پاکستانی لوکل گورنمنٹ ماڈلز میں روز اول سے مارکیٹ کمیٹیاں ایک اہم فنکشن رہی ہیں۔میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلوں کے ماڈل میں بنیادی جمہوریتوں کے زمانے سے ہی مارکیٹ کمیٹیاں منتخب افراد پر مشتمل ہوا کرتی تھیں۔جن میں سرکاری اور انتظامی افسران بھی بطور اراکین شامل ہوتے تھے۔بلکہ ملک کے کئی حصوں میں جب باقاعدہ مقامی حکومتیں بھی نہیں ہوا کرتی تھیں اور یہ میونسپل اداروں کا اہم فنکشن ہوا کرتا تھا۔مارکٹ کمیٹیوں میں اجناس،اشیائے خوراک کی قیمتوں کا تعین طلب اور رسد کے توازن سے آڑھتی خود مشاورت سے طے کرتے تھے۔اور پھر آہستہ آہستہ انتظامی افسران اور حکومت نے مہنگائی،منافع اور ذخیرہ اندوزی کے خطرات،اندیشوں کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ قیمتوں کا تعین شروع کر دیا۔جو آہستہ آہستہ ریگولیٹری انداز اختیار کرتا گیا۔اور اب مارکیٹ کمیٹیاں محض انتظامی یونٹ کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔نہ تو ان کے انتخابات ہوتے ہیں اور نہ ہی قیمتوں کے تعین میں ان کا کوئی کردار ہوتا ہے۔ اب سبزیوں،پھلوں اور اجناس کی قیمتوں کا تعین حکومتی سطح پر ہوتا ہے بلکہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں بھی براہ راست اثرات مرتب کرتی ہیں۔بڑے شعبہ جات،پانی،انرجی،تیل گیس،بجلی،پٹرول،ڈیزل کا تعین تو کیا جاتا ہے۔ساتھ ہی امپورٹ ایکسپورٹ پالیسیاں اور ایکسائیز ڈیوٹی،جنرل سیلز ٹیکس بھی قیمتوں کے تعین میں اثر انداز ہوتے ہیں۔اب یہ سارا میکنیزم اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے۔آخری سطح کا صارف ہر قسم کے ٹیکس کرنسی میں رد بدل ہر پالیسی کے اثرات براہ راست عوام کی نچلی پرت تک متاثر کن ہوتے ہیں۔ باقی تو مان لیا کہ مقامی سطح پر کچھ نہیں ہو سکتا۔لیکن روز مرہ اشیائے خود و نوش کا تعین جو روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے وہ بھی مروجہ قواعد کے برعکس ہیں۔ہر دوکان،ٹھیلہ اور چھابڑی پر سرکاری نرخ نامہ آویزاں کرنا ضروری ہوتا ہے۔جس کی عدم موجودگی میں جرمانہ سزا ہو سکتی ہے۔اور یہ نرخنامے انتظامی افسران جاری کرتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ کونسا اصول ہے جس کے تحت روزانہ پھلوں اور سبزیوں کے نرخ طے کئے جاتے ہیں۔یا جو ارگرد اہل کار یا ہر کارے ہوتے ہیں ان کی اطلاعات پر نرخوں کا تعین ہو جاتا ہے۔جس کی فوٹوں کاپی آپ کو ہر جگہ لٹکی نظر آتی ہے۔اس پر اعلی افسران کا حکم نامہ بھی ہو گا۔ مگر دوکاندار جو اس نرخنامے پر فروخت کرے گا وہ چھانٹی شدہ مال ہو گا۔جبکہ اعلی کوالٹی کو مہنگے داموں فروخت کیا جائے گا۔جو منہ مانگا بھی نہیں ہوتا۔کیونکہ مقابلہ بھی ہوتا ہے۔یہ کوئی ایک شے کے حوالہ سے نہیں ہے جبکہ دودھ بھی خالص،سو فی صد خالص اور اللہ کی قسم خالص،تین کوالٹیاں برسر عام ہیں۔اسی طرح ڈی سی ریٹ کی سبزیاں اور پھل اگر رکھے جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر ہماری پریکٹس یہ ہے تو نرخوں کا تعین ایسے کیوں کر جاری رکھا گیا ہے۔
آج کل پنجاب میں حکومت بلکہ چیف منسٹر صاحبہ نے ایک ایم پی اے کو اختیار دے رکھا ہے جو سرکاری مقرر کردہ نرخوں سے ہٹ کر فروخت کنندہ کے خلاف تا دیبی کاروائی بھی کر رہی ہوتی ہیں۔اگر ذرائع ابلاغ میں ان کی پرفارمنس دیکھیں۔جو بہت محنت اور سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔مگر کوئی ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی،جہاں مقررہ نرخوں پر فروخت جاری ہو،وہ اسے سیل بھی کرتی ہیں۔جرمانہ بھی ہوتا ہے۔شاید ایک آدھ گرفتاری بھی ہو جائے۔مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ محض نگرانی ہے یا ایک غیر حقیقی انداز میں قیمتوں کو متعین کرنا ہے۔یہ بات درست ہے کہ حکومتی سطح پر چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ ساتھ نگرانی اور نفاذ قانون ضروری ہونا چاہیے۔جس کے لئے نئی طرح کے قواعد اور قوانین ہیں۔ریگولیٹری ہدایات بھی جاری ہوتی ہیں۔لیکن سبزیوں پھلوں گوشت اور دودھ دہی یعنی ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی سیل خریدو فروخت کو آزاد منڈی کے مروجہ قوانین اور رواج کے تحت ہی ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔جس کے لئے بہترین انتظامی شکل مارکیٹ کمیٹیاں ہیں۔پنجاب کے لوکل گورنمنٹ قانون مجریہ2025ء میں مقامی حکومتوں کا ایک طے شدہ فنکشن پبلک مارکیٹ،بازاروں کی مینجمنٹ اور ترقی بھی ہے۔اور اس کی بہترین شکل ممبران پر مشتمل منتخب مارکیٹ کمیٹیاں ہیں جیسے چیمبر آف کامرس ہوتے ہیں۔اور یہ مارکیٹ کمیٹیاں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کریں اور عمل درآمد کرائیں،یہ زیادہ دیرپا اور پائیدار طریقہ ہو گا۔جبکہ حکومت غیر قانونی نقل حرکت،دخیرہ اندوزی کو ضروری مانیٹر بھی کرے اور روک تھام کا تدارک بھی کرے۔مگر روزانہ کی قیمتوں کا تعین منتخب مارکیٹ کمیٹیوں پر چھوڑا جائے۔





