بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں کے باعث لاہور کا فضائی معیار شدید متاثر، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گٸی ہے۔محکمہ ماحولیات پنجاب کے سموگ اور موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام کے مطابق بھارت کی جانب سے آنے والی آلودہ ہوائیں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث لاہور کا فضائی معیار بگڑ گیا ہے۔ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک حد تک بڑھ کر 250 تک پہنچ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت دہلی میں ’اے کیو آئی‘ 228، افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 173 اور بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں 163 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہوا کی رفتار میں کمی کی وجہ سے فضا میں آلودہ ذرات کے جمع ہونے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔محکمہ ماحولیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھڑکیاں بند رکھیں، غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں اور خاص طور پر حساس گروپس جیسے بچے، بزرگ اور سانس یا دل کے مریض احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
سموگ مانیٹرنگ سینٹر کے مطابقصبح 6 بجے سے 11 بجے تک ’اے کیو آئی‘ 170 سے 185 کے درمیان رہا۔دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے تک فضائی معیار میں وقتی بہتری آئے گی، ’اے کیو آئی‘ 145 سے 160 کے درمیان رہا۔شام 6 بجے سے رات 11 بجے تک دوبارہ آلودگی بڑھنے کا امکان ہے، ’اے کیو آئی‘ 160 سے 185 تک پہنچ سکتا ہے۔درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اور ہوا کی رفتار 1 سے 3 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کی پیشگوئی ہے۔محکمہ ماحولیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ماحولیاتی خلاف ورزی یا آلودگی پھیلانے کی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 1373 پر دیں۔سینئیر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ حکومت ماحولیاتی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ شہری اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو ہم مل کر موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔






