محکمہ پرائس کنٹرول کا نام تبدیل،فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کر دیا گیا،محکمہ سروسز کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری

ملاوٹ کے خلاف جنگ صحت مند پنجاب کے سنگ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا ویژن ہے یہ بات معاون خصوصی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ سلمی بٹ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی-انہوں نے بتایا کہ اس ویژن کے تحت پنجاب کے عوام کو محفوظ اور ملاوٹ سے پاک سستی خوراک کی فراہمی اولین ترجیح ہےجس کا ثبوت محکمہ کی کارکردگی اور اس میں جدید اصلاحات کا نفاذ ہیں-وزیراعلی کی عوام دوست پالیسیوں کے تناظرمیں محکمہ پرائس کنٹرول کموڈٹیز مینجمنٹ کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے اور گزشتہ سال پنجاب میں خوراک سے متعلقہ تمام اداروں اور اتھارٹیوں کو جو مختلف ایمبٹ میں کام کر رہے تھے ایک ہی چھتری تلے جمع کر دیا گیا تھا-اب محکمہ کے نام میں صارف دوست کا پہلو اجاگر کیا گیا ہے اور پرائس کنٹرول کموڈٹیز مینجمنٹ کا نام تبدیل کر کے "فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن” رکھا گیا ہے-انہوں نے بتایا کہ اس محکمہ میں ڈی جی فوڈ، کین کمشنر، کنزیومر پروٹیکشن کونسل ، سہولت بازار اتھارٹی، ڈائریکٹریٹ اف انفورسمنٹ ، پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ اتھارٹی ،پنجاب حلال ڈیویلپمنٹ ایجنسی پنجاب انسٹیٹیوٹ اف ایگریکلچر مارکیٹنگ شامل ہیں-سلمی بٹ نے کہا کہ پنجاب میں کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2025 متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت جرمانوں کی حد 1000 ہزار سے بڑھا کر 100,000 روپے تک کر دی گئی ہےاورکنزیومر پروٹیکشن کونسلز میں شکایات بذریعہ ہیلپ لائن، موبائل ایپ, پورٹلزیا پھر ڈائریکٹ ڈپٹی کمشنر کے پاس درج کرائی جا سکتی ہیں۔پنجاب میں کنزیومر پروٹیکشن کونسلز کا دائرہ اختیار 41 اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہےاورکنزیومر پروٹیکشن کورٹس کو ختم کر کے مقدمات کو متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو منتقل کر دیا گیا ہے جو ان مقدمات کا فیصلہ مقررہ وقت90 دن میں کرنےکے پابند ہوں گے-انہوں نے کہا کہ صارفین مصنوعات کے معیار اور غیر منصفانہ تجارتی رویوں کے خلاف باسانی اپنی شکایات کنزیومر پروٹیکشن کونسل یا ڈائریکٹ ڈپٹی کمشنر کو درج کرا سکیں گے- اس طرح سخت جرمانوں کے نفاذ سے بدعنوانی اور منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا اسان ہو جائے گا کنزیومر پروٹیکشن کونسلز میں سال 2025 کے دوران صارفین کی جانب سے 6 ہزار 600سو 69 شکایات درج کروائی گئی جن میں سے 4 ہزار 900 سو7 شکایات کا ازالہ کر دیا گیا اسی طرح اشیا ضروریہ کے معیار اور نوٹیفائیڈ نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب میں 1827 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ان پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کو روزانہ کی بنیاد پر جیو ٹیگنگ سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے-معاون خصوصی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمی بٹ نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر حکومت پنجاب نے محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے 11 منصوبوں کی منظوری دی ہے-یہ 11 منصوبے 12.48 بلین روپے کی لاگت سے 2 سال کے عرصہ میں مکمل ہوں گے -ان منصوبوں میں سہولت بازار اتھارٹی کا قیام بھی شامل ہے۔عوامی سہولت کے لیے لاہور میں 12 سہولت ان دی کو بازار بھی مکمل فنکشنل ہو چکے ہیں ان بازاروں میں اشیاء ضروریہ کے معیار اور قیمتوں کو باقاعدگی کے ساتھ مانیٹر کیا جا رہا ہے

"مہنگائی کا زور ٹوٹے گا ، ریلیف ہر گھر پہنچے گا ” یہ وزیراعلی پنجاب کا عزم ہے اس کے تحت پورے پنجاب میں 105 سہولت بازار قائم کرنے کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں ان 105 میں سے 48 سہولت بازار مختلف اضلاع میں مکمل فنکشنل ہو چکے ہیں ان سہولت بازاروں میں صارفین کے لیے،پانی، پارکنگ ،پبلک واش رومز ،سٹنگ ایریا سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں-انہوں نے کہا کہ عوام کو ملاوٹ سے پاک صاف خوراک کی فراہمی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی قابل تعریف ہے اورحکومت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے ہیڈ کوارٹر ہاؤس کی تعمیر کی منظوری دی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ راولپنڈی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹریننگ سکول اور جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز قیام کے لیے بھی پی این ڈی بورڈ نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے- کسانوں کو استحصال سے بچانے کے لیے

