سیکرٹری پرائس کنٹرول اینڈ کماڈٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید کی زیرصدارت اجلاس میں چینی اور دیگراشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس کے دوران انہوں نے بتایاکہ پنجاب میں 22ہزارمیٹرک ٹن سے زائد چینی کے ذخائرموجود ہیں اور چینی مارکیٹ میں وافرمقدار میں موجود ہے۔ڈاکٹرکرن رشیدنے کہاکہ چینی منافع خور مصنوعی قلت پیداکرکے مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں اور یہ تأثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صوبے میں چینی کی قلت ہے۔سیکرٹری پرائس کنٹرول نے کہاکہ ایسے عناصر کے خلاف شکنجہ مزید سخت کیاجا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چینی کی کھپت کو مدنظر رکھتے ہوئے امپورٹ شدہ چینی کی سپلائی بھی مارکیٹ میں جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ چند دنوں میں شوگرملیں گنے کی کریشنگ کا آغازکر دیں گی جس سے چینی کی قیمت مزید کم ہو جائے گی۔محکمہ پرائس کنٹرول چینی کی قیمت اور سپلائی پر کڑی نظر رکھے ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ صوبے میں چینی 179سے 200روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہی ہے۔
ڈاکٹرکرن خو رشیدنے بتایاکہ چینی منافع خوروں کے خلاف جولائی سے اب تک 56ہزار 500سو 42چینی مافیا کے خلاف 494مقدمات درج کئے گئے اور 3ہزار 600سو 73منافع خوروں کو گرفتارکرکے 5کروڑ 8لاکھ 53ہزار500روپے جرمانہ وصول کیاگیا۔انہوں نے بتایاکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو یقینی اور مقررکردہ نرخوں پر فراہمی کیلئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ منافع خوروں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔




