میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہاہے کہ اگر کسی کے پاس کام کرنے کی نیت اور صلاحیت نہیں تو وہ گھر چلا جائے، ہم کام کر کے دکھائیں گے کہ خدمت کیسے کی جاتی ہے۔ وسائل نہ ہونے کا بہانہ اب قبول نہیں، کیونکہ کروڑوں روپے اکاؤنٹس میں ہونے کے باوجود بھی کام نہیں ہو رہا، جو سراسر منافقت ہے، یونین کمیٹیوں کو ملنے والے فنڈز کا آڈٹ اسی لیے کرایا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بارہ لاکھ روپے ملنے کے باوجود ترقیاتی کام کیوں نہیں کیے گئے،روڈ کٹنگ کے پیسے لے کر سڑکیں بحال نہ کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، عوام کو بتایا جائے کہ اربوں روپے کب خرچ کیے جائیں گے، صرف فیتے کاٹنے اور پریس کانفرنس کرنے سے شہر نہیں چلتا، جماعت اسلامی پراپرٹی ٹیکس اور ایڈورٹائزمنٹ ٹیکس کا حساب دے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارتھ ناظم آباد بلاک ایف میں اندرونی سڑکوں کی مرمت، برساتی نالوں کی بحالی اور دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح کرنے کے موقع پر کیا، اس موقع پر سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جمن دروان، دل محمد اور دیگر منتخب نمائندے بھی ان کے ہمراہ تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے منشور کے مطابق کراچی کے عوام کی خدمت ہمارا بنیادی مقصد ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں عملی کام نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹاؤن بنانے کا مقصد یہی تھا کہ نچلی سطح پر عوامی نمائندے گلی محلوں کے مسائل حل کریں، مگر بدقسمتی سے بعض جماعتیں صرف دھرنوں، پریس کانفرنسوں اور سیاست چمکانے تک محدود رہیں، ہم تختیاں لگانے نہیں بلکہ شروع کیے گئے منصوبوں کی تکمیل کے موقع پر یہاں آئے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس علاقے میں دس کروڑ روپے کی لاگت سے اندرونی گلیاں تعمیر کیں، سوا دو لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاکس بچھائے اور سیوریج کے درہم برہم نظام کو درست کیا، مکینوں سے وعدہ لیا گیا کہ پیور لگنے کے بعد دوبارہ روڈ کٹنگ نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ مثبت رجحانات کو فروغ دیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی ٹاؤن میں ہوں،کراچی میں ترقی ہوگی، منافقت نہیں۔ مایوسی پھیلانے والے حادثات کے انتظار میں رہتے ہیں تاکہ سیاست کی جا سکے، مگر پیپلز پارٹی کا ہر کارکن شہر کی خدمت میں مصروف ہے، میں قانونی اور منتخب میئر ہوں، میرے ہورڈنگز پورے شہر میں نظر نہیں آئیں گے، کیونکہ ہم تشہیر نہیں بلکہ کام پر یقین رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کراچی سے منافقت اور دوہرے معیار کا خاتمہ کرے گی اور شہر کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھے گی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ خود کراچی کی سڑکوں پر نکلے اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا، کورنگی کازوے پر چار لین کا پل جنوری 2026 تک مکمل کر کے کھول دیا جائے گا، شاہراہ بھٹو پر انڈر پاس تیزی سے تعمیر ہو رہا ہے جہاں سے ہیوی ٹریفک کو بھی گزرنے کی اجازت ہوگی۔ مرغی خانہ فلائی اوور اور نیا پل بھی پیپلز پارٹی تعمیر کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبہ شہر کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے جس کا وزیراعلیٰ سندھ نے خود دورہ کیا اور یونیورسٹی روڈ کے مسائل کے حل سے متعلق منصوبوں کی مدت کے بارے میں ہدایات دیں۔ مینا بازار انڈر پاس جنوری کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ شہر میں پارکنگ کے نام پر وصولیاں کون کر رہا ہے، زینب مارکیٹ، حیدری مارکیٹ، طارق روڈ، بہادرآباد اور ناظم آباد مارکیٹ میں عوام کو جواب دیا جائے، کے ایم سی اب ان مارکیٹوں کے باہر پارکنگ وصول نہیں کر رہی۔