کرشنگ سیزن کے دوران گنے میں چینی کی مقدار چیک کرنے کے لیے 4 موبائل لیبارٹرز کا قائم کی جا رہی ہیں اور شوگر ملوں کی مانیٹرنگ کے لیے جدید ڈیجیٹل سسٹم کے نفاز سے گنے کے وزن ،کٹوتی،قیمت اور کسانوں کو ادائیگیوں کاڈیجیٹل ریکارڈ مرتب ہوگا -پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے صوبہ کی 188 فروٹ اور سبزی منڈیوں کو جدید خطوط پر استوار کر دیا گیا ہے ان منڈیوں میں ہول سیل سے لے کر پرچون تک طلب اور رسد کے بارے میں عداد و شمار سے مستقبل میں منصوبہ بندی ممکن ہو گئی پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر لاہور کی منڈیوں میں نیلامی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال شروع ہو چکا ہے اور پنجاب کے تمام اضلاع کی منڈیوں کو سٹیٹ اف دی ارٹ بنانے کے لیے ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں خاص طور پر شیخوپورہ٫ پاکپتن اور ساہیوال سمیت کئی اضلاع میں منڈیوں کے ترقیاتی کاموں میں ریکارڈ تیزی ائی ہے-سلمی بٹ نے بتایا کہ پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کی مالی اور انتظامی اصلاحات کے بہترین نتائج سامنے ائے ہیں۔مارکیٹ فیس پارکنگ اور ریٹ لسٹوں کی وصولی کے حقوق کی اؤٹ سورسنگ نے محصولات میں 130 فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ ذرعی منڈیوں میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور نیلامی کے تیز رفتار عمل سے 4 ارب روپے ریونیو حاصل ہوا ہےسیف سٹی اتھارٹی کی مدد سے منڈیوں میں انے والے تمام ٹرکوں کی تعداد سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جا رہا ہے-انہوں نے بتایا کہ پرائس کنٹرول کونسل نے صوبائی کنٹرولرز جنرل/سیکرٹری پرائس کنٹرول کے اختیارات اور فرائض متعلقہ افسران کو سونپنے کے حوالے سے مسودہ کی بھی منظوری دی گئی ہے جس میں پرائس کنٹرول کونسل نے 49 مختلف اشیاء ضروریہ کے  اختیارات مختلف محکموں کو تقویض کرنے کی منظوری دی ہے۔اکسیجن گیس سلنڈر ،سرجیکل گلوز،فیس ماسک تمام اقسام کے سرفس کلینر ائسو پروپائل الکوحل کے اختیارات سیکرٹری صحت کو تقویض کیے گئے ہیں۔صوبہ میں تمام اقسام کے بیج ،اناج اور زرعی ادویات کے اختیارات سیکرٹری زراعت کو تقویض ہوئے ہیں۔پنجاب میں ویجیٹیبل ائل ،گھی منرل واٹر، فلٹر واٹر، برف، چائے، ایل پی جی ،ایل این جی اور اینٹوں کے اختیارات ڈی جی انڈسٹریز کو سونپے گئے ہیں دودھ، دہی ،چھوٹا گوشت، بڑا گوشت اور انڈوں کے اختیارات ڈی جی ایکسٹینشن لائف سٹاک ڈیری ڈویلپمنٹ کو سونپ دیے گئے ہیں پولٹری فیڈ اور برائلر زندہ و گوشت کے اختیارات ڈی جی ریسرچ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ کے حوالے کیے گئے ہیں۔ریت کرش بجری کوئلہ سیمنٹ مٹی کا تیل اور نمک کے اختیارات ڈی جی مائنز اینڈ منرل کو سونپ دیے گئےہیں۔صوبہ میں گندم ،اٹا, میدہ نان ،روٹی ،ڈبل روٹی ،چینی ،گڑ، دھان اور سموسہ کے اختیارات ڈی جی فوڈ و کین کمشنر کے حوالے کیے گئے ہیں۔پنجاب میں تمام اقسام کے فروٹ سبزیاں دالیں مصالحہ جات اور کھجور کے اختیارات ڈی جی پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سپرد کیے گئے ہیں۔تمام اقسام کی کھادیں کیمیکل اور کپاس ک اختیارات ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن پنجاب کو تقویض کیے گئے ہیں سلمی بٹ نے کہا کہ پنجاب پرائس کنٹرول کونسل کا مقصد اشیاء ضروریہ کی مسلسل فراہمی اور پیش بندی ہے-

جواب دیں

Back to top button