کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) مہر اللّٰہ بادینی ،سیکرٹری آر ٹی اے محمد علی درانی ،ایس ایس پی ٹریفک محمد سمیع، بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے عہدیداران اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تجویز کردہ مختلف ٹریفک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

اجلاس میں ٹریفک مسائل کی بڑی وجوہات پر غور کرتے ہوئے خاص طور پر رکشوں اور چنگ چی رکشوں کے غیر منظم استعمال پر مشاورت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے مرکزی علاقوں میں رکشوں کے لیے نیا اور مؤثر طریقہ کار متعارف کروایا جائے گاجس کے تحت ڈیجیٹلائزڈ اسٹیکرز کا اجرا کیا جائے گا اور رکشوں کے لیے مخصوص اسٹاپس مقرر کیے جائیں گے۔ بغیر روٹ پرمٹ کسی بھی رکشے کو شہر میں چلانے کی اجازت نہیں ہوگی اجلاس میں نئی بسوں کے لیے روٹس اور ان کی تعداد مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیاشہر میں بس سروس کے لیے 8 نئے روٹس مختص کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی رکشوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائیاں کی جائیں گی رکشوں کے لیے لانگ ٹرم پلاننگ کے تحت نئے زونز مختص کیے جائیں گے جن میں صرف منظور شدہ روٹ پرمٹ رکھنے والے رکشے ہی چل سکیں گے۔ بغیر پرمٹ رکشوں کو بند کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کا عملہ اور ٹریفک پولیس مشترکہ طور پر کارروائیاں انجام دیں گے اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ رکشوں سے متعلق تجاویز پر عمل درآمد سے قبل رکشہ یونینز سے مشاورت کی جائے گی تاکہ فیصلوں کو مؤثر اور قابلِ عمل بنایا جا سکے مزید برآں چنگ چی رکشوں کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم انہیں شہر سے باہر مخصوص علاقوں میں چلانے کی اجازت ہوگی کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد شہر میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی لانا اور شہریوں کو بہتر، منظم اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان فیصلوں پر مرحلہ وار عمل درآمد سے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی صورتحال میں واضح بہتری آئیگی






