*میئر کراچی بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے مالی سال 2026-27 کیلئے بلدیہ عظمٰی کابجٹ پیش کر دیا*

بلدیہ عظمٰی کراچی کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے کہا کہ میرے لئے یہ بات باعث اعزاز ہے کہ آج میں اپنے دور کا تیسرا بجٹ معزز کونسل کے سامنے پیش کر رہا ہوں، میں نے گزشتہ مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کی تیاری میں بھی عوام کے مسائل، شہر کی تعمیر و ترقی اور بلدیاتی مسائل کے حل کو اولیت دی اور ہرممکن کوشش کی کہ ماضی کے ادوار کے مسائل کے انبار کے باوجود اس مرتبہ ایک بار پھر ایک متوازن شہر کے مسائل کے حل کے عین مطابق اور شہر کے انفراسٹرکچر سمیت دیگر مسائل کے حل کو ہی بجٹ میں سرفہرست رکھا جائے تاکہ پاکستانیوں کی بہتر سے بہتر خدمت کی جاسکے۔معزز ممبران۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو کراچی میں بلدیاتی سطح پر پہلی مرتبہ عوام نے منتخب کرکے ایک تاریخ ساز موقع فراہم کیا ہے اور پارٹی کے منشور کے تحت ہم نے کراچی کے عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ترجیحات میں کراچی کی عوام کی خدمت اور شہر کی تعمیر اور اسے بین الاقوامی شہر بنانا شامل ہے۔میں معزز کونسل کے سامنے کراچی میں مکمل کئے گئے اہم اور ضروری کاموں کا ذکر کروں گا جو ہم نے گزشتہ سال انجام دیئے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ کراچی کی تعمیر و ترقی، بہتری کے زمرے میں شہریوں نے سراہا، گو کہ تنقید نگاروں نے ہرممکن کوشش کی کہ ان کاموں کو مفاد عامہ کے خلاف قرار دیا جائے لیکن اس ترقیاتی کام اپنی مثال آپ ہیں اور شہر کا انفرااسٹرکچر بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ شہر کے تاریخی ورثے اور دیگر سہولیات سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔

انفرااسٹرکچر /سڑکوں اور پلوں کی تعمیر:

شہر کی تعمیر و ترقی، بہتری، انفرااسٹرکچر کی بحالی، پلوں، فلائی اوورز کی تعمیر، تزئین و آرائش بلاامتیاز و تفریق شہر کے تمام اضلاع میں انجام دیئے جائیں گے، بعض وہ گلیاں یا سڑکیں جو کے ایم سی کی حدود میں نہیں آتی تھیں عوام کو سہولت پہنچانے کے لئے تعمیر کی گئیں، میں یہاں اگر انفرااسٹرکچر کے حوالے سے مجموعی صورتحال سے کونسل کو آگاہ کرنا چاہوں گا۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں 3192620 اسکوائر فٹ پیچ ورک کیا گیا۔ 12331548 اسکوائر فٹ پیور بلاک (Paver Block) لگائے گئے۔اسی طرح 402210 رننگ فٹ سیوریج ورک مکمل کیا گیا۔ فٹ پاتھ ورک بھی بڑے پیمانے پر انجام دیا گیا۔ جو 99450 رننگ اسکوائر فٹ بنتا ہے۔ 477980 رننگ فٹ کرب بلاک (Kerb Block) لگائے گئے۔475900 رننگ کلرنگ (Colouring) کا کام انجام دیا گیا۔نرسری فلائی اوور کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کی گئی۔اسٹون سرکل کی تزئین و آرائش کی گئی۔ضلع ملیر میں خالد بن ولید روڈ کی تعمیر کی گئی جس سے ملیر ضلع کے عوام کو سفری سہولتیں میسر آئیں۔ 93روزہ ریکارڈ مدت7 میں عظیم پورہ فلائی اوور تعمیر کیا گیا جس سے شاہ فیصل کالونی پر ٹریفک کے دباؤ اور شاہراہ بھٹو سے ایئر پورٹ جانے7 والے شہریوں کو سہولت میسر آئے گی۔شہید ملت روڈ کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی گئی۔ جناح برج کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش عمل میں لائی گئی جس سے عوام کو سہولت ملنے کے ساتھ ساتھ بھاری ٹریفک کے گزرنے میں بھی آسانی میسر آئی۔

جی آئی ایس میپنگ (GIS Maping):

اگلے مالی سال کے بجٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ جی آئی ایس میپنگ کی جائے، کے ایم سی کے تمام پارکس، دفاتر، پلے گراؤنڈز، قبرستان، کھیلوں کے میدان، لائبریریاں، سفاری پارک، چڑیا گھر دیگر تمام غیرمنقولہ اثاثہ جات / جائیدادوں کی جی آئی ایس میپنگ کرائی جائے گی۔ خاص طور پر ڈیڑھ سو سال پرانا لینڈ ریکارڈ جو اب کافی بوسیدہ ہوچکا اس کی جی آئی ایس میپنگ انتہائی ضروری ہے، اس لئے تجویز ہے کہ7 ڈیجیٹل آرکائنگ کرائی جائے جس کی مدد سے کم و بیش ایک کروڑ سے زیادہ صفحات کو اسکین کرکے محفوظ کیا جاسکے گا تاکہ ریکارڈ میں کسی قسم کی ردوبدل ممکن نہ ہوسکے جبکہ عوام کو میوٹیشن، ٹرانسفر اور دیگر امور پر آسانی ہوگی۔

ملازمین کی فلاح و بہبود:

افسران و ملازمین کی پنشن کی سیپ (SAP) پر منتقلی:

