پنجاب، 359دیہات کی سکیموں کیلئے ٹینڈر جاری، 224 دیہات کیلئے ورک ایوارڈ اور ابتدائی کام شروع کر دیا گیا،وزیر بلدیات ذیشان رفیق

وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران بتایا گیا ہے کہ وزیراعلٰی مریم نواز کے مثالی گاؤں پروگرام کے تحت پنجاب رُورل میونسپل سروسز کمپنی (پی آر ایم ایس سی) نے 359 دیہات کی سکیموں کیلئے ٹینڈر جاری کر دیئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 224 دیہات کیلئے ورک ایوارڈ اور ابتدائی کام شروع کیا جا چکا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ایڈیشنل سیکرٹری احمر سہیل کیفی نے بھی شرکت کی۔ پی آر ایم ایس سی کے افسروں نے مثالی گاؤں پروگرام پر اجلاس کو بریفنگ دی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ "مثالی گاؤں” کے تحت دیہات میں جدید سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ مریم نواز پہلی وزیراعلٰی ہیں جو مختلف منصوبوں کے ذریعے دیہی آبادی کو اُنکا حق دے رہی ہیں۔ مثالی گاؤں پروگرام کی تکمیل کے ساتھ دیہات کا نیا روپ سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پنجاب کے 470 دیہات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ باقیماندہ 112 دیہات کے لئے کام آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ مثالی گاؤں پروگرام میں سرگودھا ڈویژن کے 39، ساہیوال 44 اور گوجرانولہ کے 53 گاؤں دیہات شامل ہیں۔ اسی طرح گجرات ڈویژن کے 49، ملتان 62، ڈی جی خان کے 39، بہاولپور کے 47، فیصل آباد کے 34، لاہور ڈویژن کے ضلع شیخوپورہ کے 47 اور راولپنڈی کے 56 دیہات کو مثالی بنایا جا رہا ہے۔ ذیشان رفیق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت اِن دیہات تک جدید سہولیات پہنچائے گی۔ دیہات میں واٹر سپلائی، سیوریج اور گلیاں پختہ کرنے کی سکیمیں مکمل کریں گے۔ اجلاس کے دوران دیہی گلیوں کے لئے رنگدار ٹائلز کے مختلف ڈیزائنز کی بھی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام مکمل ہونے پر کسی مثالی گاؤں میں کوئی گلی کچی نہیں رہے گی۔ تباہ شدہ روایتی چھپڑوں کو صاف کر کے آبی حیات کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ہر مثالی گاؤں میں چلڈرن پارک بنایا جائے گا اور سٹریٹ لائٹس بھی لگائی جائیں گی۔ پہلی بار دیہی علاقوں کے لئے جامع ماسٹر پلاننگ کی گئی ہے۔ صوبائی وزیر نے پی آر ایم ایس سی کو معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹائم لائن کا لازمی خیال رکھا جائے۔ اجلاس کو 16 تحصیلوں میں ورلڈ بینک کے تعاون سے دیہی ترقیاتی پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر بلدیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 16 پسماندہ تحصیلوں کے 1937 دیہات کو بھی مثالی بنایا جا رہا ہے۔ ان میں تحصیل کلرکہار، نورپور تھل، عیسیٰ خیل، دریا خان، کوٹ مومن، بھوآنہ، احمد پور سیال، پاکپتن اور بہاولنگر، خیرپورٹامیوالی، تونسہ، کہروڑپکا، شجاع آباد، علی پور، لیاقت پور اور تحصیل روجھان کے دیہات شامل ہیں۔

جواب دیں

Back to top button