غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کی شکایات،کے ایم سی کا کراچی بھر میں کچی آبادیوں کی زمین کا جامع سروے کا فیصلہ

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر بھر میں کچی آبادیوں کی زمین کا جامع ری سروے اور ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ کچی آبادی قرار دی گئی زمین پر سنگین خلاف ورزیوں پر کیا گیا ہے، ان زمین میں پیٹرول پمپس، بلند و بالا عمارتوں اور بڑے پیمانے پر کمرشل سرگرمیوں کا قیام شامل ہے، اس بات کا فیصلہ کے ایم سی ہیڈ آفس میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیرِ صدارت محکمہ کچی آبادی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں موصول ہونے والی متعدد شکایات کا جائزہ لیا گیا جن میں بعض الاٹیوں کی جانب سے کچی آبادیوں کی زمین کے غلط استعمال اور سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کچی آبادیوں کے علاقوں میں پیٹرول پمپس، کثیر المنزلہ عمارتوں اور کمرشل مارکیٹس جیسے اعلیٰ درجے کے کاروباری منصوبوں کے قیام پر شدید تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے ان سرگرمیوں کو کچی آبادی قوانین، قواعد و ضوابط اور الاٹمنٹ کے اصل مقصد کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور واضح کیا کہ کچی آبادیاں کم آمدنی والے افراد کو سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھیں، نہ کہ کمرشل استحصال کے لیے،

میئر کراچی نے سینئر ڈائریکٹر کچی آبادی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر تمام متعلقہ کچی آبادیوں کی زمین کا تفصیلی سروے کیا جائے۔ سروے میں زمین کے ریکارڈ، الاٹمنٹس، موجودہ استعمال اور جاری سرگرمیوں کی نوعیت کی تصدیق کی جائے، انہوں نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے اور تمام کیسز کا ازسرِنو جائزہ متعلقہ قوانین و ضوابط کے عین مطابق لیا جائے، میئر کراچی نے محکمہ کچی آبادی کے موجودہ فیس اسٹرکچر پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمین، ریگولرائزیشن اور تجدید کی موجودہ فیسیں مارکیٹ ریٹس کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں اور سرکاری زمین کی حقیقی قدر کی عکاسی نہیں کرتیں، انہوں نے اس تفاوت کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے فیس اسٹرکچر میں نظرثانی اور اسے معقول بنانے کی ہدایت بھی کی، میئر کراچی نے کہا کہ اس اقدام سے شفافیت اور انصاف کو فروغ ملے گا اور شہر کے لیے اضافی آمدنی حاصل ہوگی جسے ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کی بہتری پر خرچ کیا جا سکے گا، اجلاس کے دوران میئر کراچی کو بریفنگ دیتے ہوئے سینئر ڈائریکٹر کچی آبادی نے بتایا کہ محکمے نے رواں مالی سال کے گزشتہ چھ ماہ کے دوران ریکارڈ ریکوری حاصل کی ہے، انہوں نے بتایا کہ 65 ملین روپے سے زائد کی وصولی کی گئی ہے جو محکمے کی تاریخ کی بلند ترین ریکوری ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سالانہ ریکوری اہداف سے بھی تجاوز کیا جائے گا، سینئر ڈائریکٹر نے کچی آبادی ریکارڈ کی ڈیجیٹل لائزیشن کے عمل سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ عمل آخری مراحل میں ہے، اس کی تکمیل کے بعد ڈیجیٹل نظام کچی آبادیوں کی زمین کو جدید، شفاف اور مؤثر انداز میں محفوظ بنانے میں مدد دے گا جس سے تجاوزات، غیرقانونی منتقلیوں اور ریکارڈ میں ردوبدل کے خطرات میں نمایاں کمی آئے گی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے محکمے کو اپنی ادارہ جاتی اور ساختی صلاحیت بڑھانے کی بھی ہدایت دی، جس میں مختلف ونگز کو مضبوط بنانا، باہمی رابطہ بہتر کرنا اور تکنیکی و انسانی وسائل کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے تاکہ پالیسیوں اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے، اس کے علاوہ میئر کراچی نے جدید طرز کے ہاؤسنگ منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی غیر رسمی آبادیوں کو منصوبہ بند اور سہولتوں سے آراستہ بستیوں میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے بینکاک اور جکارتہ جیسے شہروں کے کامیاب اربن رینیول ماڈلز کا حوالہ دیا اور کہا کہ کچی آبادیوں میں رہائشی حالات کی بہتری شہر کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

جواب دیں

Back to top button