گزشتہ سال افسران و ملازمین کی تنخواہوں کو ورلڈ بینک کے پروجیکٹ سیپ (SAP) پر منتقل کیا گیا تھا جو کامیابی سے جاری ہے اس سال ریٹائرڈ افسران و ملازمین کی پنشن بھی (SAP) پروگرام پر منتقل کی جائیں گی جس کے باعث افسران و ملازمین کو تنخواہوں کی طرح پنشن کی بروقت اور محفوظ ادائیگی ممکن ہوسکے گی اور کسی بھی افسر یا ملازم کے ریکارڈ میں ردو بدل ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان بھر میں بلدیہ عظمیٰ کراچی پہلی کونسل ہے جس نے افسران و ملازمین کو تنخواہیں اور اب پنشن کو سیپ (SAP) پر منتقل کیا ہے جو ہم سب کیلئے باعث اطمینان ہے۔

معزز ممبران کونسل:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران جہاں ترقیاتی کام انجام دیئے وہاں ملازمین کی فلاح و بہبود کو بھی مد نظر رکھا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پچیس سال کے بعد ایک تاریخی اور بے مثال کارنامہ یہ انجام دیا کہ ملازمین کی تنخواہیں اب ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے قبل ادا کردی جاتی ہیں۔ یہ اہم کامیابی ملازمین کے حقوق اور فلاح کو یقینی بنانے کے وسیع تر وژن اجلاس حصہ ہے۔ جنہیں گزشتہ تین دہائیوں سے تنخواہوں کی تاخیر کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ تمام ریٹائرڈ ملازمین کو لیو انکیشمنٹ ادا کردیا گیا ہے۔ محکمہ فنانس میں آنے والے عباسی شہید اسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کے بقایا جات بھی ادا کردیئے گئے ہیں۔ دوہری تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی نشاندہی کرکے ان کی تنخواہیں ختم کردی گئی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نئے مالی سال 2026-27 میں ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات اور حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے7 کو بھی مدنظر رکھا جائے اور کوشش ہوگی کہ بقایا جات کی ادائیگی اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے لئے مالی وسائل درکار ہوں گے میں بحیثیت حکومت سندھ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں فنڈز فراہم کریں تاکہ ان ادائیگیوں کو یقینی بنایا جاسکے۔پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ محنت کش طبقے کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ محکمہ فائربریگیڈ ایمرجنسی رسپونس سینٹر جنہیں ملازمین کو 24 سال بعد ٹائم اسکیل کا اجراء کیا گیا۔ محکمہ فائربریگیڈ کے وہ ملازمین جنہوں نے دہائیوں تک بغیر کسی ترقی کے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر اپنی جانیں دیں یہ ان کی قربانی کا اعتراف تھا۔ گزشتہ 24 سال سے ترقی کے منتظر بی پی ایس۔6 کے لائف گارڈز کو تسلیم بخش کارکردگی کے بعد بی پی ایس۔9 میں ترقی دی گئی۔

شہر کے نظم و نسق کو موثر بنانے اور بلدیاتی خدمات کو مزید بہتر کرنے کے لئے کے ایم سی کے مختلف محکموں میں نئی ہیوی وہیکلز کے بیڑے کو شامل کیا گیا ہے، ان وہیکلز کی خریداری پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل کی جانے والی رقم سے کی گئی۔ جس کے تحت ماؤنٹ ٹرکس سمیت ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں کے لئے 110 ملین روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ گاڑیاں محکمہ انجینئرنگ، محکمہ اینٹی انکروچمنٹ، محکمہ پارکس اور محکمہ ویٹرنری سروسز کے حوالے کی گئیں جس سے بلدیہ کے ملازمین کو اپنی خدمات میں آسانی میسر آئی۔اسی طرح کے ایم سی کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈسپیج رائیڈرز میں 20 الیکٹرک بائیکس تقسیم کی گئی ہیں، یہ ماحولیاتی تبدیلی اور کاربن کے اخراج میں بھی موثر حکمت عملی ہے۔ کے ایم سی پاکستان کی واحد کونسل ہے جس نے ملازمین کو بجلی سے چلنے والی بائیکس دی ہیں۔ 150کلو واٹ سولر پاور سسٹم کے ایم سی ہیڈ آفس میں نصب کیا گیا ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر بھی چارجنگ اسٹیشنز بنانے کی تجویز ہے۔شہر کے انفراسٹرکچر کے تحفظ اور غیرقانونی سرگرمیوں کے روک تھام کے لئے کے ایم سی ویجی لینس اسکواڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ تاکہ شہر کے انفرااسٹرکچر، اسٹریٹ لائٹس، تاروں اور دیگر سرکاری املا ک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو روکا جاسکے۔ اس سلسلے میں کے ایم سی ویجی لینس اسکواڈ میں الیکٹرک بائیکس تقسیم کی گئی ہیں۔ ماضی میں سٹی وارڈنز کو غیر متعلقہ ڈیوٹیوں پر لگا دیا جاتا تھا ان کی موبائل گاڑیوں کے استعمال سے پیٹرول کے اخراجات بھی بڑھتے تھے۔ اس سے الیکٹرک بائیکس سے نہ صرف پیٹرول کی بچت ہوگی بلکہ ملازمین کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔

افسران و ملازمین کی میڈیکل انشورنس اور کارڈ کا اجراء:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران تقریباً ساڑھے گیارہ ملازمین کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کردی ہے جس کا باقاعدہ اجراء 21 مئی 2026 سے کردیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا بلدیاتی ادارہ جہاں میڈیکل انشورنس پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ ماضی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین کو علاج معالجے کے لئے سفارش کروانا پڑتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا بلکہ ہر ملازم کو مساوی علاج کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ موجودہ سٹی کونسل نے مزدور دوست پالیسی اپناتے ہوئے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملازمین ڈیڑھ لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک کی طبی سہولیات حاصل کرسکیں گے اور 200 سے زائد اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت میسر ہوگی جہاں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کروایا جاسکے گا یہ ملازمین کی بہتری کے لئے ایک موثر قدم ہے۔پنشن کارڈ کا اجراء:

ملازمین کی فلاح وبہبود کے جا ئے اقدامات کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے لئے پنشن کارڈ کا اجراء کیا جائے تاکہ ملازمین کی پنشن اور بقایا جات کو لائن اپ کیا جاسکے اور ملازمین کی فائلیں جو گم ہوجاتی ہیں ان سے نجات مل سکے۔ پنشن کارڈ کا اجراء اگلے مالی سال میں کرنے کی تجویز ہے۔

راست نظام کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں روایتی نظام سے نکل کر راست نظام کے ذریعے مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کے ایم سی پاکستان کا پہلا بلدیاتی ادارہ ہوگا جو تمام ادائیگیاں ای ٹرانسفر کے ذریعے انجام دے گا۔ اگلے مالی سال کے آغاز سے ہی تمام ادائیگیاں براہ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکیں گی۔ نئے نظام سے کاغذی کارروائی اور روایتی مراحل میں تاخیر کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نفاذ سے شفافیت آئے گی۔ اخراجات میں کمی اور مالیاتی نگرانی مزید بہتر اور موثر ہوسکے گی۔ یہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مالیاتی نظام میں ایک انقلابی اقدام ثابت ہوگا۔

تاریخی عمارات کی بحالی اور تعمیر و مرمت:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران کراچی کی قدیم مارکیٹوں ایمپریس مارکیٹ، مچھی میانی مارکیٹ، محمد علی ہوتی مارکیٹ، لی مارکیٹ سمیت خالقدینا ہال، جمشید نسروانجی بلڈنگ (کے ایم سی ہیڈ آفس)، ڈینسو ہال اور فریئر مارکیٹ کی بحالی اور تعمیر و مرمت کے کام انجام دیئے، ایک صدی قبل تعمیر ہونے والی تاریخی حسن علی ہوتی مارکیٹ ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ کراچی کے قدیم تشخیص اور برطانوی دور کے شہری ورثے کی علامت ہے۔ سو سال قبل قائم کی جانے والی اس تاریخی مارکیٹ کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کیا گیا تجاوزات قائم کی گئیں اور اس کا اصل حسن ماند پڑ گیا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس مارکیٹ کی تزئین و آرائش اس انداز سے کی کہ اس کا اصل تشخیص برقرار رہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی بلدیاتی حکومت نے تاریخی ورثے کی بحالی پر بھرپور توجہ دیتے میاں 7کراچی کی پہچان ایمپریس مارکیٹ کی اصل حالت میں بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی تزئین و آرائش کی اور تمام تجاوزات ختم کرکے اسے قابل دید مارکیٹ میں تبدیل کیا۔ڈینسو ہال جو کراچی کی پہلی پبلک لائبریری تھی اس کی عمارت کی تعمیر و مرمت کی گئی اور اس عمارت کو اصل حالت میں بحال کرکے وہاں دوبارہ لائبریری بنا دی گئی ہے۔ خالقدینا ہال جو ایم اے جناح روڈ پر ہی واقع ہے اور جہاں مولانا محمد علی جوہر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ بغاوت چلایا گیا اس کی بحالی کا کام بھی انجام دیا گیا۔ اسی طرح آپ دیکھ رہے ہوں گے اس عمارت جس میں آپ اس وقت موجود ہیں اس کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جو رواں سال میں ہی مکمل کرلیا جائے گا۔اسی طرح ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں 15 کروڑروپے کی لاگت سے تیموریہ لائبریری کی بحالی کے منصوبے پر کام کیا گیا اور تزئین و آرائش کی گئی۔ جس سے طلبہ و طالبات اور علم دوست شہریوں کو معیاری تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔

پارکوں اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر و تزئین و آرائش:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے گزشتہ سال عوام کو تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد پارکس اور کھیل کے میدانوں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ نئے پارکس بھی تعمیر کئے تاکہ عوام کو تفریح کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ ضلع وسطی کے علاقے عزیز آباد میں 68 کروڑ 76 لاکھ روپے سے زائد لاگت سے کے ڈی اے کے تعاون سے لال قلع سمیت پانچ مختلف پارکس تعمیر کئے گئے۔ ان پارکوں میں لال قلع پارک، چھونا پارک، مور پارک، عزیز میونسپل پارک اور دیگر شامل ہیں۔ مجموعی طور پر پونے پانچ ایکڑ پر محیط ان پارکس کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا گیا۔ یہ تمام پارکس پہلے خالی اور تباہ حالی کا شکار تھے۔ابراہیم حیدری میں فیملی پارک تعمیر کیا گیا۔ شاہراہ بھٹو پر اربن فاریسٹ منصوبے کے تحت ایک لاکھ پودنے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تاکہ کراچی کو سرسبز ماحول دوست اور آلودگی سے پارک شہر بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ اس منصوبے کے تحت ای بی ایم کاز وے شاہراہ بھٹو پر اب تک تقریباً دس ہزار پودے لگائے جاچکے ہیں مجموعی طور پر ایک لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے مرحلہ وار مکمل کیا جا رہاہے۔شہید بے نظیر بھٹو پارک میں مینگروز کے پانچ ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ کڈنی ہل پارک میں 20 کروڑ روپے کی لاگت سے شہر کی سب سے بڑی ڈیڑھ ایکڑ پر محیط برڈ آوری کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ برڈ آوری منصوبہ کراچی میں پرندوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ برڈ آوری قدرتی ماحول میں کے عین مطابق ڈیزائن کی گئی ہے۔ کڈنی ہل پارک ایک خوبصورت اربن فاریسٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں مقامی اور پھل دار درختوں کی شاندار افزائش ہو رہی ہے۔

