حکومتِ گلگت بلتستان کے محکمہ واٹر اینڈ پاور نے بونجی کمیونٹی کے ساتھ 150 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ کے لیے ایک اہم سہ فریقی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب چیف سیکریٹری آفس گلگت میں منعقد ہوئی، جو خطے میں 58 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کی تنصیب کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ یہ گرڈ سے منسلک منصوبہ استور، گلگت، غذر، نگر اور ہنزہ اضلاع کو صاف اور سستی بجلی فراہم کرے گا، جس سے لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئے گی۔ 24 ارب روپے کی لاگت سے وفاقی حکومت کے تعاون سے شروع کیا جانے والا یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں شمسی توانائی کے منصوبے قائم کرنے کے جامع پروگرام کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 18 میگاواٹ کے روف ٹاپ سولر پراجیکٹ کے ٹینڈرز کا عمل جاری ہے، جبکہ باقی 82 میگاواٹ کے منصوبوں کے ٹینڈرز آئندہ تین ماہ میں جاری کیے جائیں گے۔
بونجی کمیونٹی کے تعاون کے اعتراف میں معاہدے میں اہم مراعات بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور بونجی داس کے بنجر علاقوں کی آبپاشی کے لیے آبی چینلز کی تعمیر شامل ہے، جس سے مقامی سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈیویلپمنٹ) گلگت بلتستان، مشتاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بونجی کمیونٹی کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کے تمام جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے حکومت پوری طرح پرعزم ہے۔ یہ شراکت داری گلگت بلتستان میں پائیدار توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس تقریب میں سیکریٹری محکمہ واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان صفدر خان، ڈپٹی کمشنر استور اویس عباسی، ڈپٹی سیکریٹری محکمہ واٹر اینڈ پاور عبدالباقی اور بونجی کے عمائدین نے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی ہدایات پر محکمہ واٹر اینڈ پاور میوٹیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈیز کا آغاز کیا جائے گا۔






