محکمہ ہیلتھ میں ضم ایم سی ایل کے 540 ملازمین پنشن کمپیوٹرائزڈ کروانے کیلئے رل گئے،16 سے زائد اللہ کو پیارے ہو گئے،رشوت دو کمپیوٹرائزڈ کروا لو،سی ای او آفس مافیا

بلدیہ عظمٰی لاہور کے محکمہ صحت میں ضم ہو جانے والے 540 پنشنرز کی تنخواہیں وزیر اعلٰی پنجاب کے حکم کے باوجود کمپیوٹرائزڈ نہ ہو سکیں۔سولہ سے زائد پنشنرز پنشن کے حوالے سے تاخیر اور کمپیوٹرائزڈ کروانے کے چکروں میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔20 سال پہلے ریٹائرڈ ملازمین کے محکمہ صحت کی جانب سے تاحال پنشن اے جی آفس سے کمپیوٹرائزڈ نہیں کروائی گئی جبکہ بعد میں ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین سے لاکھوں روپے رشوت وصول کر کے ان کی پنشن کمپیوٹرائزڈ کروا دی گئی ہیں۔متاثرہ پنشنرز کی طرف سے درخواست اور انکوائری پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں کام کرنے والے مافیا نے انکوائری آفیسر ڈاکٹر آصف جو معذور ہیں کو تبدیل کروا دیا۔اس مافیا میں معطل ہونے والا ملک ساجد،محمود اور قیصر کے نام متاثرہ پنشنرز کی جانب سے بتائے گئے ہیں ۔ایم سی ایل سے ریٹائرڈ ہونے والے پنشنرز کو تین تین ماہ ذلیل کر کے پنشن کی ادائیگی کی جاتی۔حال ہی میں 6 کروڑ روپے کا بجٹ حاصل کیا گیا لیکن اگست کی پنشن روک لی گئی۔چیف ایگزیکٹو آفیسر کی متاثرہ پنشنرز کی پنشن کمپیوٹرائزڈ کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔مافیا ان کے کنٹرول میں نہیں۔540 متاثرہ پنشنرز نے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف،وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے صورتحال کا نوٹس لینے اور صرف رشوت دینے والے پنشنرز کی پنشن کمپیوٹرائزڈ کروانے کے کیسیز کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button