شادمان ٹاؤن ضلع وسطی میں پارک کی تزئین و آرائش اور جدید آٹی سینٹر کی بحالی کے کاموں کا آغاز کیا گیا۔ منصوبے کے تحت پانچ ہزار گز کے پلاٹ پر لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ تربیتی مراکز قائم کئے جائیں گے جبکہ جدید پارک، کیفے ایریا جیسی جدید سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔ گلبرک ٹاؤن میں کھیلوں کے فروغ کے لئے 224 ملین روپے کی لاگت سے شاداب فٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر نو کی گئی۔ جدید سہولیات سے آراستہ اس فٹ بال گراؤنڈ میں پویلین، اسٹور، سیوریج سسٹم، بچوں کے جھولے، گرین بیلٹس، خواتین و بزرگوں کے لئے واکنگ ٹریکس بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ شہر کے نوجوانوں کو کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لئے ایک سنجیدہ اور ایک دیر پا کاوش ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ کراچی کے ہر ضلع میں کھیلوں کے میدانوں کو بحال کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع میسر آئیں۔نیو رضویہ سوسائٹی میں امام مہدی پارک اور اسپورٹس گراؤنڈ تعمیر کیا گیا یہ پارک ڈیڑھ سو ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔ ساڑھے پانچ ایکڑ کی یہ زمین پہلے کچرے کا ڈھیر تھی تاہم اب جدید تفریحی سہولیات سے آراستہ ہے۔ لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس:

آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ 30 سال کے بعد لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کی تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لئے کھولا گیا ہے۔ لانڈھی اور کورنگی کی عوام کو ماضی میں سازش کے تحت بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا لیکن موجودہ بلدیاتی قیادت نے لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کی سرگرمیوں کو بحال کردیا ہے۔ یہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے لانڈھی اور کورنگی کی عوام کے لئے ایک ایسا تحفہ ہے جس سے نوجوان مستفید ہوں گے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں گے۔ضلع غربی میں اسپورٹس کمپلیکس کا سنگ بنیاد:

ضلع غربی میں منگھوپیر ٹاؤن کے علاقے پختون آباد میں کیپٹن کرنل شیر خان اسپورٹس گراؤنڈ اور فیملی پارک کے منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے جو کھیلوں کے فروغ کے لئے ضلع غربی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 186.994 ملین روپے ہے۔ یہ اسپورٹس گراؤنڈ 14 ہزار 430 اسکوائر یارڈ رقبے پر مشتمل ہے جہاں فٹ بال اور کرکٹ کے لئے علیحدہ علیحدہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ منصوبے میں 8 فٹ چوڑا جوگنگ ٹریک، شجر کاری، باؤنڈری وال اور مین گیٹ کی تعمیر نو اور پارکنگ کی سہولت شامل ہے۔

اسی طرح کے ایم سی7 اسپورٹس کمپلیکس کشمیر روڈ پر 150 ملین روپے کی لاگت سے جدید سوئمنگ پول بنایا گیا ہے۔ یہ سوئمنگ پول اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔ یہ جدید الیکٹرونک فلٹریشن سسٹم نصب کیا گیا ہے جو پانی کو مستقل صاف اور محفوظ رکھتا ہے۔

انسینیریشن پلانٹ کی بحالی:

معزز ممبران کونسل:

گزشتہ مالی سال میں ضلع کیماڑی ٹرانس لیاری میوہ شاہ میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے انسینیریشن پلانٹ کی مرمت اور بحالی کے منصوبے کو مکمل کیا۔ ماضی میں صنعتی فضلہ اور میڈیکل ویسٹ نالوں میں پھینکے جانے کی شکایات موصول ہوتی تھی حتیٰ کہ شہریوں کو ساحل سمندر پر استعمال شدہ انجکشن اور خون کے بیگس ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ کے ایم7 سی نے ان خطرات کے پیش نظر انسینیریشن پلانٹ کی بحالی کا فیصلہ کیا اور دس ماہ کی مدت میں جدید سائیکلون ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے فعال بنایا گیا۔ 10 ٹن یومیہ صلاحیت کے حامل اس پلانٹ کے ذریعے طبی اور صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں تلف کیا جاسکے گا۔ کراچی میں روزانہ تقریباً 50 ٹن انڈسٹریل اور میڈیکل ویسٹ پیدا ہوتا ہے جس کے موثر حل کے لئے یہ اقدام ناگریز تھا۔

میونسپل بانڈز کا اجراء:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ایک تاریخی اور انقلابی پیشرفت کے تحت میونسپل بانڈزکے اجراء کی باضابطہ منظوری دی جس کے ساتھ کراچی پاکستان کا پہلا شہر بن گیا جس نے باضابطہ میونسپل بانڈز جاری کئے جس سے کے ایم سی اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈنگ کے ذرائع کو وسعت دے سکے گی۔ اس طرح محدود فنڈز پر انحصار کرنے کے بجائے بلدیہ عظمیٰ کراچی ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر شفاف اور پائیدار مالیاتی طریقوں کو اپنا رہی ہے ان بانڈز کی ادائیگی مخصوص آمدنی کے ذرائع سے کی جاتی ہے جس سے بیرونی سبسڈی پر انحصار کم ہوتا ہے۔

