برصغیر کے دیہی معاشرے میں نمبردار محض ایک عہدہ نہیں بلکہ گاؤں کی انتظامی اور سماجی زندگی کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ ماضی میں نمبرداری اکثر خاندانی روایت، زمین داری، اثرورسوخ اور سرکاری طریقۂ کار سے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔ وقت بدلا، ریاستی نظام بدلا، دیہی معاشرہ بدلا اور اب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا ایک نیا نعرہ اس پرانے نظام کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی دعوت دے رہا ہے: ’’اب گاؤں کا نمبردار ہوگا ووٹ پر، میرا گاؤں میری ذمہ داری۔‘‘یہ خیال اگرچہ فی الحال کوئی سرکاری یا قانونی پالیسی نہیں بلکہ ایک اصلاحی تجویز اور عوامی بحث کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس میں دیہی جمہوریت، مقامی قیادت اور عوامی احتساب کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور پوشیدہ ہے کہ آخر گاؤں کی نمائندگی کا حق کس بنیاد پر ملنا چاہیے؟ خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پر، دولت کی بنیاد پر، زمین کی ملکیت پر یا پھر عوامی خدمت کی بنیاد پر؟تجویز کا بنیادی تصور یہ ہے کہ نمبرداری کسی خاندان کی جاگیر نہ رہے بلکہ گاؤں کے لوگوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے درمیان سے ایسے شخص کا انتخاب کریں جو گاؤں کی خدمت، مسائل کے حل، سرکاری اداروں سے رابطے، اجتماعی مفادات کے تحفظ اور فلاحی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتا ہو۔ یعنی ’’خدمت کرو، اعتماد حاصل کرو اور پھر ووٹ لو۔‘‘اگر ہر پانچ سال بعد گاؤں کے لوگ اپنے نمائندے کا انتخاب کریں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ نمبردار کو عوام کے سامنے جواب دہ رہنا پڑے۔ جو شخص پانچ سال تک گاؤں کے مسائل کے لیے آواز اٹھائے، صفائی، نکاسی آب، راستوں، بجلی، پانی، تعلیم، صحت، شجرکاری اور دیگر اجتماعی معاملات میں کردار ادا کرے، اسے دوبارہ منتخب ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس محض خاندانی نام یا اثرورسوخ کی بنیاد پر عہدہ حاصل کرنے والے شخص کے لیے عوامی اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔لیکن یہاں ایک بنیادی قانونی اور انتظامی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ نمبرداری کا نظام اپنی تاریخی اور قانونی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے صرف سوشل میڈیا کی مہم سے اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کبھی ایسا نظام نافذ کرنا ہو تو پنجاب حکومت، متعلقہ محکموں اور قانون ساز اداروں کو باقاعدہ قانونی طریقۂ کار وضع کرنا ہوگا۔ انتخابی حلقہ، امیدوار کی اہلیت، ووٹر فہرست، انتخابی نگرانی، مدت، اختیارات، فرائض اور عہدے سے ہٹانے کے طریقۂ کار سمیت ہر پہلو واضح کرنا ہوگا۔اس تصور کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ نمبردار کو سیاسی عہدے دار بنانے کے بجائے گاؤں کا خدمت گار اور رابطہ کار بنایا جائے۔ اگر نمبرداری سیاسی دھڑے بندی، برادری ازم اور ذاتی مفادات کی جنگ بن گئی تو اصلاح کا مقصد ہی ختم ہوجائے گا۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب ووٹر امیدوار سے یہ پوچھے کہ ’’آپ نے ہمارے گاؤں کے لیے کیا کیا؟‘‘ اور امیدوار جواب دے کہ ’’یہ میرا کام ہے، یہ میری کارکردگی ہے اور اسی بنیاد پر مجھے دوبارہ ووٹ دیں۔‘‘دیہی پاکستان میں مقامی سطح پر ایسے شفاف نظام کی بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ گاؤں کے مسائل اکثر بڑے سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ مقامی قیادت کی مسلسل توجہ سے حل ہوتے ہیں۔ ’’میرا گاؤں، میری ذمہ داری‘‘ اگر محض نعرہ نہ رہے بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا شعور بن جائے تو نمبرداری کا یہ نیا تصور دیہی معاشرے میں ایک مثبت بحث کا آغاز کرسکتا ہے۔ بالآخر اصل سوال یہ نہیں کہ نمبردار کس خاندان سے ہے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے گاؤں کے لیے کتنا مفید، دیانت دار، فعال اور جواب دہ ہے۔
Read Next
2 گھنٹے ago
*وزیر بلدیات ذیشان رفیق کو پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام پر بریفنگ*
18 گھنٹے ago
پنجاب میں پانچ انٹیگریٹڈ ری سائیکلنگ پارکس قائم کرنے کی تجویز،سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود کی زیر صدارت خصوصی اجلاس
2 دن ago
*پی ڈبلیو سی اے اور شان فوڈز کے درمیان ثقافتی ورثے اور سیاحت کے فروغ کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط*
2 دن ago
وزیر بلدیات کا دیہات میں صفائی کے عمل کی مانیٹرنگ کیلئے 24 ہزار 547 انسپیکشنز پر اظہار اطمینان
3 دن ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس،سپیشئل پلاننگ اتھارٹی سے متعلق امور کا جائزہ
Related Articles
پنجاب کی 6 ہزار 637 یونین کونسلز کے ناموں کی منظوری،بلدیاتی انتخابات رمضان المبارک کے بعد متوقع،وزیر بلدیات
4 دن ago
ڈی جی پی ڈبلیو سی اے اور فرانسیسی سفیر نے اندرونِ لاہور میں بحال شدہ روشنائی گیٹ پریسبیٹیرین چرچ کا افتتاح کر دیا
4 دن ago




