گلگت بلتستان میں ای۔پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم کے نفاذ کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) اور گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(GBPPRA) کے مابین گلگت بلتستان میں ای۔پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS)کے نفاذ کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ۔یادداشت پر گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر/سیکریٹری فنانس نجیب عالم اور EPADS کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شیخ افضال رضا نے دستخط کیے۔تقریب میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا اور وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے شرکت کی۔چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے اس موقع پر EPADS کے نفاذ کو گلگت بلتستان میں پبلک پروکیورمنٹ اصلاحات کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے وفاقی پی پی آر اے سے قریبی تعاون اور مسلسل تکنیکی معاونت کی فراہمی کی درخواست کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ باہمی اشتراک کے ذریعے گلگت بلتستان میں ای۔پروکیورمنٹ نظام کے مؤثر اور پائیدار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے گلگت بلتستان میں EPADSے نفاذ کے لیے مکمل تعاون اور تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام شفافیت، مسابقت اور احتساب کو فروغ دینے کے ساتھ بدعنوانی کے امکانات میں کمی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہوگا۔اس یادداشت کے تحت دونوں اداروں نے گلگت بلتستان میں EPADS کے نفاذ کے عمل کے باقاعدہ آغاز پر اتفاق کیا ۔ پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور متعلقہ ٹیموں کو جامع تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ نظام کے عملی نفاذ کے دوران کسی قسم کی تکنیکی یا انتظامی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔تقریب کے اختتام پر منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی حسنات احمد قریشی نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔یہ مفاہمتی یادداشت گلگت بلتستان میں جدید ای۔پروکیورمنٹ نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے سرکاری خریداری کے تمام مراحل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور قابلِ نگرانی بنایا جا سکے گا، اور گڈ گورننس و شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ میں معاونت حاصل ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button