حکومت پنجاب کے تاریخی پروگرام ”وزیراعلیٰ ہونہار سکالرشپ” کے تحت قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں گلگت بلتستان کے 479 طلبہ و طالبات میں وظائف تقسیم کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 6 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ شعبہ تعلقات عامہ جامعہ قراقرم کے مطابق اس سلسلے میں یونیورسٹی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ تقریب میں اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن، ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی ملک کفایت الرحمن، صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان امان علی عامر، جامعہ قراقرم کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق، ریٹائرڈ جسٹس صاحب خان رکن اسمبلی، ساجدہ عطاء الرحمن رکن اسمبلی، رانا فرمان رکن جی بی اسمبلی،رانا فاروق رکن جی بی اسمبلی، ابراہیم ثنائی رکن جی بی اسمبلی، پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر محمد ماجد مصطفی خان،خواتین ونگ کی ثروت صباء اور آمنہ علی سمیت یونیورسٹی انتظامیہ کے دیگر ذمہ داران، سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے والدین بھی شریک تھے۔تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے کئی اہم اعلانات کیے
جن میں گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار کرنا،پنجاب لیپ ٹاپ سکیم میں جی بی کے طلبہ کو شامل کرنا،جامعہ قراقرم میں طالبات کے لیے ہاسٹلز کی عمارت تعمیر کرنا،جامعہ کے لیے مزید بسیں فراہم کرنا،جامعہ قراقرم میں طالبات کے لیے کامن روم کی تعمیر اور گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے گوگل سرٹیفیکیشن کے ایک ہزار مفت کورسز فراہم کرناہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی انہوں نے گلگت بلتستان میں تعلیمی، تعمیراتی اور دیگر امور پر کام کیا ہے اور آئندہ بھی ان کی سربراہی میں پنجاب حکومت اسی طرح کام جاری رکھے گی۔ رانا سکندر حیات نے بتایا کہ انہوں نے گلگت بلتستان میں چار دانش سکول بھی تعمیر کیے ہیں جن کا کام جاری ہے اور بہت جلد یہ کام مکمل ہو کر ان میں کلاسوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب نے مل کر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ جس کے لیے طلبہ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا طلبہ تعلیمی میدانوں میں مزید نمایاں کارنامے سرانجام دیں اور ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کریں۔ صوبائی وزیر تعلیم پنچاب نے جامعہ قراقرم کے وائس چانسلر اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے اس مثالی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ جامعہ قراقرم کی تعمیر و ترقی کے لیے پہلے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور آئندہ بھی کیے جاتے رہیں گے جس کی مثال جامعہ کے تین سب کیمپسز کے قیام اور یونیورسٹی میں تعمیر کیے گئے سپورٹس کمپلیکس سے لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ کو ہونہار سکالرشپ میں شامل کر کے اور انہیں سکالرشپ فراہم کر کے پنجاب نے بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا ہے جس پر وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔اس سے قبل صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان امان علی عامر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسوہ رسولؐ پر من و عن عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایک دور تھا جب مسلمانوں نے پوری دنیا پر حکومت کی اور آج وہ محکوم ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے تمام امور احکاماتِ نبیؐ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام تفرقات سے وہ جس بھی شکل میں ہوں دور رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہی تفرقات نے ہمیں دیگر اقوام سے پیچھے رکھا ہے۔تقریب میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق نے کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور اگر انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ ہر میدان میں جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے جامعہ قراقرم کے لیے سکالرشپس، انفراسٹرکچر سمیت دیگر امور میں خصوصی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ جامعہ مزید بہتر انداز میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں اپنا کردار ادا کر سکے۔تقریب میں پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر محمد ماجد مصطفی خان نے وزیراعلیٰ ہونہار سکالرشپ پروگرام شروع کرنے کے اغراض و مقاصد سے متعلق امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب کے دوران وزیر تعلیم پنجاب اور دیگر معزز مہمانوں نے طلبہ و طالبات میں ہونہار سکالرشپ کے چیک بھی تقسیم کیے۔





