بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ایک تاریخی اور بے مثال کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے یہ سنگ میل حاصل کیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں پہلی تاریخ سے قبل ادا کی گئی ہیں،ایسا عمل جو گزشتہ پچیس برسوں سے نظر انداز ہوتا رہا، یہ اہم کامیابی ملازمین کے حقوق اور فلاح کو یقینی بنانے کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہے، جنہیں گزشتہ تین دہائیوں سے تنخواہوں کی تاخیر کے باعث مشکلات کا سامنا تھا، ایک نسل کے بعد پہلی بار ہزاروں کے ایم سی ملازمین براہِ راست اپنی زندگی اور روزگار پر اثرانداز ہونے والی اس دیرینہ اصلاح کو عملی جامہ پہنتے دیکھ رہے ہیں، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی نہ صرف ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی مالی استحکام کو یقینی بناتی ہے بلکہ ان کے اعتماد اور حوصلے کو بھی مضبوط کرتی ہے جس کے نتیجے میں بلدیہ کے مجموعی نظامِ کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے،یہ سنگِ میل کے ایم سی کی مالیاتی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور ملازمین کے ریکارڈ کی مکمل درستگی و کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے ممکن بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پرانے اور فرسودہ دستی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے بدل دیا گیا، یہ تبدیلی شفافیت، احتساب اور مالی عملداری کو یقینی بناتی ہے، اس اصلاحی وژن کی بنیاد میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے رکھی، جن کی ملازمین کی فلاح و بہبود اور ادارہ جاتی جدیدیت کے لیے وابستگی اس کامیابی کا مرکز رہی۔ اس اقدام کو میونسپل کمشنر ایس ایم افضل زیدی (پی اے ایس) اور کے ایم سی کے فنانشل ایڈوائزر گلزار ابڑو (پی اے اے ایس) کی قیادت اور محنت سے کامیابی کے ساتھ عملی شکل دی گئی جنہوں نے کے ایم سی کے مالیاتی نظام کو ازسرِنو ترتیب دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، کے ایم سی کے ترجمان دانیال علی شان سیال کے مطابق گزشتہ 25 برس سے کے ایم سی کے ملازمین اپنے اس بنیادی حق تنخواہوں کی بروقت ادائیگی سے محروم تھے، یہ صرف ایک مالیاتی اصلاح نہیں بلکہ ہر بلدیاتی کارکن کی عزت اور وقار کا معاملہ ہے جو کراچی کی خدمت کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ ہمارے نظام کی ڈیجیٹائزیشن سے ہم نے نااہلیوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملازمین کو اب ہر بار بروقت تنخواہیں ملیں گی۔ یہ کے ایم سی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے،میئر کراچی کی ہدایات کے تحت کے ایم سی نے اب مزید اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اپنے مالیاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے،مشیر مالیات گلزار ابڑو نے پنشن، وینڈرز کی ادائیگیوں اور منصوبہ جاتی ادائیگیوں کو بھی ایس اے پی سسٹم پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں مکمل ڈیجیٹل انضمام اور تاخیر یا بدانتظامی کے خطرات ختم ہو جائیں گے، یہ اقدام کے ایم سی میں طرزِ حکمرانی کے ایک نمایاں اور مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، دہائیوں تک تاخیر سے تنخواہیں ملنا ایک ناگزیر روایت سمجھی جاتی تھی جس نے ملازمین کے حوصلے اور کارکردگی پر گہرا منفی اثر ڈالا۔ ماضی سے ہٹ کر ٹیکنالوجی پر مبنی حل اپناتے ہوئے موجودہ قیادت نے دیگر بلدیاتی اداروں کے لیے ایک معیار قائم کیا ہے،کے ایم سی کی جدیدیت کی یہ جانباز کوشش اس کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت ادارے کو عوام دوست اور ملازمین کے لیے معاون بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کا عملہ مزید جوش و خروش اور لگن کے ساتھ کراچی کے شہریوں کی خدمت کر سکے۔
Read Next
18 گھنٹے ago
بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدام، اسپتالوں میں خصوصی وارڈز قائم کرنے کی ہدایت
5 دن ago
*لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کا 30 سال بعد تزئین و آرائش کے بعدافتتاح کر دیا گیا.*
7 دن ago
بلدیہ عظمیٰ کراچی رواں سال تقریباً 68 ارب روپے شہر کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے،ترجمان میئر کراچی
7 دن ago
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی قدیم مارکیٹس میں جاری بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت
1 ہفتہ ago
*کراچی میں پلوں، سڑکوں پارکس،انڈرپاسز کا جال بچھارہے ہیں۔ کرم اللہ وقاصی*
Related Articles
ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کا چڑیا گھر کا دورہ،انتظامات کا تفصیلی جائزہ،بہتری کیلئے ہدایات
1 ہفتہ ago
کے ایم سی کی جانب سے آئی آئی چندریگر روڈ پر اسمارٹ ٹریفک سگنلز کے لیے مالی معاونت کا اعلان،کراچی کے ٹریفک نظام کو مضبوط بنانے کا عزم
2 ہفتے ago



