صوبائی وزراء میاں ذیشان رفیق اور منشاء اللہ بٹ کی زیرصدارت اجلاس، ستھرا پنجاب ورکرز کو راشن کارڈ کے اجراء کا جائزہ

وزیر بلدیات ذیشان رفیق اور وزیر محنت و افرادی قوت خواجہ منشااللہ بٹ کی مشترکہ صدارت میں پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (پیسی) آفس میں ایک اجلاس کے دوران ”ستھرا پنجاب“ کے ورکرز کو مریم نواز راشن کارڈ کے اجرأ کے جاری عمل کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لیبر نعیم غوث، کمشنر پیسی محمد علی اور پنجاب بینک کے افسروں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ اس وقت ستھرا پنجاب کے ایک لاکھ ورکرز ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (پیسی) کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ جو ورکرز اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں انہیں راشن کارڈ دیا جائے گا۔ ایسے ورکرز جن کی مدت ملازمت چھ ماہ نہیں ان کا کنٹری بیوشن وزیراعلی مریم نواز شریف نے ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے ستھرا پنجاب ورکرز کو خصوصی طور پر راشن کارڈ دینے کی منظوری دی ہے لہذا اب تین ماہ مدت ملازمت والے ورکرز بھی راشن کارڈ کیلئے اہل ہوں گے۔اجلاس کے دوران تکنیکی مسائل کے حل کے لئے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جس میں لوکل گورنمنٹ، پیسی، پنجاب بینک اور پی آئی ٹی بی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ اگلے مرحلے میں تین ماہ کی مدت مکمل کرنے والے ستھرا پنجاب کے ورکرز خودبخود راشن کارڈ کی سہولت کیلئے اہل ہوں گے۔اس موقع پر وزیر محنت و قدرتی وسائل منشااللہ بٹ نے کمشنر پیسی کو ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کے لئے راشن کارڈ کا اجرأ جلد ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ورکرز کا ڈیٹا تمام ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں سے لے کر ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیا جائے۔ صوبائی وزرأ نے اگلے ہفتے فالواپ اجلاس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا۔

جواب دیں

Back to top button