میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اتوار کے روز سٹی کونسل میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کامالی سال 2026-27 کے لئے بجٹ پیش کیا جو کہ کثرت رائے سے منظور کرلیا۔اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد اور میونسپل کمشنر ابرار جعفر بھی موجود تھے،میئر کراچی نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ آج میں اپنے دور کا تیسرا بجٹ معزز کونسل کے سامنے پیش کر رہا ہوں، میں نے گزشتہ مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کی تیاری میں بھی عوام کے مسائل، شہر کی تعمیر و ترقی اور بلدیاتی مسائل کے حل کو اولیت دی اور ہرممکن کوشش کی کہ ماضی کے ادوار کے مسائل کے انبار کے باوجود اس مرتبہ ایک بار پھر ایک متوازن شہر کے مسائل کے حل کے عین مطابق اور شہر کے انفراسٹرکچر سمیت دیگر مسائل کے حل کو ہی بجٹ میں سرفہرست رکھا جائے تاکہ عوام کی بہتر سے بہتر خدمت کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو کراچی میں بلدیاتی سطح پر پہلی مرتبہ عوام نے منتخب کرکے ایک تاریخ ساز موقع فراہم کیا ہے اور پارٹی کے منشور کے تحت ہم نے کراچی کے عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ترجیحات میں کراچی کی عوام کی خدمت اور شہر کی تعمیر اور اسے بین الاقوامی شہر بنانا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ میں معزز کونسل کے سامنے کراچی میں مکمل کئے گئے اہم اور ضروری کاموں کا ذکر کروں گا جو ہم نے گزشتہ سال انجام دیئے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ کراچی کی تعمیر و ترقی، بہتری کے زمرے میں شہریوں نے سراہا، گو کہ تنقید نگاروں نے ہرممکن کوشش کی کہ ان کاموں کو مفاد عامہ کے خلاف قرار دیا جائے لیکن اس ترقیاتی کام اپنی مثال آپ ہیں اور شہر کا انفرااسٹرکچر بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ شہر کے تاریخی ورثے اور دیگر سہولیات سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہر کی تعمیر و ترقی، بہتری، انفرااسٹرکچر کی بحالی، پلوں، فلائی اوورز کی تعمیر، تزئین و آرائش بلاامتیاز و تفریق شہر کے تمام اضلاع میں انجام دیئے جائیں گے، بعض وہ گلیاں یا سڑکیں جو کے ایم سی کی حدود میں نہیں آتی تھیں عوام کو سہولت پہنچانے کے لئے تعمیر کی گئیں، انہوں نے انفرااسٹرکچر کے حوالے سے مجموعی صورتحال سے کونسل کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں 3192620 اسکوائر فٹ پیچ ورک کیا گیا۔ 12331548 اسکوائر فٹ پیور بلاک لگائے گئے۔اسی طرح 402210 رننگ فٹ سیوریج ورک مکمل کیا گیا۔ فٹ پاتھ ورک 99450 رننگ اسکوائر فٹ،477980 رننگ فٹ کرب بلاک،475900 رننگ کلرنگ کا کام انجام دیا گیا۔نرسری فلائی اوور اور اسٹون سرکل کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کی گئی۔ضلع ملیر میں خالد بن ولید روڈ کی تعمیر کی گئی۔ 93روزہ ریکارڈ مدت میں عظیم پورہ فلائی اوور تعمیر کیا گیا جس سے شاہ فیصل کالونی پر ٹریفک کے دباؤ اور شاہراہ بھٹو سے ایئر پورٹ جانے والے شہریوں کو سہولت میسر آئے گی۔شہید ملت روڈ،جناح برج کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش عمل میں لائی گئی جس سے عوام کو سہولت ملنے کے ساتھ ساتھ بھاری ٹریفک کے گزرنے میں بھی آسانی میسر آئی۔ میئر کراچی نے کہا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں تجویز ہے کہ جی آئی ایس میپنگ کی جائے، کے ایم سی کے تمام پارکس، دفاتر، پلے گراؤنڈز، قبرستان، کھیلوں کے میدان، لائبریریاں، سفاری پارک، چڑیا گھر دیگر تمام غیرمنقولہ اثاثہ جات / جائیدادوں کی جی آئی ایس میپنگ کرائی جائے گی تاکہ ریکارڈ میں کسی قسم کی ردوبدل ممکن نہ ہوسکے جبکہ عوام کو میوٹیشن، ٹرانسفر اور دیگر امور پر آسانی ہوگی۔ میئر کراچی نے ملازمین کی فلاح و بہبودکے حوالے سے افسران و ملازمین کی پنشن کی سیپ (SAP) پر منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال افسران و ملازمین کی تنخواہوں کو ورلڈ بینک کے پروجیکٹ سیپ (SAP) پر منتقل کیا گیا تھا جو کامیابی سے جاری ہے اس سال ریٹائرڈ افسران و ملازمین کی پنشن بھی (SAP) پروگرام پر منتقل کی جائیں گی جس کے باعث افسران و ملازمین کو تنخواہوں کی طرح پنشن کی بروقت اور محفوظ ادائیگی ممکن ہوسکے گی اور کسی بھی افسر یا ملازم کے ریکارڈ میں ردو بدل ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان بھر میں بلدیہ عظمیٰ کراچی پہلی کونسل ہے جس نے افسران و ملازمین کو تنخواہیں اور اب پنشن کو سیپ (SAP) پر منتقل کیا ہے جو ہم سب کیلئے باعث اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران جہاں ترقیاتی کام انجام دیئے وہاں ملازمین کی فلاح و بہبود کو بھی مد نظر رکھا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پچیس سال کے بعد ایک تاریخی اور بے مثال کارنامہ یہ انجام دیا کہ ملازمین کی تنخواہیں اب ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے قبل ادا کردی جاتی ہیں۔ یہ اہم کامیابی ملازمین کے حقوق اور فلاح کو یقینی بنانے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے جنہیں گزشتہ تین دہائیوں سے تنخواہوں کی تاخیر کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ تمام ریٹائرڈ ملازمین کو لیو انکیشمنٹ ادا کردیا گیا ہے، محکمہ فنانس میں آنے والے عباسی شہید اسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کے بقایا جات بھی ادا کردیئے گئے ہیں۔ دوہری تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی نشاندہی کرکے ان کی تنخواہیں ختم کردی گئی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نئے مالی سال 2026-27 میں ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات اور حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھا جائے اور کوشش ہوگی کہ بقایا جات کی ادائیگی اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے لئے مالی وسائل درکار ہوں گے میں بحیثیت حکومت سندھ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں فنڈز فراہم کریں تاکہ ان ادائیگیوں کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فائربریگیڈ ایمرجنسی رسپونس سینٹر کے ملازمین کو 24 سال بعد ٹائم اسکیل کا اجراء کیا گیا۔ محکمہ فائربریگیڈ کے وہ ملازمین جنہوں نے دہائیوں تک بغیر کسی ترقی کے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر اپنی جانیں دیں یہ ان کی قربانی کا اعتراف تھا۔ گزشتہ 24 سال سے ترقی کے منتظر بی پی ایس۔6 کے لائف گارڈز کو تسلیم بخش کارکردگی کے بعد بی پی ایس۔9 میں ترقی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں بلدیاتی خدمات کو مزید بہتر کرنے کے لئے کے ایم سی کے مختلف محکموں میں نئی ہیوی وہیکلز کے بیڑے کو شامل کیا گیا ہے، ان وہیکلز کی خریداری پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل کی جانے والی رقم سے کی گئی جس کے تحت ماؤنٹ ٹرکس سمیت ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں کے لئے 110 ملین روپے کی منظوری دی گئی تھی، اسی طرح کے ایم سی کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈسپیج رائیڈرز میں 20 الیکٹرک بائیکس تقسیم کی گئی ہیں، کے ایم سی پاکستان کی واحد کونسل ہے جس نے ملازمین کو بجلی سے چلنے والی بائیکس دی ہیں۔ 150کلو واٹ سولر پاور سسٹم کے ایم سی ہیڈ آفس میں نصب کیا گیا ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر بھی چارجنگ اسٹیشنز بنانے کی تجویز ہے۔ شہر کے انفراسٹرکچر کے تحفظ اور غیرقانونی سرگرمیوں کے روک تھام کے لئے کے ایم سی ویجی لینس اسکواڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ شہر کے انفرااسٹرکچر، اسٹریٹ لائٹس، تاروں اور دیگر سرکاری املا ک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو روکا جاسکے۔ میئر کراچی نے افسران و ملازمین کی میڈیکل انشورنس اور کارڈ کے اجراء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران تقریباً ساڑھے گیارہ ملازمین کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کردی ہے جس کا باقاعدہ اجراء 21 مئی 2026 سے کردیا گیا ہے، یہ پاکستان کا پہلا بلدیاتی ادارہ جہاں میڈیکل انشورنس پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ موجودہ سٹی کونسل نے مزدور دوست پالیسی اپناتے ہوئے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملازمین ڈیڑھ لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک کی طبی سہولیات حاصل کرسکیں گے اور 200 سے زائد اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت میسر ہوگی جہاں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کروایا جاسکے گا، انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے لئے پنشن کارڈ کا اجراء کیا جائے تاکہ ملازمین کی پنشن اور بقایا جات کو لائن اپ کیا جاسکے۔ پنشن کارڈ کا اجراء اگلے مالی سال میں کرنے کی تجویز ہے، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں روایتی نظام سے نکل کر راست نظام کے ذریعے مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کے ایم سی پاکستان کا پہلا بلدیاتی ادارہ ہوگا جو تمام ادائیگیاں ای ٹرانسفر کے ذریعے انجام دے گا۔ اگلے مالی سال کے آغاز سے ہی تمام ادائیگیاں براہ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکیں گی۔ اخراجات میں کمی اور مالیاتی نگرانی مزید بہتر اور موثر ہوسکے گی۔ انہوں نے تاریخی عمارات کی بحالی اور تعمیر و مرمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے رواں مالی سال کے دوران کراچی کی قدیم مارکیٹوں ایمپریس مارکیٹ، مچھی میانی مارکیٹ، محمد علی ہوتی مارکیٹ، لی مارکیٹ سمیت خالقدینا ہال، جمشید نسروانجی بلڈنگ (کے ایم سی ہیڈ آفس)، ڈینسو ہال اور فریئر مارکیٹ کی بحالی اور تعمیر و مرمت کے کام انجام دیئے، پاکستان پیپلزپارٹی کی بلدیاتی حکومت نے تاریخی ورثے کی بحالی پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے کراچی کی پہچان ایمپریس مارکیٹ کی اصل حالت میں بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی تزئین و آرائش کی اور تمام تجاوزات ختم کرکے اسے قابل دید مارکیٹ میں تبدیل کیا۔ڈینسو ہال جو کراچی کی پہلی پبلک لائبریری تھی اس کی عمارت کی تعمیر و مرمت کی گئی اور اس عمارت کو اصل حالت میں بحال کرکے وہاں دوبارہ لائبریری بنا دی گئی ہے۔ خالقدینا ہال کی بحالی کا کام بھی انجام دیا گیا۔ اسی طرح کے ایم سی کی عمارت کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جو رواں سال میں ہی مکمل کرلیا جائے گا۔اسی طرح ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں 15 کروڑروپے کی لاگت سے تیموریہ لائبریری کی بحالی کے منصوبے پر کام کیا گیا اور تزئین و آرائش کی گئی جس سے طلبہ و طالبات اور علم دوست شہریوں کو معیاری تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔ انہوں نے پارکوں اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر و تزئین و آرائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے گزشتہ سال عوام کو تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد پارکس اور کھیل کے میدانوں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ نئے پارکس بھی تعمیر کئے تاکہ عوام کو تفریح کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ ضلع وسطی کے علاقے عزیز آباد میں 68 کروڑ 76 لاکھ روپے سے زائد لاگت سے کے ڈی اے کے تعاون سے لال قلع سمیت پانچ مختلف پارکس تعمیر کئے گئے۔ ان پارکوں میں لال قلع پارک، چھونا پارک، مور پارک، عزیز میونسپل پارک اور دیگر شامل ہیں۔ مجموعی طور پر پونے پانچ ایکڑ پر محیط ان پارکس کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم حیدری میں فیملی پارک تعمیر کیا گیا، شاہراہ بھٹو پر اربن فاریسٹ منصوبے کے تحت ایک لاکھ پودنے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت ای بی ایم کاز وے شاہراہ بھٹو پر اب تک تقریباً دس ہزار پودے لگائے جاچکے ہیں مجموعی طور پر ایک لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے مرحلہ وار مکمل کیا جا رہاہے۔شہید بے نظیر بھٹو پارک میں مینگروز کے پانچ ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ کڈنی ہل پارک میں 20 کروڑ روپے کی لاگت سے شہر کی سب سے بڑی ڈیڑھ ایکڑ پر محیط برڈ آوری کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ کڈنی ہل پارک ایک خوبصورت اربن فاریسٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں مقامی اور پھل دار درختوں کی شاندار افزائش ہو رہی ہے۔ شادمان ٹاؤن ضلع وسطی میں پارک کی تزئین و آرائش اور جدید آٹی سینٹر کی بحالی کے کاموں کا آغاز کیا گیا۔ منصوبے کے تحت پانچ ہزار گز کے پلاٹ پر لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ تربیتی مراکز قائم کئے جائیں گے جبکہ جدید پارک، کیفے ایریا جیسی جدید سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ گلبرک ٹاؤن میں کھیلوں کے فروغ کے لئے 224 ملین روپے کی لاگت سے شاداب فٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر نو کی گئی۔ جدید سہولیات سے آراستہ اس فٹ بال گراؤنڈ میں پویلین، اسٹور، سیوریج سسٹم، بچوں کے جھولے، گرین بیلٹس، خواتین و بزرگوں کے لئے واکنگ ٹریکس بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ نیو رضویہ سوسائٹی میں امام مہدی پارک اور اسپورٹس گراؤنڈ تعمیر کیا گیا یہ پارک ڈیڑھ سو ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔ ساڑھے پانچ ایکڑ کی یہ زمین پہلے کچرے کا ڈھیر تھی تاہم اب جدید تفریحی سہولیات سے آراستہ ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ 30 سال کے بعد لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کی تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے، ضلع غربی میں منگھوپیر ٹاؤن کے علاقے پختون آباد میں کیپٹن کرنل شیر خان اسپورٹس گراؤنڈ اور فیملی پارک کے منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے،اس منصوبے پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 186.994 ملین روپے ہے۔ اسی طرح کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کشمیر روڈ پر 150 ملین روپے کی لاگت سے جدید سوئمنگ پول بنایا گیا ہے۔ یہ سوئمنگ پول اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ضلع کیماڑی ٹرانس لیاری میوہ شاہ میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے انسینیریشن پلانٹ کی مرمت اور بحالی کے منصوبے کو مکمل کیا۔ ماضی میں صنعتی فضلہ اور میڈیکل ویسٹ نالوں میں پھینکے جانے کی شکایات موصول ہوتی تھی،کے ایم سی نے ان خطرات کے پیش نظر انسینیریشن پلانٹ کی بحالی کا فیصلہ کیا اور دس ماہ کی مدت میں جدید سائیکلون ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے فعال بنایا گیا۔ 10 ٹن یومیہ صلاحیت کے حامل اس پلانٹ کے ذریعے طبی اور صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں تلف کیا جاسکے گا۔ کراچی میں روزانہ تقریباً 50 ٹن انڈسٹریل اور میڈیکل ویسٹ پیدا ہوتا ہے جس کے موثر حل کے لئے یہ اقدام ناگریز تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ایک تاریخی اور انقلابی پیشرفت کے تحت میونسپل بانڈزکے اجراء کی باضابطہ منظوری دی جس کے ساتھ کراچی پاکستان کا پہلا شہر بن گیا جس نے باضابطہ میونسپل بانڈز جاری کئے جس سے کے ایم سی اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈنگ کے ذرائع کو وسعت دے سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے گزشتہ مالی سال کے آغاز سے ہی شہریوں کی بہتری اور سہولت فراہم کرنے کے لئے یکم جولائی 2025 کے ایم سی کی 32 چارجڈ پارکنگ سائٹس سے پارکنگ فیس ختم کردی تھی اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور عوام سہولت میں بہتری لانا تھا۔ میئر کراچی نے کہا کہ جہاں ہم نے شہر کے دیگر مسائل پر توجہ دی، انفراسٹرکچر کو بہتر کیا، پارکوں اور کھیل کے میدانوں کو آباد کیا، تفریحی سہولیات باہم پہنچائی، شہر کو روشنیوں کا شہر بنانے کے لئے توجہ دی،وہیں عوام کو میڈیکل اینڈ ہیلتھ کی سہولیات باہم پہچانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ عباسی شہید اسپتال میں خواتین کے لئے مختص ہیموفیلیا وارڈ تعمیر کیا جس میں خواتین مریضوں کے علاج کے لئے جدید انتظامات کئے گئے۔ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں نئی کیتھ لیب بنائی گئی، ماضی میں یہ ادارہ شہریوں کے علاج کے لئے تقریباً بند ہوچکا تھا۔ دل کے مریضوں کے لئے ابتدائی چند منٹ بہت قیمتی ہوتے ہیں اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے گزشتہ ایک سال کے دوران تین ہزار مریضوں کی دل کی سرجری اور 240 اینجیو پلاسٹی انجام دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ شیریں جناح کالونی کی یوسی۔12 اور یوسی۔13میں ڈسپنسری قائم کی گئی،اسپنسرآئی اسپتال کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ سوبھراج اسپتال میں جدید پوسٹ ڈلیوری وارڈ قائم کیا گیا۔ پوسٹ ڈلیوری وارڈ میں جدید طبی آلات اور آرام دہ ماحول فراہم کیا گیا ہے تاکہ زچہ و بچہ کو بہترین نگہداشت میسر آسکیں۔ اس وقت سوبھراج اسپتال میں 140 بستروں کی سہولیات میسر ہیں، او پی ڈی کے لئے صرف 20 روپے کی فیس مقرر ہے اور اسپتال سے روانہ 450 خواتین او پی ڈی کی سہولیات سے مستفید ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک اور لانڈھی کورنگی چڑیا گھر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے۔ 16 کروڑ روپے کی لاگت سے ان تینوں تفریحی گاہوں کی تزئین و آرائش کا کام شروع کیا گیا۔ کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک کی اپ گریڈیشن، لانڈھی چڑیا گھر کی بہتری اور شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور سفاری پارک کی بوٹنگ زون کی بہتری شامل تھی۔ خصوصی بچوں کے لئے کراچی چڑیا گھرمیں فروری 2025 سے مفت داخلے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے تفریحی سہولیات سے مستفید ہوں۔ خصوصی بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی تعلیم و تربیت ہماری ذمہ داری ہے۔ کراچی چڑیا گھر میں دو ایکڑ رقبے پر جدید انکلوژر تعمیر کیا گیا جہاں شیر کو کھلی فضاء میں قدرتی ماحول سے ہم آہنگ انداز میں رکھا گیا۔ ان انکلوژر میں جدید بلٹ پروف شیشے نصب کئے گئے ہیں۔ ریپٹائل ہاؤس کی تزئین و آرائش کرکے دوبارہ عوام کے لئے کھولا گیا۔ ایک خوبصورت برج بھی تعمیر کیا گیا، انہوں نے کہا کہ سفاری پارک میں پاکستان کے سب سے بڑے جدید ٹریمپولین پارک تعمیر کیا گیا، اسی طرح ڈائنو سفاری پارک میں ٹائم ٹریول تھیٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا یہ پروجیکٹ فیملیز، بچوں اور نوجوانوں کے لئے ایک انٹرایکٹو اور تعلیمی ماحول فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ کراچی کے تفریحی اور ثقافتی منظر نامے میں ایک مثبت اضافہ ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے انفراسٹرکچر، سڑکوں، پلوں اور فلائی اوور کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں خصوصی بیوٹیفکیشن زونز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کا مقصد پائیدار شہری انفراسٹرکچر کو فروغ دینا، گرین اسپیس میں اضافہ کرنا اور کراچی کے حسن کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ تمام بڑے منصوبوں اور مرکزی شاہراہوں کے لئے جامع بیوٹیفکیشن اور لینڈ اسکپینگ پلان تیار کئے جائیں۔ ہر بڑے ترقیاتی منصوبے میں گرین بیلٹس، لینڈ اسکیپنگ، شجر کاری، آرائش انفراسٹرکچر اور ماحول دوست عناصر کو شامل کیا جائے اس سلسلے میں شارع فیصل،راشد منہاس روڈ(ڈرگ روڈ/شارع فیصل سے شاہراہ عثمان بذریعہ فور کے چورنگی اور ناگن چورنگی ضلع وسطی)، ایس ایم توفیق روڈ (لیاقت فلائی اوور سے تین ہٹی پل)، سر شاہ سلیمان روڈ (کار ساز سے ناظم آباد حبیب بینک چورنگی تک اور حبیب یونیورسٹی سے ریس کورس صفورہ ضلع شرقی) شامل ہیں۔ تمام منتخب کردہ شاہراہوں پر مکمل اپ گریڈیشن اور بحالی کا کام کیا گیا جو اپنے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ شہر کے اہم ٹریفک کوریڈورز کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے 4.2 ارب روپے مالیت کے جامع منصوبے پر بھی کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران شاہراہوں کی اسٹریٹ لائٹس کو سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا ان میں شارع فیصل اور شاہراہ ایران شامل ہیں۔ 900 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس منصوبے کے تحت سولر پینلز لگانے والی کمپنی پانچ سال تک آپریشن اور وارنٹی کی ذمہ داری ہوگی۔ جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی بجلی کے بلوں میں بچت ہوگی۔ شارع فیصل کی اسٹریٹ لائٹس کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے بعد یہ اہم شاہراہ روشن رہے گی اور عوام کو سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی خدمات کو مزید موثر بنانے کے لئے ہر یونین کمیٹی کو ماہانہ ایک لاکھ روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و بحالی اور مین ہول کورز کی تنصیب یا تبدیلی کے لئے مختص کیا گیا۔نئے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ہر یوسی کو پہلے ماہانہ پانچ لاکھ روپے فراہم کئے جاتے تھے تاہم متعدد یونین کمیٹیوں نے اس رقم کو ناکافی قرار دیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت نے ہماری درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے ہر یونین کمیٹی کا بجٹ بڑھا کر 12 لاکھ روپے ماہانہ کردیا تھاجس کے لئے ہم حکومت کے شکر گزار ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے اجلاس میں رینجرز کے کیمپ میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی جبکہ شاہد فرمان کی والدہ، رئیس عبدالغنی کے والد اور فیصل نسیم کی والدہ کی بھی مغفرت کے لیے دعا کی گئی،اس دوران سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر، اپوزیشن لیڈر سمیت کونسل کے دیگر ممبران نے بجٹ کے حوالے سے اپنے خیالات اظہار کیا اور تجاویز پیش کیں۔ بعدازاں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لئے بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
Read Next
2 گھنٹے ago
بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 2026-27 کے لئے 60,451.430ملین روپے کا بجٹ
7 گھنٹے ago
*میئر کراچی بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے مالی سال 2026-27 کیلئے بلدیہ عظمٰی کابجٹ پیش کر دیا*
3 دن ago
مالی سال 2026-27 میں یونین کونسلوں، بلدیاتی عمارتوں اور عوامی انفراسٹرکچر کی سولرائزیشن کے لیے 75 کروڑ روپے مختص
5 دن ago
کے ایم سی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نیا نظام متعارف، راست کے ذریعے تمام ادائیگیاں براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہونگی،مرتضیٰ وہاب
1 ہفتہ ago
ایک کھرب 19کروڑکا پیکیج کراچی کیلئے ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ کرم اللہ وقاصی
Related Articles
لائنز ایریا میں 13 کروڑ سے زائد لاگت کے ترقیاتی منصوبے کا افتتاح، کراچی بھر میں بلاامتیاز ترقیاتی کام جاری رہیں گے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
2 ہفتے ago
کراچی میں ماحول دوست منصوبوں کا آغاز، پانچ ہزار مینگروز کے پودے لگائے جائیں گے، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی فعال ہوں گے
2 ہفتے ago
*میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا اسپنسر آئی اسپتال کا دورہ، عام شہری کی حیثیت سے او پی ڈی میں معائنہ کروایا*
3 ہفتے ago



