وزیراعلیٰ پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کا وژن،ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی زیر نگرانی ’لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام‘ کے تحت 5600 سے زائد گلیوں کی تکمیل تحریر: حارث علی

ضلعی انتظامیہ لاہور نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور سید موسیٰ رضا کی کی زیر قیادت ’لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام‘ (LDP) کے ذریعے صوبائی دارالحکومت کے شہری ڈھانچے میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی ہے، جس کی نظیر ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’تعمیرِ لاہور‘ اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے ترقیاتی وژن پر مبنی یہ منصوبہ محض تعمیراتی سرگرمی نہیں، بلکہ یہ گورننس کے اس نئے ماڈل کی عکاسی ہے جس کا مقصد دہائیوں سے نظر انداز کیے گئے علاقوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے شہر کے پوش علاقوں کے ہم پلہ لانا ہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے، جس کے تحت ضلع بھر میں مجموعی طور پر 14,423 گلیوں کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا گیا ہے۔ انتظامیہ نے 1,567 کلومیٹر طویل پختہ راستوں کا ایک ایسا جال بچھایا ہے جو نہ صرف نقل و حمل کو آسان بنا رہا ہے بلکہ 606 کلومیٹر جدید سیوریج لائنوں اور 680 کلومیٹر واٹر سپلائی نیٹ ورک کی تنصیب کے ذریعے شہریوں کو صحت و صفائی کی بنیادی سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی زیرِ نگرانی اس منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار اور معیار نے انتظامی کارکردگی کے نئے معیارات قائم کیے ہیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور (MCL) کے اعداد و شمار کے مطابق، فیز ون میں شامل تمام 5,643 گلیوں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے ۔ یہ کامیابی ایم سی ایل، واسا اور نجی کنٹریکٹرز کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن اور ڈی سی لاہور کی جانب سے فیلڈ میں موجود رہ کر مسلسل نگرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس تاریخی ترقیاتی پروگرام کے ثمرات کا اندازہ شہر کے مختلف زونز میں ہونے والی زمینی تبدیلیوں سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں اعداد و شمار ٹھوس عوامی ریلیف کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ نشتر زون، جو گنجان آباد رہائشی اور تجارتی مراکز پر مشتمل ہے، وہاں انتظامیہ نے ڈرینج اور سٹریٹ پیونگ کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی سخت ہدایات پر یونین کونسلز 230، 235، 241 اور 248 میں پیچیدہ بحالی کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جہاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار راستوں کو پائیدار پلین سیمنٹ کنکریٹ (PCC) اور ٹف پیورز (Tuff Pavers) سے تبدیل کیا گیا ہے۔ نشتر زون میں سیوریج کے نظام کی اپ گریڈیشن اور گلیوں کی پختگی نے ان علاقوں سے واٹر لاگنگ اور گندے پانی کے کھڑے ہونے کے دیرینہ مسئلے کو جڑ سے ختم کر دیا ہے۔ اسی طرح راوی زون کے تاریخی اور گنجان آباد علاقوں، خاص طور پر شاہدرہ، بیگم کوٹ اور نین سکھ میں ایل ڈی پی نے حیران کن نتائج دیے ہیں۔ ان علاقوں کی تنگ گلیوں اور قدیم انفراسٹرکچر کے باوجود انتظامیہ نے یونین کونسل 1 سے لے کر 10 اور اس سے آگے تک نئی ڈرینج لائنیں بچھائیں اور سڑکوں کو پختہ کیا، جس سے یہ دریائی علاقے اب جدید شہری سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ راوی زون میں کچی اور کیچڑ زدہ گلیوں کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب وہاں پختہ سڑکیں تجارتی سرگرمیوں اور آمدورفت میں آسانی کا سبب بن رہی ہیں۔

