پنجاب،جنگلات اور ماحولیات کے تمام نظام کو کرپشن فری بنانے کے لیے100 سال بعد انگریز دور کے بنائے فارسٹ ایکٹ میں تبدیلی کر دی گئی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت جنگلات اور ماحولیات کے تمام نظام کو کرپشن فری بنانے کے لیے100 سال بعد انگریز دور کے بنائے فارسٹ ایکٹ میں تبدیلی کر دی گئی۔ ماحول کے تحفظ کا ادارہ(ای پی اے) سے کاغذی کارروائی کا سو فیصد خاتمہ کرکے جدید ٹیکنالوجی سے لیس جدت کے ذریعے تمام نظام کوچلانے والا ”ای پی اے“ پہلا سرکاری محکمہ بن گیا ہے۔ ہر دستاویز پر مخصوص حوالہ نمبر اور کیو آر کوڈ سے سیکنڈز میں تصدیق کرنا ممکن ہوگا۔ ہر فیصلے کی پڑتال ہو سکے گی، فیصلوں کی وجوہات، سفارشات، منظوری سمیت ہر چیز کا ڈیجیٹل ریکارڈ کمی وقت دستیاب ہوگا۔ ماحولیات سے متعلق تمام محکمے جدید ڈیجیٹل نظام کے بغیر حکم جاری کریں گے نہ کوئی منظوری دیں گے۔ ڈیجیٹل نظام ”ای فوس“ (E-FOAS)کے سوا حکم جاری کرنے، منظوری دینے یا کوئی انتظامی فیصلہ جاری کرنے والے محکمے کے افسر اور عملے کے خلاف سخت تادیبی کاروائی ہوگی۔ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا۔ امپورٹ لائسنس کا اجرا بھی مکمل طور پر(FOAS E-)ڈیجیٹل نظام سے ہی ہوگا اس کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق لیبارٹری سرٹیفکیشن، پروٹیکشن آرڈرز اور سرکاری سفارشات کا اجرا صرف (e-FOAS) کے ذریعے ہوگا۔ ڈیجیٹل نظام سے ہٹ کر جاری ہونے والا کوئی حکم، تصدیق یا منظوری قانونی اور درست نہیں ہوگی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے انسانی مداخلت، جعلسازی اور غیرقانونی اجازت ناموں کا خاتمے پرمالیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کی تمام ٹیم کو شاباش دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ماحول کے تحفظ کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button