چارجڈ پارکنگ کا خاتمہ:

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے گزشتہ مالی سال کے آغاز سے ہی شہریوں کی بہتری اور سہولت فراہم کرنے کے لئے یکم جولائی 2025 کے ایم سی کی 32 چارجڈ پارکنگ سائٹس سے پارکنگ فیس ختم کردی تھی اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور عوام سہولت میں بہتری لانا تھا۔ چارجڈ پارکنگ فیس ختم کرنے سے کے ایم سی پر کچھ مالی بوجھ ضرور پڑا لیکن یہ7 اقدام ضروری تھا تاکہ غیرقانونی طور پر چارجڈ پارکنگ کرانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ بعدازاں غیرقانونی فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروئی عمل میں لائی گئی اور انہیں غیر فعال کیا گیا۔

میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز:and

معزز ممبران کونسل:

مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ جہاں ہم نے شہر کے دیگر مسائل پر توجہ دی، انفراسٹرکچر کو بہتر کیا، پارکوں اور کھیل کے میدانوں کو آباد کیا، تفریحی سہولیات باہم پہنچائی، شہر کو روشنیوں کا شہر بنانے کے لئے توجہ دی،وہیں عوام کو میڈیکل اینڈ ہیلتھ کی سہولیات باہم پہچانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ عباسی شہید اسپتال میں خواتین کے لئے مختص ہیموفیلیا وارڈ تعمیر کیا جس میں خواتین مریضوں کے علاج کے لئے جدید انتظامات کئے گئے۔ اس وارڈ میں ہیموفیلیا سے متاثرہ مریضوں کے لئے علیحدہ کمرے اور بستر فراہم کئے گئے۔ ہیموفیلیا اسپیشلسٹ ڈاکٹرز، تربیت یافتہ نرسز کے ساتھ ساتھ خون کے جمنے کی ادویات اور دیگر جدید سہولیات مہیا کی گئیں۔ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں نئی کیتھ لیب بنائی گئی، ماضی میں یہ ادارہ شہریوں کے علاج کے لئے تقریباً بند ہوچکا تھا۔ دل کے مریضوں کے لئے ابتدائی چند منٹ بہت قیمتی ہوتے ہیں اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے گزشتہ ایک سال کے دوران تین ہزار مریضوں کی دل کی سرجری اور 240 اینجیو پلاسٹی انجام دی گئیں۔شیریں جناح کالونی کی یوسی۔12 اور یوسی۔13میں ڈسپنسری قائم کی گئی،اسپنسرآئی اسپتال کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ شہریوں کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسپنسر آئی اسپتال کے وارڈز اور آپریشن تھیٹر اور او پی ڈی کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ آنکھوں کے علاج کے لئے جدید تشخیصی آلات اور لیز ٹیکنالوجی فراہم کی گئی ہے۔ عوام اسپنسر آئی اسپتال میں موتیا، گلوکوما، ریٹینا کے امراض اور بچوں کی آنکھوں کے مزائل کا آسانی سے علاج کرواسکیں گے۔ اسپتال میں جدید انفکشن کنٹرول سسٹم اور آرام دہ انتظار گاہیں بھی تعمیر کی گئی ہیں تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میں نے از خود ایک عام آدمی کی طرح اسپنسر آئی اسپتال میں اپنی آنکھوں کا چیک اپ کروایا اور الحمدللہ میں اب اسپتال کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ سوبھراج اسپتال میں جدید پوسٹ ڈلیوری وارڈ قائم کیا گیا۔ پوسٹ ڈلیوری وارڈ میں جدید طبی آلات اور آرام دہ ماحول فراہم کیا گیا ہے تاکہ زچہ و بچہ کو بہترین نگہداشت میسر آسکیں۔ اس وقت سوبھراج اسپتال میں 140 بستروں کی سہولیات میسر ہیں، او پی ڈی کے لئے صرف 20 روپے کی فیس مقرر ہے اور اسپتال سے روانہ 450 خواتین او پی ڈی کی سہولیات سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک کی بحالی:

بلدیہ عظمیٰ کراچی میں کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک اور لانڈھی کورنگی چڑیا گھر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے۔ 16 کروڑ روپے کی لاگت سے ان تینوں تفریحی گاہوں کی تزئین و آرائش کا کام شروع کیا گیا۔ کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک کی اپ گریڈیشن، لانڈھی چڑیا گھر کی بہتری اور شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور سفاری پارک کی بوٹنگ زون کی بہتری شامل تھی۔ خصوصی بچوں کے لئے کراچی چڑیا گھرمیں فروری 2025 سے مفت داخلے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ7 وہ بغیر کسی رکاوٹ کے تفریحی سہولیات سے مستفید ہوں۔ خصوصی بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی تعلیم و تربیت7 ہماری ذمہ داری ہے۔ کراچی چڑیا گھر میں دو ایکڑ رقبے پر جدید انکلوژر تعمیر کیا گیا جہاں شیر کو کھلی فضاء میں قدرتی ماحول سے ہم آہنگ انداز میں رکھا گیا۔ ان انکلوژر میں جدید بلٹ پروف شیشے نصب کئے گئے ہیں۔ ریپٹائل ہاؤس کی تزئین و آرائش کرکے دوبارہ عوام کے لئے کھولا گیا۔ ایک خوبصورت برج بھی تعمیر کیا گیا، وزٹرز کی سہولت کے لئے جدید واک ویز، بیٹھنے کے لئے مقامات اور معلوماتی سائن بورڈز بھی نصب کئے گئے تاکہ یہ جگہ فیملیز اور طلبہ کے لئے ایک معیاری اور تفریحی و تعلیمی مرکز بن سکے۔

