اسلام آباد وفاقی دارالخلافہ ایک مکمل ضلع کا درجہ رکھتا ہے۔جو پنجاب کے اضلاع کے جھرمٹ میں خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور ہزارہ سے متصل ہے۔یہ ضلع تقریبا906 مرربع کلو میٹر پر محیط ہے۔جس کا صرف 206مربع کلو میٹر رقبہ اربن ہے۔ دیگر دیہی علاقوں کے لا تعداد موضع جات پر مشتمل ہے۔جو ماضی میں یونین کونسلوں کے دائرہ کار میں شامل تھا اور اب بھی ہے۔اس ضلع میں تین قومی اسمبلی کی نشستیں اور دو سینٹ کی سیٹیں ہیں۔جب سے اس کا قیام ہو ا۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(CDA) وفاقی وزارت داخلہ کے تحت اس کے جملہ انتظامات اور ٹاؤن پلاننگ اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی کے انتظامات کرتی آئی ہے۔یہاں سبھی اعلی شخصیات انتظامیہ،عدلیہ اور مقننہ سے تعلق رکھنے والوں کو پلاٹ الاٹ ہوتے آئے ہیں۔اور گزشتہ 30سالوں سے ارد گرد زرعی زمینوں کی جگہ رہائشی کالونیاں تعمیر ہو رہی ہیں۔شہر میں بعض اہم علاقہ جات جیسے عسکری محکموں کے ہیڈکوارٹرز،عالمی مشن اور سفارت خانے،پارلیمنٹ،وزارا،جج کالونیاں وغیرہ بھی ہیں،جن کے خصوصی انتظامات الگ سے ہوتے ہیں۔کافی بڑا علاقہ رہائشی ہے جس کا میونسپل سہولیات سے پہلےCDA کے ذریعہ ہی سرانجام دی جاتی رہی ہیں۔2001ء میں یہاں بھی مقامی حکومتی نظام لانے کی کوشش ہوئی تھی مگر کامیابی2015 ء میں ہوئی۔جب یہاں ICT لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 ء لاگو ہوا،اور الیکشن منعقد کرائے گئے۔اورCDA کے میونسپل ایڈمنسٹریشن یونٹ کوICT میٹروپولیٹن کے زیر تحویل دیا گیا۔تا ہم ٹاؤن پلاننگ اور انفراسٹرکچر پھر بھیCDA کے دائرہ عمل میں برقرار رہا۔اسلام آباد کے لئے لوکل گورنمنٹ انتخابات گزشتہ5 سالوں سے التواء کا شکار ہیں۔الیکشن شیڈول کئی بار جاری کیا اور غیر موثر ہوا،اب پھر1 فروری2026ء کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں۔125 یونین کونسلوں کے لئے امیدواروں کی ابتدائی سکروٹنی مکمل ہو چکی ہے۔31دسمبر کو فائنل امیداواروں کا اعلان ہونا تھا۔کہ اسلام آباد کی لوکل گورنمنٹ میں تنظیمی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔حالانکہ میٹروپولیٹن کا دائرہ کار تو پہلے ہی محدود تھا۔میٹروپولیٹن اورCDA کے مابین انسانی ذرائع کے حوالہ سے تنازعات تو پہلے ہی موجود ہے۔دائرہ اختیار انتہائی محدود ہے اب اسے بالکل ہی ختم کر دیا گیا،ٹاؤنز بنا دئیے گئے ہیں۔جن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر اور جنرل ممبران جو یونین کونسلوں کے چیئرمین ہونگے۔ اور مخصوص نشستیں 4 خواتین،ایک ایک مزدور/ کسان،یوتھ،نان مسلم اور ٹریڈ یا کاروباری فرد شامل ہونگے۔ اور حکومتی کنٹرول کو مزید سخت اور موثر کرنے کے لئے ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری ایک دفعہ6ماہ کے لئے اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔مخصوص نشستوں اور میئر وغیرہ کا انتخاب پھر شو آف ہینڈ کے ذریعہ(آئین کے آرٹیکل226 کے برعکس) اور پارٹی وابستگی کو مبہم رکھا گیا ہے۔جبکہ دائرہ کار اور فنکشنز کو حسب سابق محدود رکھا گیا ہے۔یہ سب کچھ ایک آرڈیننس کے ذریعہ کیا گیا ہے۔جسے پارلیمنٹ میں ابھی پیش ہونا باقی ہے۔یہ سارا کچھ انتخابی عمل کو ہی غیر موثر،غیر شفاف اور غیر جمہوری بنانے کے مترادف ہے۔کیونکہ پہلے الیکشن شیڈول اسلام آباد میٹرولیٹن کے لئے مقررہ125 یونین کونسلوں کے لئے اب انتظامی تبدیلیوں سے الیکشن متاثر ہو گئے۔قیاس آرائی ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔صاف ظاہر ہے کہ پس پردہ سیاسی محرکات ہیں۔اپوزیشن نے تو اس سارے انتخابی عمل سے ہی کنارہ کشی کر لی ہے۔جو بھی تشویشناک رجحان ہے۔مقامی حکومتوں کو نقصان ہی ہوتا ہے۔ایسے رویہ جات سے جب حکومت اپوزیشن کسی انتخابی معرکے میں ایک ہی صفحہ پر بضد ہوں تو انتخابات کا مقصد ہی کمزور پڑ جاتا ہے۔یہ سارا ڈرامہ عین اس وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں اختیارات کو تین سطحی حکمرانی پر منتقل کرنے کے حوالہ سے(سمٹ)کانفرنس ہو رہی ہے۔اور اس کے مہمان خصوصی قائم مقام صدر ہیں۔جو خود بھی لوکل گورنمنٹ سے ہی مرکزی سیاست میں آئے تھے۔یہ’سمٹ‘کیا نتیجہ برآمد کرے گی۔جب پارلیمنٹ کی موجودگی میں ایک آرڈیننس کے ذریعہ پارلیمنٹ کے ایکٹ میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کر دی جائیں اور انتخابی شیڈول کو ہی متاثر کرنے والا قانونی اقدام مجموعی ملکی جمہوریت میں کیانشاندہی کرتا ہے۔
اسلام آباد وفاقی دارلخلافہ ہے۔ظاہر ہے یہاں مقامی حکومت کو وفاقی حکومت کے فریم ورک میں ہی کام کرنا ہو گا۔اس لئے دائرہ کار اور فرائض،اختیارات کے حوالہ سے ایک خصوصی اہمیت تو پہلے ہی چلی آ رہی ہے۔اسے تو کبھی ایڈریس نہیں کیا گیا۔CDA جب سے قائم ہے اس کے دائرہ عمل سے ماورا اقدامات تو دیکھے جا سکتے ہیں۔مگر اس کے دائرہ اختیار کو نیچے یا مقامی حکومتوں کی طرف کبھی بھی مکمل طور پر منقل نہیں کیا گیا اور یہ ہی اصل سوال ہے جن کا جواب اس”سمٹ کانفرنس“ کے شرکاء کو ڈھونڈنا چاہیے۔مقامی حکومتوں کی تشکیل اور دائرہ اختیار تو پورے ملک میں ہی آئین میں بیان کردہ فریم ورک کی مطابقت میں نہیں ہے۔ملک بھر میں ایک مضبوط نکتہ نظر مقامی حکومتوں کے دائرہ کار اور حق اختیارات میں اضافہ کا متقاضی ہے اور اس فضا میں ایسے اقدامات مسائل میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔






