیز پروگرام فیز ون کے بعد فیز ٹو بھی تاخیر کا شکار ہوا۔اب ڈریمز پروگرام سے شہری استفادہ کریں نہ کریں افسران اور بعض اعلٰی حکام ضرور مستفید ہو رہے ہیں۔یہ بات اہم ہے کہ اگر ایشیائی ترقیاتی بینک کے یہ منصوبے جن کے لئے بلدیاتی اداروں، محکمہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ، پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ، واساز، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے پاس مکمل وسائل اور افرادی قوت دستیاب ہے سے کروائے جاتے تو اربوں روپے کی بچت اور بروقت منصوبوں کی تکمیل ہو سکتی تھی۔پسپ کے پاس ایسی ٹیم ہی موجود نہیں جو متعلقہ کمپنیوں سے معیاری کام کروانے کے ساتھ اور ٹائم لائن منصوبے مکمل کروا سکے۔یہ صورتحال سات سال سے زائد عرصہ سے چل رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button