ستھرا پنجاب پروگرام کے ٹھیکیداروں میں بغیر سسٹم کے جرمانوں پر تشویش،صفائی کا نظام آوٹ سورس کرنے کا تجربہ ناکام ہونے کا خدشہ

ستھرا پنجاب پروگرام کے ٹھیکیداروں میں بغیر سسٹم کے جرمانوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور بلدیاتی اداروں کی جانب ابھی تک جرمانوں کا کوئی واضع نظام تیار نہیں کیا گیا۔صوبائی حکومت اور محکمہ بلدیات کو کارکردگی دیکھانے کے لئے کنٹریکٹرز کو تین تین ماہ کی پینلٹی ڈال دی گئی ہے جس کی وجہ سے بیشتر ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں۔کم وسائل اور افرادی قوت کے باعث ٹھیکیداروں کو ریکوری میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔صورتحال دن بدن خراب ہونے کے باعث پنجاب میں صفائی کا نظام آؤٹ سورس کرنے کا تجربہ ناکام ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔پنجاب کے کئی شہروں، قصبوں اور دیہات میں ابھی تک سینی ٹیشن فیس کی وصولی ہی شروع نہیں ہو سکی جبکہ یکم جولائی سےاہداف دیئے جا چکے ہیں۔کنٹریکٹرز کے مطابق سسٹم نہ ہونے کے باعث ایک ماہ کی بجائے تین ماہ کے جرمانوں کی ادائیگیوں کی صورت میں وہ ملازمین کو تنخواہیں اور ٹیکسیز نہیں دے سکتے صورتحال یہی رہی تو وہ کام جاری رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ابھی تک جرمانوں کا باقاعدہ نظام ہی واضع نہیں کیا گیا۔مشینری اور ٹرانسپورٹ ناکافی ہونے اور پہلی مرتبہ لوگوں سے سینی ٹیشن فیس کی وصولی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انفورسمنٹ سسٹم کا بھی فقدان ہے اوپر سے مرضی کے جرمانے ادا نہ کرنے پر ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں اور ٹھیکیداروں کو معاہدہ ختم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button