لاہور(راجہ محبوب صابر)پنجاب جلد بلدیاتی انتخابات کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔بلدیاتی اداروں کے اختیارات بڑھنے کی بجائے کم ہو رہے ہیں۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی کے سپرد ہو گیا ہے جسے دو غور اور مشاورت کا وقت دیا گیا ہے اس سے زیادہ بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی پر منحصر ہوگا وہ اس ایکٹ کا کتنا لٹکاتی ہے۔اگر یہ ایکٹ قائمہ کمیٹی سے پنجاب اسمبلی میں دوبارہ پیش اور منظور بھی ہو جاتا ہے تو اس کے بعد رولز بنیں گے اور گزٹ نوٹیفکیشن ہوگا

جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوایا جائے گا۔پھر چوتھی مرتبہ نئے سرے سے حلقہ بندیوں کا ڈرامہ رچایا جائے گا جس میں تین ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ان حلقہ بندیوں اور حد بندیوں کے بعد بھی الیکشن کمیشن وثوق سے نہیں کہہ سکتا ہے پنجاب حکومت فوری بلدیاتی انتخابات کروا دے گی۔اس سے قبل پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 پر کام شروع کیا گیا تھا جس میں ترامیم کی بجائے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 متعارف کروایا گیا ہے۔اس ایکٹ کی تیاری کے لئے صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے ابھی تک مسودہ قانون کو عام پبلک اور سٹیک ہولڈرز سے خفیہ رکھا ہوا ہے۔اس ایکٹ کی تیاری میں جہاں مخالف سیاسی جماعتوں، این جی اوز،سابق بلدیاتی نمائندوں، ماہرین،متعلقہ اداروں کو پوری طرح اعتماد میں نہیں لیا گیا وہاں حکمران جماعتوں کے ارکان اسمبلی بھی لاعلم ہیں۔محکمہ بلدیات پنجاب کا کردار بھی تجاویز لینے اور عوامی شنوائی کے حوالے سے مثبت نہیں ہے۔جب پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 میں ترامیم جسے پھر 2024 کا نام اب 2025 کا نام دیا گیا ہے کی تیاری کے دوران پنجاب حکومت نے دعوٰی کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو صحیح معنوں میں بااختیار بنایا جائے گا ایسا سسٹم بنائیں گے جس پر سب کو اعتماد ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا جسے کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکے گا۔لیکن اس ایکٹ کی تیاری کے دوران ہی صوبائی حکومت سابق وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف دور کی روش پر چلتے ہوئے متعدد اتھارٹیز اور کمپنیوں کو متعارف کروانے شروع کر دیا جن کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔اس سے قبل بھی بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کر کے کمپنیوں اور اتھارٹیز کو دیئے گئے اب باقی اختیارات بھی سلب کر کے بلدیاتی اداروں کو اپاہج کیا جا رہا ہے۔ماضی میں بھی بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کر کے بنائی گئی کمپنیوں اور اتھارٹیز سے جو معاہدے ہوئے اس کے مطابق یہ بلدیاتی اداروں کی ذیلی ایجنسیز ہیں۔لیکن عملی طور پر بلدیاتی اداروں سے کنٹرول سے باہر اور ان سے زیادہ بااختیار ہیں۔براہ راست محکمہ خزانہ سے فنڈز ملنے کی وجہ سے یہ محکمہ بلدیات کو بھی خاطر میں نہیں لاتیں۔تمام تر اختیارات صوبہ کے چیف ایگزیکٹو ہی کے پاس ہیں۔بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر واضع طور پر کہہ چکے ہیں کہ اب قانون سازی کی آڑ میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر برداشت نہیں۔لیکن یہ باتیں اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی ہوتی چلی آ رہی ہیں لیکن الیکشن کمیشن پنجاب کی طرح وہاں بھی بلدیاتی انتخابات کروانے میں ناکام ہے۔یہ بات اہم ہے کہ پنجاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن یونین کونسلز کے علاوہ محلہ و دیہی کونسلز دونوں کی حلقہ بندیاں کر چکا ہے اگر الیکشن کمیشن یا پنجاب حکومت سنجیدہ ہوتی تو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 جس پر پہلے بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے اور اس وقت اسی ایکٹ کے تحت بلدیاتی نظام چلایا جا رہا ہے میں ضروری ترامیم کر کے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنا سکتی ہے جس پر نئی حلقہ بندیوں کی بھی ضرورت نہیں۔موجودہ صورتحال میں عام تاثر یہی ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں مسلسل تاخیر کی وجہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت میں مثالی ہم آہنگی ہے۔تاریخ پہ تاریخ کے بعد اب 2025 میں بلدیاتی انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کے لئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔





