گلگت بلتستان میں موٹر سائیکلز کے حادثات کیوں رُونما ہوتے ہیں؟ تحریر: اشتیاق احمد یاد

"ایک انسان کو بچانا ساری انسانیت کو بچانے کے مترداف ہے اور ایک انسان کی جان لینا ساری انسانیت کی جان لینے کے برابر ہے” (القرآن)

جنتِ نظیر خطّہ "گلگت بلتستان” موٹر سائیکلز کے دردناک حادثات کے سبب بعض اوقات والدین اور پیاروں کے لیے جہنم بن جاتا ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں اِس خطّے میں موٹر سائیکلز کے حادثات میں تقریباً ڈیڑھ سو انسان موت کے منہ میں چلے گئے ہیں جن میں سے اکثریت ایسے غُنچوں کی تھی جو ابھی کِھلے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی اور اپنے والدین کی زندگی کو خوشبوؤں سے معطّر کرنا تھا لیکن بِن کِھلے ہی مَنوں مٹی تلے دفن ہو گئے اور اپنے والدین اور رشتہ داروں کی زندگی میں خون کے آنسو چھوڑ گئے۔

تدبیر و احتیاط اور عِلّت و مالول کے فطری قوانین پر ہر مذہب، تہذیب، ثقافت اور سائنس کما حقہ متّفق ہیں۔ بعض ممالک نے انہی تدابیر اور احتیاط سے حادثات پر حیرت انگیز حد تک قابو پایا ہے۔ وائے قسمت کہ ہماری منزل ہنوز دُور ہے۔ اربابِ بست و کشاد اور عوام میں بیگانگی قابلِ رحم ہے۔

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہُوا

لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

مایوسی ۔۔۔ کفر اور تیرگی کا دوسرا نام ہے۔ پیوستہ رہ شجر سے

اُمیدِ بہار رکھ

کے مصداق ہمیں اُمید اور سعی کے چھوٹے چھوٹے دیپ جلائے رکھنا ہے جو رات کی کوکھ سے سحرِ نو جنم دینے کے باعث بنیں گے۔ اِن شاءاللّہ

گلگت بلتستان میں موٹر سائیکلز کے پے در پے حادثات کے اسباب پر میں ایک عرصے سے باریک بینی اور ایک عالَمِ کرب میں غور و خوص کرتا رہا ہوں تاکہ گلگت بلتستان میں قیمتی انسانی زندگیاں بچائی جا سکیں اور تمام ذمہ دار اداروں اور عوام کو اپنا فرض نبھانے کی جانب ترغیب دی جا سکے۔

وہ اسباب یہ ہیں:-

(1)۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا انتہائی بے احتیاطی سے موٹر سائیکل چلانا (2)۔ رفتار ضرورت سے انتہائی زیادہ رکھنا (3)۔ بغیر ہیلمٹ کے سفر کرنا (4)۔ ریس لگانا (5)۔ رانگ سائیڈ پر موٹر سائیکل چلانا (6)۔ اُور ٹیک کرنا (7)۔ غیر قانونی طور پر موٹر سائیکل چلانا (8)۔ والدین کی لاپرواہی (9)۔ بغیر تربیّت کے چلانا (10)۔ بچوں کو بڑوں کی جانب سے موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دینا یا بغیر اجازت کے بچوں کا موٹر سائیکل چلانا (11). موج مستی اور نخرے دکھاتے ہوئے موٹر سائیکل چلانا۔ (12). نشے کی حالت میں موٹر سائیکل چلانا (13)۔ دوسری گاڑیوں کی خطرناک ڈرایئونگ کی وجہ سے بھی موٹر سائیکل سوار موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں (14). ایسے موٹر سائکلز چلانا جن میں کوئی نہ کوئی خرابی/فالٹ موجود ہو (15). سڑک پہ دریا یا کھائی والی جانب سیف گارڈز کا نہ ہونا (16). ٹریفک کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کرنا (17). خطرناک چوراہوں اور جگہوں پر سپیڈ بریکرز اور ٹریفک عملے کا نہ ہونا (18). اشارہ بتی یعنی انڈیکیٹرز کا استعمال نہ کرنا (19). پابندیء وقت کا خیال نہ رکھنا یعنی جلد بازی (20). سڑکوں کی دِگرگوں حالت (21). اترائی اُترتے سمے نیوٹرل کرنا یا ہلکے گیر پر چلانا (22). موٹر سائیکل کی فٹنس اور موٹر سائیکل چلانے والے کی فٹنس کو یقینی نہ بنانا (23). اساتذہ اور علمائے کرام کی جانب سے اِس مسئلے پر خاطر خواہ توجہ نہ دینا۔

 

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

(مولانا ظفر علی خان)

جواب دیں

Back to top button