منگھوپیر ٹاؤن میں کروڑوں روپے کی کرپشن، جعلی بھرتیاں،178 جعلی اکاؤنٹ، انکوائری کی درخواست

جعلی بھرتیوں کا پہلا باضابطہ سرکاری کاغذات پر مبنی نتیجہ جس کے تحت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 سے 2022 کے دوران 178 جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے اور ان اکاؤنٹ میں تنخواہیں ڈالی کر سندھ سرکار کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہچایا گیا۔اس کے بعد ٹرانسیکشن پیریڈ میں مزید 100 کے قریب جعلی اکاؤنٹ کھلوا کر تنخواہیں دلوائی گئی جنہیں ڈسٹرکٹ ویسٹ کے دیگر ٹاؤن میں ایڈجسٹ کیا گیا

اس سارے معاملے میں ڈسٹرکٹ ویسٹ سے نئے بنے والے ٹاؤن منگھوپیر کے چئیرمین نے ٹرانسیکشن پیریڈ کے دوران اپنے درجنوں لوگ جعلی بھرتی کروائے اور سابقہ ڈائریکٹر آئی ٹی نے بھرپور معاونت کی ،اور اپنے عزیزوں سمیت دیگر افراد بھی جعلی بھرتی کئے ۔سرکاری جعلی آرڈر موصول،محکمہ بلدیات سندھ نے انکوائری شروع کر دی

جواب دیں

Back to top button