کمشنر کوئٹہ شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی کی نئی ترقیاتی سکیموں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی کی نئی ترقیاتی اسکیمات پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈویژنل ڈائریکٹر ڈوپلیمنٹ ظہور احمد سمیت محکمہ زراعت، کالجز، ثقافت، آبپاشی، ماحولیات، لیبر، لوکل گورنمنٹ، اقلیتی امور، توانائی، پرائمری ایجوکیشن، پی ایچ ای، ٹرانسپورٹ، کیو ڈی اے اور واسا کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے پی ایس ڈی پی میں شامل 114 نئی ترقیاتی اسکیمات پر متعلقہ محکموں نے کمشنر ڈویژن کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ٹینڈرنگ، فنڈز کے اجرا اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔کمشنر کوئٹہ شاہزیب خان کاکڑ نے ہدایت کی کہ تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر جلد از جلد عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ انہوں نے تعطل کا شکار منصوبوں کے مسائل فوری حل کرکے انہیں بھی فعال کرنے کی تاکید کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پینے کے پانی اور واٹر سپلائی سے متعلق اسکیموں کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ڈسٹرکٹ واٹر کمیٹی سے لازمی اجازت حاصل کرنا ہوگی، بصورتِ دیگر کمیٹی کی منظوری کے بغیر پی ایس ڈی پی کے تحت اسکیموں پر عملدرآمد روک دیا جائے گا۔اجلاس کے دوران صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ روڈ سیکٹر سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ کمشنر نے ڈپلیکیٹ منصوبوں کے خاتمے اور اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے گرین بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے میں 21 نئی بسوں کا اضافہ کیا جارہا ہے، جن میں 17 گرین اور 5 پنک بسیں کوئٹہ کے لیے جبکہ 4 بسیں تربت کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں الیکٹرک وہیکلز اور پیپلز ٹرین سروس منصوبوں پر بھی عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اجلاس میں شریک نہ ہونے والے متعلقہ محکموں کے افسران پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان محکموں کے سیکرٹریز کو خط لکھ کر وجہ پوچھی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے ان منصوبوں کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button