سفاری پارک میں پاکستان کے سب سے بڑے جدید ٹریمپولین پارک تعمیر کیا گیا، اسی طرح ڈائنو سفاری پارک میں ٹائم ٹریول تھیٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا یہ پروجیکٹ فیملیز، بچوں اور نوجوانوں کے لئے ایک انٹرایکٹو اور تعلیمی ماحول فراہم کرے گا۔ ٹائم ٹریول تھیٹر کا آغاز فیملی انٹرٹینمنٹ کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا۔ جس سے شہریوں کو تھیٹر کے خصوصی پری ویو پروفارمنس سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ہے۔ یہ منصوبہ کراچی کے تفریحی اور ثقافتی منظر نامے میں ایک مثبت اضافہ ہے۔

بیوٹیفکیشن:

شہر کے انفراسٹرکچر، سڑکوں، پلوں اور فلائی اوور کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں خصوصی بیوٹیفکیشن زونز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کا مقصد پائیدار شہری انفراسٹرکچر کو فروغ دینا، گرین اسپیس میں اضافہ کرنا اور کراچی کے حسن کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ تمام بڑے منصوبوں اور مرکزی شاہراہوں کے لئے جامع بیوٹیفکیشن اور لینڈ اسکپینگ پلان تیار کئے جائیں۔ ہر بڑے ترقیاتی منصوبے میں گرین بیلٹس، لینڈ اسکیپنگ، شجر کاری، آرائش انفراسٹرکچر اور ماحول دوست عناصر کو شامل کیا جائے اس سلسلے میں شارع فیصل،راشد منہاس روڈ(ڈرگ روڈ/شارع فیصل سے شاہراہ عثمان بذریعہ فور کے چورنگی اور ناگن چورنگی ضلع وسطی)، ایس ایم توفیق روڈ (لیاقت فلائی اوور سے تین ہٹی پل)، سر شاہ سلیمان روڈ (کار ساز سے ناظم آباد حبیب بینک چورنگی تک اور حبیب یونیورسٹی سے ریس کورس صفورہ ضلع شرقی) شامل ہیں۔ تمام منتخب کردہ شاہراہوں پر مکمل اپ گریڈیشن اور بحالی کا کام کیا گیا جو اپنے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ شہر کے اہم ٹریفک کوریڈورز کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے 4.2 ارب روپے مالیت کے جامع منصوبے پر بھی کام کیا گیا۔

سولرلائزیشن:

گزشتہ مالی سال کے دوران شاہراہوں کی اسٹریٹ لائٹس کو سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا ان میں شارع فیصل اور شاہراہ ایران شامل ہیں۔ 900 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس منصوبے کے تحت سولر پینلز لگانے والی کمپنی پانچ سال تک آپریشن اور وارنٹی کی ذمہ داری ہوگی۔ جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی بجلی کے بلوں میں بچت ہوگی۔ شارع فیصل کی اسٹریٹ لائٹس کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے بعد یہ اہم شاہراہ روشن رہے گی اور عوام کو سہولت میسر آئے گی۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کوششوں اور پاک چین دوستی کے بے مثال جذبے کے تحت پڑوسی ملک چین کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 58 جدید سولر اسٹریٹ لائٹس7 کی عطیہ دیا گیا ہے۔ سولر لائٹس شہر کی سڑکوں پر روشنی، سیکورٹی اور شہری سہولتوں میں واضح برتری لائے گی۔ چینی حکام نے آئندہ بھی کراچی کی شہری ترقی،ماحول کی بہتری اور بنیادی ڈھانچہ کے منصوبے میں ممکنہ تعاون جاری رکھے گا۔یہاں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ کراچی میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور بلدیاتی خدمات کو مزید موثر بنانے کے لئے ہر یونین کمیٹی کو ماہانہ ایک لاکھ روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و بحالی اور مین ہول کورز کی تنصیب یا تبدیلی کے لئے مختص کیا گیا۔نئے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ہر یوسی کو پہلے ماہانہ پانچ لاکھ روپے فراہم کئے جاتے تھے تاہم متعدد یونین کمیٹیوں نے اس رقم کو ناکافی قرار دیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت نے ہماری درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے ہر یونین کمیٹی کا بجٹ بڑھا کر 12 لاکھ روپے ماہانہ کردیا تھاجس کے لئے ہم حکومت کے شکر گزار ہیں۔

