لیاری میں ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا، وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے تقریب میں شرکت کی۔ 25 ارب 28 کروڑ روپے لاگت کے اس منصوبے کے تحت سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی اور بیوٹیفکیشن شامل ہیں۔ حکام کے مطابق منصوبہ چار سال میں مکمل ہوگا جبکہ پہلے فیز پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب آج لیاری میں منعقد ہوئی جس میں وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ صوبائی اسمبلی، پارٹی رہنما، بلدیاتی نمائندے اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ لیاری کراچی کا ایک اہم اور تاریخی علاقہ ہے جسے ماضی میں نظر انداز کیا گیا، تاہم موجودہ حکومت اس کی مکمل بحالی اور ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ علاقے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور اس سے شہریوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔حکام کے مطابق اس میگا منصوبے کی مجموعی لاگت 25 ارب 28 کروڑ روپے رکھی گئی ہے جبکہ اسے چار سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا اور 2029 تک اس کی تکمیل متوقع ہے۔ منصوبے کا پہلا فیز پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے جس میں بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔پروجیکٹ کے تحت لیاری میں جدید طرز کی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی اور پورے علاقے میں سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نئی واٹر لائنز بچھائی جائیں گی اور پرانی لائنز کی مرمت کی جائے گی تاکہ پانی کی قلت کا مستقل حل نکالا جا سکے۔نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت نئی سیوریج لائنز بچھائی جائیں گی اور موجودہ نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسائل کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اسی طرح برساتی نالوں کی صفائی اور بہتری کے لیے بھی جامع اقدامات کیے جائیں گے۔منصوبے میں زیرِ زمین کیبلز کی ترتیب کو بہتر بنانے کا بھی منصوبہ شامل ہے جس سے نہ صرف بجلی کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ لیاری کے لیے ایک مکمل بیوٹیفکیشن پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت پارکس، گرین بیلٹس اور دیگر عوامی مقامات کو بہتر بنایا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر وزیر بلدیات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز رکھا جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل ہو سکے اور لیاری کے عوام کو اس کے ثمرات جلد از جلد مل سکیں۔





