*وزیراعلیٰ سندھ نے 13 سے 19 اپریل تک صوبے بھر میں انسداد پولیو مہم شروع کرنے کی ہدایت کردی*

حکومت سندھ نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت رپورٹ کی ہے جہاں 76 فیصد ماحولیاتی نگرانی کے مقامات (انواٸرمنٹل سرویلنس سائٹس) پر پولیو وائرس منفی پایا گیا ہے جو گزشتہ تین برسوں میں سب سے بڑی بہتری ہے۔یہ پیش رفت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس میں شیئر کی گئی جس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں کی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، سینئر انتظامی افسران، بین الاقوامی شراکت داروں کے نمائندگان اور ضلعی حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ 13 سے 19 اپریل 2026 تک صوبہ بھر میں قومی انسداد پولیو مہم (نیشنل امیونائزیشن کیمپین) شروع کی جائے جس کا ہدف 30 اضلاع اور 1,708 یونین کونسلز میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 1 کروڑ 5 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نگرانی کے نتائج میں نمایاں بہتری آئی ہے جہاں 29 میں سے 22 مقامات پر نتائج منفی آئے ہیں جبکہ گزشتہ سال مارچ میں تمام مقامات مثبت تھے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو فیلڈ آپریشنز کی مضبوطی، بہتر نگرانی اور مؤثر رپورٹنگ نظام کا نتیجہ قرار دیا، تاہم اس رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انچارج ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی ڈویژن میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جہاں 12 میں سے 10 سائٹس اب منفی ہو چکی ہیں۔ دیگر ڈویژنز میں بھی مسلسل پیش رفت سامنے آئی ہے جبکہ سکھر ڈویژن نے مکمل طور پر منفی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ گھوٹکی، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، حیدرآباد، دادو، سجاول، جامشورو اور شہید بینظیر آباد سمیت کئی اضلاع مسلسل کئی ماہ سے منفی نتائج برقرار رکھے ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ سال 2026 میں سندھ میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 9 تھی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہائی رسک علاقوں میں نگرانی اور ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔آئندہ مہم کے لیے جامع آپریشنل پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کے تحت 73,824 فرنٹ لائن ورکرز، 8,354 ایریا انچارجز اور 1,713 یونین کونسل میڈیکل آفیسرز صوبہ بھر میں ویکسینیشن سرگرمیاں انجام دیں گے۔کراچی میں سب سے بڑی تعیناتی کی جائے گی، جس کے بعد حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژنز شامل ہیں۔ سکیورٹی کے لیے 22,290 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 24,000 سے زائد اہلکار فیلڈ آپریشنز میں معاونت کریں گے۔ 2,349 خواتین پولیس اہلکار بھی حساس اور دور دراز علاقوں میں تعینات ہوں گی تاکہ گھر گھر رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مکمل کوریج حاصل کرنے کے لیے افرادی قوت اور سکیورٹی انتظامات نہایت اہم ہیں اور تمام محکموں کو مؤثر عملدرآمد کے لیے قریبی رابطہ یقینی بنانا ہوگا۔اجلاس میں پولیو پروگرام میں جاری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں بہتر تربیت، نگرانی کے مضبوط نظام اور ڈیٹا کوالٹی آڈٹس شامل ہیں۔ بعض اضلاع میں باقی رہ جانے والے خلا کو دور کرنے کے لیے خصوصی رسپانس ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل نگرانی، جوابدہی اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

جواب دیں

Back to top button