پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری پروگرام ابتدا میں ناکامی سے دوچار،یوسی سیکرٹریز پانچ ماہ سے تنخواہوں سے محروم،تفصیلی رپورٹ

لاہور(بلدیات ٹائمزرپورٹ)پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری پروگرام اداروں میں کوآرڈینیشن کے فقدان کی نذر ہو گیا ہے۔محکمہ تعلیم کا مکمل تعاون نہ ہونے کے باعث بیشتر یونین کونسلوں میں اساتذہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔یونین کونسلوں میں معلوماتی کاونٹر نہ دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا سکی ہیں۔لاہور میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے جہاں یونین کونسلوں کے سیکرٹریز ، نائب قاصدوں،چوکیداروں کو پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔محکمہ خزانہ پنجاب کی طرف سے باقاعدگی سے یونین کونسلوں کو ماہانہ 3 لاکھ روپے فی یوسی پی ایف سی نان ڈویلپمنٹ شیئر جاری کیا جا رہا ہے لیکن ڈپٹی کمشنر کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے یونین کونسلز کو چیک جاری نہیں ہو رہے جس کی وجہ چیک پر ڈپٹی کمشنر کے دستخط نہ ہونا ہے یہ صورتحال ایک سال سے زائد عرصہ سے چل رہی ہے جس کی وجہ سے یونین کونسلز پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری پروگرام میں عملہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔لاہور میں 274 میں سے 174 یونین کونسلیں کرائے کے دفاتر میں ہیں جن کا یوسی سیکرٹری کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔جن چند یونین کونسلز کے پاس بجٹ دستیاب تھا وہ عملہ نے تنخواہوں میں ختم کر دیا ہے۔وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے آئے روز نیا پروگرام متعارف کروانے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنرز بھی ابہام کا شکار ہیں کہ کس کو پہلے فوکس کیا جائے اس لئے صرف تشہیر ،تصاویر اور الیکٹرانک وسوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کر کے پنجاب حکومت کو مطمین کیا جا رہا ہے۔پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری پروگرام موبلائزیشن کمیٹیز کے لئے ڈپٹی کمشنرز کو اختیارات دے دیئےگئےہیں جو فعال نہیں کی جا سکیں ہیں۔پنجاب حکومت فیصلہ کر چکی ہے کہ

معاشی اور معاشرتی حوالے سے لوگوں کی رجسٹریشن موبلائزیشن کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی اس سلسلہ میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق موبلائزیشن کمیٹی کا کنوینر سیکرٹری یونین کونسل ہوگا کمیٹی ممبران میں نمبردار ، ہیڈ ٹیچر، پیش امام

مذہبی اقلیت کا نمائندہ محکمہ صحت کا نمائندہ اور دیگر ضروری شخص شامل ہے۔اس کمیٹی کے نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنرز کا ذمہ ہیں ۔جس کے تحت کسان کارڈ ہمت کارڈ رمضان پیکج وغیرہ یا اس طرح کا کوئی بھی پروگرام میں لوگوں کی ان رولمنٹ کی جائے گی ۔اس طرح شہریوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا تاکہ حکومت ٹارگٹڈ معاشرتی اہداف حاصل کر سکے۔مزید برآں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا بھی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔یہ بات اہم ہے کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پنجاب حکومت کی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور ایک اہم اجلاس میں چیئرپرسن بے نظیر انکم۔سپورٹ پروگرام روبینہ خالد کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جو نہ صرف اس پروگرام کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لئے اقدامات کریں گی بلکہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے مستحق افراد کے ڈیٹا میں کسی قسم کی تبدیلی سے بھی آگاہ کریں گی۔

جواب دیں

Back to top button