این آئی سی ایچ میں میڈیکل ٹاور کی تعمیر کا اعلان فیصل ایدھی کے تعاون سے1کروڑ 70 لاکھ ڈالر میں ٹاور تعمیر کیاجائےگا،وزیراعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت، فیصل ایدھی کے تعاون سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی لاگت سے ایک میڈیکل ٹاور تعمیر کرے گی۔ اس رقم میں سے 1 کروڑ ڈالر پہلے ہی حاصل کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 70 لاکھ ڈالر صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔انہوں نے یہ اعلان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے نئے ایمرجنسی بلاک کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔ تقریب میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر طاہر صغیر، پیشنٹ ایڈ فاونڈیشن کے مشتاق چھاپڑا، سائبر نائف کے پروفیسر طارق محمود، شبیر دیوان اور دیگر شریک تھے۔

این آئی سی ایچ کا نیا میڈیکل ٹاور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ فیصل ایدھی نے انہیں این آئی سی ایچ میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی لاگت سے میڈیکل ٹاور تعمیر کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا جس میں سے 1 کروڑ ڈالر پہلے ہی حاصل ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر یقین دہانی کرائی کہ اس منصوبے کو کابینہ میں پیش کیا جائے گا تاکہ باقی 70 لاکھ ڈالر کی منظوری لی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ظاہر کرتا ہے کہ مخیر حضرات اور صحت کے ماہرین کے ساتھ ہمارے شراکت داری کے ذریعے پیش رفت ہو رہی ہے۔”

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا پس منظر

وزیر اعلیٰ شاہ نے پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اسپتالوں کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک اہم موقع پر وفاقی حکومت نے اچانک اور بغیر کسی پیشگی مشاورت کے این آئی سی ایچ، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور این آئی سی وی ڈی کی فنڈنگ روک دی۔ اس وقت وزیر خزانہ کی حیثیت سے انہوں نے اور سیکریٹری خزانہ نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا اور 7 جولائی کو سندھ حکومت نے ان تینوں اداروں کیلئے نئے بجٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کے وقت ان اسپتالوں کا مجموعی سالانہ بجٹ صرف 1 ارب 90 کروڑ روپے تھا اور آج یہ بجٹ بڑھ کر 40 ارب روپے ہو گیا ہے جو صوبے کی تیسرے درجے کی صحت کی سہولیات کیلئے سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

فلاحی تنظیموں کا اہم کردار

وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کا ایک بڑا حصہ فلاحی اداروں کے کردار کو سراہنے پر وقف کیا۔ انہوں نے تینوں اسپتالوں کے سابقہ اور موجودہ چیف ایگزیکٹوز کو سراہا اور خاص طور پر پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2017 میں انہیں جناح اسپتال بلایا گیا، جہاں مشتاق چھاپڑا نے حکومتی تعاون کی درخواست کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس وقت وعدہ کیا کہ سندھ حکومت فاؤنڈیشن کی جمع کی گئی ہر رقم کے بدلے برابر کی رقم فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب مخیر حضرات حکومت سے کم رقم مانگتے ہیں اور زیادہ جمع کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی ٹاور کیلئے 2 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے لیکن حکومت سے صرف 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر طلب کیے گئے۔

عالمی معیار کی بستروں کی گنجائش

مراد علی شاہ نے اسپتالوں کی گنجائش میں نمایاں اضافے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 12 سال قبل جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ میں مجموعی طور پر 2 ہزار بسترے تھے۔ اب یہ تعداد دو گنا بڑھ کر 4 ہزار ہو گئی ہے اور 2028 تک 5 ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکا کے سب سے بڑے اسپتال میں 2 ہزار 800 بسترے ہیں جبکہ برطانیہ کے سب سے بڑے اسپتال میں 2 ہزار 200 بسترے ہیں، جس سے سندھ کے اسپتالوں کی عالمی سطح پر حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر سردار یاسین کا ذکر کیا اور شاہد عبداللہ کے ساتھ ایک دلچسپ گفتگو کا حوالہ دیا جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ انہیں "بڑے لیکچر” دیتے رہے ہیں۔کراچی مواقع کا مرکز

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد میں دیگر صوبوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک صوبے کے نمائندے نے کراچی کی طرف لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ اپنے علاقے کی خراب انفراسٹرکچر کو قرار دیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگرچہ کراچی کو مسائل کا سامنا ہے لیکن یہاں انفراسٹرکچر اور مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے پرعزم ہے اور اس وعدے پر عمل کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button