معزز اراکین کونسل۔

اداروں کو چلانے کے لئے سالانہ بجٹ، منصوبہ بندی اور اس پر نیک نیتی سے عملدرآمد ہی ترقی کا ضامن ہوتا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کا 2026-27 کا بجٹ ترتیب دیتے ہوئے یہ کوشش کی گئی ہے کہ وسائل کا بہترین استعمال کیا جائے اور کراچی کی تعمیر و ترقی، بہتری، بحالی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں باہم پہچانے کی کوششیں بھرپور کی جائیں۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 2026-27 کے لئے مجوزہ بجٹ میں کل آمدن ساٹھ ہزار چار سو اکیاون اعشاریہ چار تین صفر(60,451.430)ملین روپے، جبکہ مجموعی اخراجات ساٹھ ہزار چار سو چھ اعشاریہ پانچ دو پانچ (60,406.525)ملین روپے ہوں گے، اس طرح چوالیس اعشاریہ نو صفر پانچ (44.905)ملین روپے بچت کے ساتھ شامل ہیں، کل آمدن (Current Receipts) میں اننچاس ہزار ایک سو تین اعشاریہ پانچ چار صفر (49,103.540)ملین روپے اور (Capital Receipts) دو ہزار تین سو سنتالیس اعشاریہ آٹھ نو صفر (2,347.890) ملین روپے جبکہ فنڈز برائے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی نو ہزار (9,000.000) ملین روپے ہے۔اسی طرح اسٹیبلشمنٹ اخراجات سینتیس ہزار دو سو بانوے اعشاریہ دو صفر تین (37,292.203) ملین روپے اور Contingent چار ہزار دو سو تینتالیس اعشاریہ پانچ چھ پانچ (4,243.565) ملین روپے، ریپیئر اور مینٹی ننس چار سو چہتر اعشاریہ آٹھ تین صفر (476.830)ملین روپے جبکہ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس / کاموں کا تخمینہ آٹھ ہزار پانچ سو پچانوے اعشاریہ دو چھ دو (8,595.262)ملین روپے، کیپٹل (ریونیو کمپوننیٹ)Capital (Revenue Component) سات سو اٹھانوے اعشاریہ چھ چھ پانچ (798.665) اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی اخراجات کا تخمینہ نو ہزار (9,000.000)ملین روپے ہے۔معزز اراکین کونسل۔

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ہم نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی ہے لہٰذا آئندہ مالی سال کے لئے بھی ہم نے پینشن فنڈ دیگر متفرق اخراجات اور بیل آؤٹ پیکیج کے لئے آٹھارہ ہزار دو دس (18,210.000)ملین روپے، میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے لئے سات ہزار سات سو انسٹھ اعشاریہ سات نو صفر (7,759.790) ملین روپے، میونسپل سروسز کے لئے چھ ہزار چار سو سترہ اعشاریہ پانچ پانچ چار (6,417.554) ملین روپے، محکمہ انجینئرنگ کے لئے نو ہزار دو سو اکہتر اعشاریہ سات صفر چار (9,271.704) ملین روپے،ریونیو ڈپارٹمنٹس بشمول لینڈ انفورسمنٹ، اسٹیٹ، کچی آبادی، پی ڈی اورنگی اور چارجڈ پارکنگ کے لئے دو ہزار سو اکتیس اعشاریہ آٹھ صفر چار (2,231.804) ملین روپے، پارکس ہارٹیکلچر دو ہزار7 چھ پچاس اعشاریہ سات صفر دو (2,650.702) ملین روپے، کلچرل اسپورٹس اینڈ ریکریشن ایک ہزار چار سو اکتالیس اعشاریہ صفر نو پانچ (1,441.095) ملین روپے، فنانس اینڈ اکاؤنٹس (ایم یو سی ٹی) کے لئے سات سو ساٹھ اعشاریہ نو دو چار (760.924) ملین روپے، مختلف اخراجات بشمول ری پیمنٹ آف لون مالی مدد فوتگی کوٹہ کے ملازمین کے لئے پانچ سو اکیاسی اعشاریہ چھ صفر صفر (581.600)، محکمہ قانون کے لئے دو سو اکسٹھ اعشاریہ نو نو صفر (261.990) ملین روپے، انٹرپرائز اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن کے لئے ایک سو سنتالیس اعشاریہ چار چار آٹھ (147.448) ملین روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے دو تیرا اعشاریہ تین نو دو (213.392) ملین روپے،ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے لئے چھ اعشاریہ دو دو پانچ (6.225) ملین روپے اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لئے نو ہزار (9,000.000) ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے بجٹ برائے 2026-27 کے دوران متوقع ریونیو کے تخمینے میں حکومت سے ملنے والی گرانٹ سینتیس ہزار تین سو اٹھاسی اعشاریہ نو سات چھ (37,388.976) ملین روپے جبکہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی سے نو ہزار (9,000.000) ملین روپے متوقع ہیں اور اسی طرح ایم یو سی ٹی اور ایڈورٹائزمنٹ سے پانچ ہزار نو سو پچاس (5950.000) ملین روپے، کے ایم سی کے بقایا جات کی مد میں ایک ہزار دو سو پچپن (1255.000) ملین روپے، فنانس اینڈ اکاؤنٹس آٹھ سو اڑتالیس اعشاریہ ایک دو سات (848.127) ملین روپے، محکمہ لینڈ سے دو ہزار آٹھ سو تین اعشاریہ سات پانچ پانچ (2803.755)ملین روپے، محکمہ انسداد تجاوزات سے تین سو سترہ اعشاریہ آٹھ پانچ سات (317.857) ملین روپے، محکمہ اسٹیٹ سے پانچ سو اکیاون اعشاریہ چھ ایک صفر (551.610) ملین روپے، محکمہ کچی آبادی ایک سو اکہتر اعشاریہ پانچ صفر صفر (171.500) ملین روپے، پی ڈی اورنگی دو سو پندرہ اعشاریہ آٹھ تین پانچ (215.835) ملین روپے اور محکمہ چارجڈ پارکنگ سے ایک سو اکتیس اعشاریہ صفر چار تین (131.043) ملین روپے، محکمہ انفورسمنٹ اینڈ امپلی مینٹیشن سے ایک سو بانوے اعشاریہ پانچ صفر صفر (192.500) ملین روپے، محکمہ میونسپل سروسز سے تین سو چھتیر اعشاریہ دو صفر صفر (376.200) ملین روپے، محکمہ انجینئرنگ دو سو اٹھاون اعشاریہ پانچ صفر صفر (258.500) ملین روپے،محکمہ زو اینڈ سفاری پارک سے دو سو تیرپن اعشاریہ ایک سات پانچ (253.175) ملین روپے، ویٹرنری سروسز سے دو سو آٹھ اعشاریہ پانچ پانچ صفر (208.550) ملین روپے، پی ڈی ٹرمینل سے دو سو آٹھ اعشاریہ پانچ نو تین (208.593) ملین روپے، پارکس اینڈ ہارٹی کلچر سے ایک سو سولہ اعشاریہ چار صفر آٹھ (116.408) ملین روپے، میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز سے بانوے اعشاریہ پانچ نو آٹھ (92.598) ملین روپے، محکمہ کلچر اینڈ اسپورٹس سے پہچتر اعشاریہ ایک چار ایک (75.141) ملین روپے، ای اینڈ آئی پی سے پینتیس اعشاریہ صفر(35.000) ملین روپے اور دیگر متفرق مدات میں آمدنی سے ایک اعشاریہ صفر چھ دو (1.062) ملین روپے ریونیو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

