غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے زرعی علاقوں میں غیر منظور شدہ سکیمیں بن رہی ہیں وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی صدارت اجلاس

پنجاب حکومت نے زرعی اراضی کے غیر ضروری طور پر کمرشل استعمال کو ریگولرائز کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قائم کردہ وزارتی کمیٹی کا اجلاس سول سیکرٹریٹ میں کنوینر اور صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ہوا۔ شریک کنوینر اور صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی، سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری قانون اور دیگر متعلقہ افسروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے وزارتی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے شہروں کے اردگرد زرعی اراضی کو تیزی سے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تبدیل کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ذیلی کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا جو پنجاب بھر کا ڈیٹا پیش کریں گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ بڑھتی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ زرعی رقبے کا دانشمندانہ استعمال بھی ضروری ہے۔ تعمیراتی مقاصد کے لئے زیادہ سے زیادہ اراضی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے عمودی کی بجائے افقی تعمیرات کے کلچر کی طرف جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب دستیاب اراضی کا کفایت شعاری سے استعمال یقینی بنانا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے جو اہداف دیے گئے ہیں یہ کمیٹی اُن کا حصول یقینی بنانے کے اقدامات کرے گی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ نجی رئیل اسٹیٹ بزنس میں کافی معاشی پوٹینشل موجود ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا روزگار بھی اسی شعبے کے ساتھ وابستہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ بزنس کا استحکام اور زرعی اراضی کی حفاظت دونوں یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ شہروں کے علاوہ خالصتاً زرعی علاقوں میں بھی غیر منظور شدہ سکیمیں بن رہی ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف زرعی پیدوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ دیہات میں سیوریج کے پانی کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کے میکانزم میں بہتری لانا ہوگی۔ متعلقہ محکموں کے اشتراک سے فیصلہ کر کے مرحلہ وار نفاذ یقینی بنانا ہوگا۔ سید عاشق کرمانی نے کہا کہ زیادہ کمرشل اضلاع میں ضلع کے لحاظ سے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔

جواب دیں

Back to top button