*چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انڈس یونیورسٹی اسپتال کا افتتاح کردیا*

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج انڈس یونیورسٹی اسپتال کا افتتاح کیا، جو صحت کے شعبے کا ایک اہم منصوبہ ہے اور آئندہ تین برسوں میں تکمیل کے بعد ایک ہزار تین سو پچاس بستروں کی گنجائش کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا مفت علاج فراہم کرنے والا اسپتال بن جائے گا۔افتتاحی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی کابینہ کے ارکان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری صحت ریحان اقبال بلوچ، انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے بورڈ چیئرمین عبد الکریم پراچہ، بورڈ ممبران خالد خانانی اور سلیم رزاق تابانی، معزز عطیہ دہندگان اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انڈس یونیورسٹی اسپتال کا منصوبہ پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ان افراد تک معیاری طبی سہولیات کی رسائی بڑھانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ اسپتال کراچی کے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔انڈس یونیورسٹی اسپتال کراچی کی بڑھتی ہوئی صحت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مکمل ہونے پر یہ اسپتال مختلف شعبہ جات میں جامع اور مفت طبی سہولیات فراہم کرے گا جس سے سالانہ لاکھوں مریض مستفید ہوں گے۔دورے کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی سینئر قیادت کے ہمراہ نو تعمیر شدہ سہولیات کا معائنہ کیا۔ افتتاح شدہ حصے میں جدید ایمرجنسی اور آؤٹ پیشنٹ سہولیات، جدید تشخیصی یونٹس، عالمی معیار کے مطابق آپریشن تھیٹرز اور مریضوں کو اہمیت دینے والا انفرااسٹرکچر شامل ہے جو عالمی صحت کے معیارات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ آئندہ تین برسوں میں مزید تعمیرات اور خدمات کی توسیع مکمل کی جائے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے عوام کو مفت، سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور انڈس ہیلتھ نیٹ ورک صوبے میں اس کی کامیاب ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔انڈس اسپتال کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ جب ڈاکٹرعبدالباری پہلی بار ان سے ملے تو وہ چند ماہ سے صوبائی وزیرِ ریونیو کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر باری نے 25 کروڑ سے 40 کروڑ روپے کی گرانٹ کی درخواست کی اور اسپتال کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ چند دن بعد وہ اسپتال گئے اور اپنے کالج اور اسکول کے دور کے کئی دوستوں سے ملے جو رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سے گرانٹ کی منظوری کی درخواست کی جو فوری طور پر منظور کر لی گئی اور ابتدائی فنڈز زمین کی خریداری کے لیے استعمال کیے گئے۔ اسی طرح اس سفر کا آغاز ہوا جو مسلسل وسعت اختیار کرتا گیا۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت نے ابتدائی برسوں میں انڈس اسپتال کو 30 کروڑ روپے کی گرانٹ دی جو موجودہ سال میں بڑھ کر 8 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انہوں نے انڈس اسپتال کا دورہ کیا، ڈاکٹر باری سے ملاقات ہوئی اور ہر درخواست پر انہیں تعاون کرنے کی ترغیب ملی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ بعد ازاں سندھ حکومت نے انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کو بدین میں ایک چھوٹے اسپتال سے شراکت داری کی دعوت دی جو مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بدین میں انڈس کے بغیر متبادل کا تصور ممکن نہیں جبکہ جامشورو ریجنل بلڈ سینٹر بھی انڈس نیٹ ورک کے حوالے کیا گیا جو اب تقریباً بیس ہزار خون کے تھیلے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد خصوصاً ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے صوبائی وزیرِ صحت بننے کے بعد اس شراکت داری میں مزید تیزی آئی۔ کورونا وبا کے دوران انڈس اسپتال نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب پہلا کورونا مریض سامنے آیا تو ان کی ابتدائی کالز میں سے ایک ڈاکٹر عبدالباری کی تھی جن کے مشورے پر ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا اور جہاں دیگر ادارے روزانہ ساٹھ سے ستر ٹیسٹ کر رہے تھے وہاں انڈس نے ایک ہزار ٹیسٹ روزانہ تک بڑھا دیے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کورونا کے بعد کے دور میں معیشت اور عطیات پر منفی اثرات پڑے تاہم سندھ حکومت نے انڈس اسپتال کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ انڈس ہیلتھ نیٹ ورک اکیلا کام نہیں کر رہا بلکہ سندھ حکومت بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ انڈس اسپتال میں تقریباً تیس فیصد مریض لانڈھی اور کورنگی سے، بیس فیصد کراچی کے دیگر علاقوں سے جبکہ تقریباً پچاس فیصد کراچی سے باہر سے آتے ہیں جن میں بلوچستان اور پنجاب کے مریض بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ میں صحت کے شعبے میں ہونے والا کام دیگر صوبوں سے کہیں آگے ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے ساتھ تپِ دق کے کنٹرول، ریبیز کی روک تھام اور دیگر شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو وسعت دی ہے اور مزید منصوبے زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسپتال ایک ہزار تین سو پچاس بستروں پر مشتمل ہے اور اس میں میڈیکل کالج بھی قائم کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے بدین میں صحت کی سہولیات مزید بہتر بنانے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا جن میں پورے ضلع کو مرکزی اسپتال سے منسلک کرنا اور تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کو انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے اشتراک سے بہتر بنانا شامل ہے، جس پر آئندہ سال کے پہلے ہفتے سے کام شروع کیا جائے گا۔خطاب کے اختتام پر مراد علی شاہ نے کہا کہ معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور جو ادارے ان نیک مقاصد میں تعاون کر رہے ہیں وہ حکومت کے شراکت دار ہیں۔ انہوں نے تقریب کی میزبانی پر انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کا شکریہ ادا کیا۔انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین عبد الکریم پراچہ نے صوبے میں صحت کی سہولیات کے فروغ کے لیے حکومتِ سندھ کی حمایت کو سراہا۔انڈس اسپتال کے صدر ڈاکٹر عبد الباری خان نے اس منصوبے کو پاکستان کے صحت کے نظام کے لیے انقلابی قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت کے مسلسل تعاون کا اعتراف کیا اور کہا کہ تکمیل کے بعد انڈس یونیورسٹی اسپتال ملک میں عالمی معیار کی قابلِ رسائی صحت کی سہولیات کا نیا معیار قائم کرے گا۔انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر سید ظفر زیدی نے کہا کہ انڈس یونیورسٹی اسپتال ہمدردی، وقار اور مریض مرکز نگہداشت کے وژن کا تسلسل ہے، جہاں علاج، تعلیم اور تحقیق ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائے گی۔انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اپنے مشن کے تحت بلاامتیاز، مفت اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خدمات کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہا ہے تاکہ مکمل ہونے کے بعد انڈس یونیورسٹی اسپتال آئندہ برسوں میں پاکستان کے صحت کے نظام کا ایک مضبوط ستون بن سکے۔انڈس یونیورسٹی اسپتال 72 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے جو آئندہ تین برسوں میں مکمل ہوگا۔ یہ بیس ایکڑ پر محیط کیمپس پر قائم ہوگا جس کا تعمیر شدہ رقبہ پینتیس لاکھ بیس ہزار مربع فٹ ہوگا، جبکہ تکمیل پر اس میں ایک ہزار تین سو پچاس بستروں کی گنجائش ہوگی۔یہ اسپتال مربوط نگہداشت کے ماڈل پر قائم ہوگا جہاں ابتدائی، ثانوی اور ثالثی سطح کی جامع طبی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی، اور اس میں عالمی معیار کے چھتیس آپریشن تھیٹرز شامل ہوں گے۔ اسپتال میں کینسر کی نگہداشت، طبی جدت اور تحقیق کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے، جبکہ تعلیمی اور طبی انضمام ایک ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی سے منسلک سات کالجوں کے ذریعے کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button