کے ایم سی کے زیر انتظام ترقیاتی کاموں کے لئے 2026-27 کے بجٹ میں فنڈز مختص کئے گئے ہیں جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔سڑکوں کی تعمیر اور بہتری کے لئے چار سو (400.000) ملین روپے، سڑکوں فٹ پاتھ، سیوریج لائنوں، پلوں، چورنگیوں اور انٹرسیکشن کی بہتری کے لئے 250 ملین روپے، ضلعی سطح پر سڑکوں، فٹ پاتھ اور پلوں کی بہتری کے لئے 480 ملین روپے، مختلف یونین کمیٹیوں میں ترقیاتی کاموں اور بہتری کے لئے 1200 ملین روپے،اسپیشل ڈویلپمنٹ پروجیکٹس اور ورکس کے لئے 100 ملین روپے، اقلیتی برادری کی گرانٹ اور ڈویلپمنٹ ورکس کے لئے 100 ملین روپے، یونین کونسلوں کو ماہانہ بنیاد پر 10 لاکھ روپے دینے کے لئے دو سو پچانوے اعشاریہ دو صفر صفر صفر (295.2000)ملین روپے، محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر کے لئے 500 ملین روپے، محکمہ انجینئرنگ کے لئے 50 ملین روپے، محکمہ اسٹیٹ کے لئے 35 ملین روپے، محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ کے لئے 20 ملین روپے، محکمہ میونسپل سروسز کے لئے 20 ملین روپے، کلچر اینڈ اسپورٹس کے لئے 20 ملین روپے، محکمہ زو اور سفاری پارک کے لئے 20 ملین روپے، کے ایم سی بلڈنگ اور سڑکوں کی سولرائزیشن کے لئے 250 ملین روپے، تمام یونین کونسلوں میں سولرائزیشن انیٹیٹوز(Solorization Initiavtives) 500 ملین روپے، کراچی میں اربن فاریسٹ کے لئے 20 ملین روپے، کڈنی ہل پارک کے لئے 20 ملین روپے، چوکنڈی قبرستان سے ملحق پارک کی تعمیر کے لئے 50 ملین روپے، نالوں کی صفائی اور کیچڑ(Desilting) صاف کرنے کے لئے 800 ملین روپے، کے ایم سی پارکس اور سڑکوں کے اطراف بہتری اور تزئین و آرائش کے لئے 1250 ملین روپے، غیر متوقع اخراجات کے لئے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں اس طرح کے ایم سی اپنے ریسورس سے چھ ہزار چار سو اسی اعشاریہ دو صفر صفر (6480.200) ملین روپے خرچ کرے گی۔

ڈسٹرکٹ اے ڈی پی:

انفرااسٹرکچر،روڈز، فلائی اوورز، برجز، ای اینڈ ایم اور عمارات کے لئے دو ہزار ایک سو ستر اعشاریہ آٹھ چھ پانچ (2170.865) ملین روپے، میونسپل سروسز کے لئے پچپن اعشاریہ دو ایک پانچ (55.215) ملین روپے، میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے لئے ساٹھ اعشاریہ زیرو زیرو (60.00) ملین روپے، کلچر اسپورٹس اینڈ ریکریشن کے لئے تین سو اناسی اعشاریہ زیرو زیرو ایک (379.001) ملین روپے، زو اینڈ سفاری پارک کے لئے دو سو انیس اعشاریہ زیرو زیرو آٹھ (219.008) ملین روپے، پارکوں کی تعمیر و بہتری کے لئے نو سو چھ اعشاریہ دو صفر آٹھ (906.208) ملین روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے پینتیس اعشاریہ سات پانچ دو (35.752) ملین روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کے لئے بلاک ایلوکیشن (Block Allocation) کے لئے پانچ ہزار ایک سو تہتر اعشاریہ نو پانچ صفر (5173.950) ملین روپے تجویز کئے گئے ہیں اس طرح ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کا مجموعی بجٹ (9000.000) نو ہزار ملین روپے ہوگا۔

معزز ممبران کونسل:

میں نے اور سٹی کونسل کے معزز ممبران نے یہ کوشش کی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ شہر کی تعمیر و ترقی، تزئین و آرائش، انفراسٹرکچر کی بہتری، تفریحی سہولیات کی فراہمی اور بنیادی بلدیاتی امور کی انجام دہی کا بجٹ ثابت ہو۔ میں تمام معزز اراکین، اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے بھرپور توجہ کے ساتھ میری تقریر کو سنا۔ میونسپل کمشنر کے ایم سی، مشیر مالیات، محکمہ فنانس کے افسران و ملازمین، کونسل سیکریٹریٹ، میڈیا مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و ملازمین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے بجٹ کی تیاری میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ایک بار پھر تمام اراکین کونسل کا شکر گزار ہوں۔

جواب دیں

Back to top button