وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ٹاؤن ہال میں ایک اجلاس کے دوران لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کا جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیراعلٰی پنجاب کے معاون خصوصی ذیشان ملک نے بھی شرکت کی۔ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمٰی/ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسٰی رضا اور مینجنگ ڈائریکٹر واسا سید غفران احمد نے صوبائی وزرأ کو بریفنگ دی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام (ایل ڈی پی) فیز ون کی تکمیل پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز حکومت نے پہلی بار لاہور کے پسماندہ ترین علاقوں کے لئے شہری سہولیات کی فراہمی کا جامع منصوبہ دیا۔

خوشی ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل) اور واسا نے منصوبوں کی معیاری تکمیل یقینی بنائی۔ لاہور کی کچی گلیوں کو خوشنما ٹائلز سے پختہ بنایا گیا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ایل ڈی پی کے دوسرے مرحلے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ یہ میگا پراجیکٹ شہریوں کیلئے ریلیف کا باعث بنا، ہر علاقے میں بلاتفریق کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج کا موثر نظام اُن علاقوں تک پہنچایا گیا جو اب تک محروم تھے۔ صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر کو مکمل شدہ سکیموں کی مانیٹرنگ کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موثر نگرانی کے لئے سکواڈ بنائے جائیں۔ گلیوں میں این او سی کے بغیر توڑ پھوڑ پر ایف آئی آرز درج کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹ لائٹس کی بحالی اور گرین بیلٹس کی تعمیر پر بھی توجہ دی جائے۔اس موقع پر وزیراعلٰی کے معاون خصوصی ذیشان ملک نے ہدایت کی کہ ایل ڈی پی کے دوسرے مرحلے میں فیز ون کے چیلنجز کو مدنظر رکھا جائے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی سے لاہور کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا۔ ذیشان ملک نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز کی ہدایات دوسرے مرحلے میں بھی مدنظر رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر سید موسٰی رضا نے بتایا کہ مجموعی طور پر لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام 98 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلی کی گائیڈ لائنز کے مطابق تمام منصوبوں کی معیاری، شفاف اور بروقت تکمیل یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام اور معیار کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔ سید موسٰی رضا نے کہا کہ تجاوزات کی مد میں آنے والے تھڑوں، شیڈز کو مسمار کرایا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز تمام سکیموں کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہیں۔