داتا گنج بخش زون، جو پرانے لاہور کا دل ہے، وہاں بھی یونین کونسلز 48، 49، 50 اور 71 میں انتہائی مہارت کے ساتھ ترقیاتی کام مکمل کیے گئے۔ گنجان آباد علاقوں میں مشینری اور میٹریل کی نقل و حمل ایک چیلنج تھی، جسے ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا کی ٹیم نے بہترین حکمت عملی سے حل کیا اور روزمرہ زندگی کو متاثر کیے بغیر واٹر سپلائی اور سیوریج کے جدید نظام کو فعال کیا۔فیز ون کی شاندار کامیابی کے بعد، انتظامیہ نے فیز ٹو پر کام کی رفتار مزید تیز کر دی ہے، جس میں 8,635 گلیوں کی تعمیر کا ہدف مقرر ہے اور اس وقت 3,384 گلیوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جو کہ 39 فیصد پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے۔ فیز ٹو کا دائرہ کار علامہ اقبال زون اور واہگہ زون کے مضافاتی علاقوں تک پھیلایا گیا ہے۔ علامہ اقبال زون، جس میں چونگ، مراکہ اور مانگا منڈی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے علاقے شامل ہیں، وہاں 1,800 سے زائد گلیوں پر کام جاری ہے۔ انتظامیہ کی یہ پیشگی منصوبہ بندی اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ شہر کے پھیلاؤ کو منظم رکھا جائے اور کچی آبادیوں کے بجائے جدید انفراسٹرکچر پر مبنی مضافاتی علاقے وجود میں آئیں۔ یونین کونسلز 258، 260 اور 263 میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام مستقبل کے جدید لاہور کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اسی طرح واہگہ زون میں لکھو ڈیر اور ڈیرہ گجراں جیسے دیہی علاقوں کو شہر کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہاں میونسپل سروسز کی فراہمی سے دیہی اور شہری تقسیم کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ انسپکشن رپورٹس کے مطابق واہگہ زون کے فیز ون میں یونین کونسلز 132، 133 اور 174 میں ہزاروں گھرانوں کو پختہ گلیاں اور فعال ڈرینج سسٹم فراہم کیا جا چکا ہے، جو موجودہ قیادت کی جانب سے وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مظہر ہے۔لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کی سب سے نمایاں خصوصیت یوٹیلٹی سروسز کا مربوط نظام ہے، خاص طور پر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور اور واسا کے درمیان مثالی ہم آہنگی۔ ماضی کے برعکس، ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سڑکوں کی تعمیر سے قبل زیر زمین تمام یوٹیلٹی ورکس مکمل کیے جائیں تاکہ قومی خزانے کا ضیاع نہ ہو۔ اعداد و شمار اس حکمت عملی کی کامیابی کی گواہی دیتے ہیں؛ واسا نے فیز ون کے تحت 2,868 گلیوں میں اپنے کام مکمل کیے، جن میں نشتر اور راوی زون میں سیوریج کے بھاری کام شامل تھے۔ گلبرگ اور سمن آباد زونز میں واٹر سپلائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، جہاں زنگ آلود پائپوں کی جگہ جدید کنڈیوٹس بچھا کر شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ گلبرگ زون کی یونین کونسلز 118، 119 اور 120 میں واٹر سپلائی لائنوں کی تبدیلی نے عوامی صحت کے اشاریوں میں بہتری پیدا کی ہے۔ مزید برآں، شہری خوبصورتی اور سکیورٹی کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ایل ڈی پی کے الیکٹریکل ورکس کے تحت 113.80 ملین روپے کی لاگت سے نئی تعمیر شدہ گلیوں اور سڑکوں کو روشن کیا گیا ہے۔ واہگہ زون میں سٹریٹ لائٹس کی تنصیب ہو یا عزیز بھٹی زون میں گرڈز کی مرمت، انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ اور سہولت کا بھی پورا خیال رکھا جائے۔ان منصوبوں کی پیشرفت کا شفاف نظام ایک نتیجہ خیز گورننس ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ فیز ون کی کامیاب تکمیل اور فیز ٹو میں جاری تیز رفتار کام نے شہری تجدید کا ایک مضبوط سانچہ تشکیل دے دیا ہے۔ ہزاروں ٹن کنکریٹ، کلومیٹرز طویل پی وی سی پائپس اور لاکھوں ٹف پیورز کا استعمال نہ صرف شہری سہولیات میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ ڈی سی آفس کی جانب سے ٹھیکیداروں کی کارکردگی کی کڑی نگرانی اس بات کی ضمانت ہے کہ خرچ ہونے والا ہر روپیہ عوام کی فلاح پر لگ رہا ہے۔ شالیمار اور عزیز بھٹی زون میں جاری کام کی تکمیل کے ساتھ یہ پروگرام شہر کی ہر گلی اور محلے تک اپنی رسائی مکمل کر لے گا۔ یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس نے کوئی گلی اور کوئی محلہ پیچھے نہیں چھوڑا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت اور ڈی سی سید موسیٰ رضا کی انتھک محنت سے چلنے والا یہ مشن نہ صرف لاہور کے انفراسٹرکچر کو جدید بنا رہا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی بحال کر رہا ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام آج موثر حکمرانی کی ایک روشن مثال اور شہریوں کے لیے ایک روشن، صاف ستھرے اور ترقی یافتہ مستقبل کی نوید بن چکا ہے۔

جواب دیں

Back to top button