چیئرمین ملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میاں راشد اقبال پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ناقص کارکردگی پر 2 تحصیلوں میں ڈائیوو کمپنی کا معاہدہ منسوخ کردیا گیا ہے۔بورے والا اور میلسی میں ڈائیوو کمپنی کا اربوں روپے کا ٹھیکہ ختم کردیا گیا۔ڈائیوو کو پہلی وارننگ 26 مئی 2025 کو، دوسری وارننگ 10 جولائی 2025 کو جاری کی گئی۔کارکردگی میں بہتری نہ آنے پر 9 اگست 2025 کو ڈیفالٹ نوٹس دیا گیا۔متعدد نوٹسز اور وارننگز کے باوجود ڈائیوو کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔میاں راشد اقبال نے کہا کہ ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بورڈ نے دونوں تحصیلوں میں ڈائیو کمپنی معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔بورے والا اور میلسی میں صفائی آپریشن اب ویسٹ منیجمنٹ کمپنی خود کرے گی۔ستھرا پنجاب پروگرام میں ناقص کارکردگی برداشت نہیں ہوگی۔دیگر کمپنیوں کو بھی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے شوکاز اور 15دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔عوامی سہولت اور بہتر صفائی کے لیے نئے ٹھیکے کی تیاری کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ڈائیوو کمپنی کو بڑا دھچکا ہے! وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کا خواب ستھرا پنجاب کو مزید بہتراور شفاف بنانے کیلئے ملتان سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ کمپنی کا بڑا فیصلہ آج MSWMC کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے متفقہ طور پر دونوں تحصیلوں میلسی اور بوریوالہ میں معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یادرہے ان دو تحصیلوں سے ڈائیوو کمپنی نے 4 سال میں 14 ارب روپے حکومت پنجاب سے وصول کرنا تھے ۰ ملتان ڈویژن کی دو مزید تحصیلیں شجاعباد اور لودھراں ابھی بھی ڈائیوو کمپنی کے پاس ہیں ویسے پنجاب بھر میں کل 22 تحصیلوں کا ٹھیکہ ڈائیوو کمپنی کو دیاگیا تھا۔ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ترجمان کے مطابق چیئرمین ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میاں راشد اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملتان ڈویژن میں ناقص کارکردگی پر 2 تحصیلوں میں ڈائیوو کمپنی کا معاہدہ منسوخ کردیا گیا ہےچئیرمین میاں راشد اقبال نے کہا کہ بورے والا اور میلسی میں ڈائیوو کمپنی کا اربوں روپے کا ٹھیکہ ختم کردیا گیا ہے اس سلسلے میں ڈائیوو کو پہلی وارننگ 26 مئی 2025 کو، دوسری وارننگ 10 جولائی 2025 کو جاری کی گئی جبکہ کارکردگی میں بہتری نہ آنے پر 9 اگست 2025 کو ڈیفالٹ نوٹس دیا گیا۔چئیرمین ویسٹ منیجمنٹ کمپنی نے کہا کہ متعدد نوٹسز اور وارننگز کے باوجود ڈائیوو کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی انہوں نے کہا کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بورڈ نے متفقہ طور پت دونوں تحصیلوں میں ڈائیو کمپنی معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔بورے والا اور میلسی میں صفائی آپریشن اب ویسٹ منیجمنٹ کمپنی خود کرے گی۔میاں راشد اقبال نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام میں ناقص کارکردگی برداشت نہیں ہوگی جبکہ دیگر کمپنیوں کو بھی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے شوکاز اور 15دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔میاں راشد اقبال نے واضح کیا کہ عوامی سہولت اور بہتر صفائی کے لیے نئے ٹھیکے کی تیاری کا عمل شروع کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ طویل عمل کے بعد، ملتان سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایم ڈبلیو ایم سی) نے ملتان ڈویژن کے 14 تحصیلوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سروسز کے لیے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کئے تھے ڈائیوو کمپنی کو ملتان ڈویژن کے چار تحصیلوں کے لیے معاہدہ دیا گیا، جن میں بورے والا، میلسی، شجاع آباد اور لودھراں شامل ہیں۔معاہدہ 11 نومبر 2024 کو دستخط کیا گیا تھا۔ معاہدہ کی شرائط کے مطابق، آپریشنز 11 دسمبر 2024 کو 30 دن کی موبلائزیشن پیریڈ کے بعد شروع ہونا تھے، تاہم ٹھیکیدار نے 26 جنوری 2025 کو جزوی طور پر آپریشنز شروع کیے، جو تقریباً دو ماہ کی تاخیر تھی۔انہوں نے کہا ک حکومت پنجاب ستھرا پنجاب منصوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے، اس لیے ایم ڈبلیو ایم سی اور دیگر متعلقہ حکومتی ادارے اس کی کارکردگی کو قریبی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ پنجاب کے عوام کو صاف اور اچھے طریقے سے دیکھ بھال والے شہروں کا فائدہ پہنچے۔ معاہدہ کے مطابق، ٹھیکیدار کو معاہدہ کے دستخط کے 90 دنوں میں یہ سائٹ قائم کرنا ضروری تھا۔ تاہم، ڈائیوو پاکستان دونوں تحصیلوں میں ایسا کرنے میں ناکام رہی، حتیٰ کہ نو ماہ گزر چکے ہیں۔ یہ غیر تعمیل ایک سنگین معاہداتی خلاف ورزی ہے، جو کچرے کی درست طریقے سے تلفی نہ ہونے کی صورت میں کے پی آئی پیز (KPI) کو متاثر کرتی ہے اور پروگرام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار کو مختلف فورمز پر بار بار وارننگز دی گئیں، زبانی اور تحریری طور پر، تاکہ وہ معاہدے کی شرائط کے مطابق کارکردگی کو بہتر بنائے۔ تاہم، ان کا جواب غیر تسلی بخش رہا۔چئیرمین ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میاں راشد اقبال نے کہا کہ ڈائیو کمپنی کو آپریشنل کام میں تاخیر بارے وارننگ 15 جنوری کو دی گئی جبکہمیلسی اور بورے والا تحصیلوں میں ستھرا پنجاب پروگرام میں سست رفتار عمل پر ڈی سی وہاڑی کی ایڈوائزری 8 فروری کو جاری کئی گئی اسی طرح غیر تعمیل پر وارننگ 19 فروری کو جاری کی گئی اسی طرح سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے

معاہدہ کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی 5 مارچ کو کی۔ڈائیو کمپنی کی جانب سے تنخواہوں کی غیر ادائیگی پر وضاحت 18 مارچ کو طلب کی گئی جبکہ کارکردگی کے ڈیش بورڈ کے مطابق کے پی آئی پیز کو حل کرنے بارے وارننگ 13 جون کو دی گئی انہوں نے کہا کہ غیر پیشہ ورانہ رویہ اور ذمہ داری کی کمی پر شوکاز 14 جولائی کو دیا گیا جبکہ مختلف فورمز سے متعدد شکایات موصول ہوئیں، جو ٹھیکیدار کی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، انچارج انسپیکشن اینڈ مانیٹرنگ ستھرا پنجاب، ضلع انتظامیہ اور ایل جی سی ڈی ڈی کے خطوں کے ذریعے متعدد بے قاعدگیاں ظاہر کی گئیں۔میاں راشد اقبال نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے تحصیل بورے والا میں کارکردگی کے معیار سے نیچے ہونے پر وارننگ جاری کی گئی تھی جبکہ میلسی تحصیل میں کم از کم اجرت کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شکایت سی ایم آئی ٹی سے بھی کی گئی۔چیئرمین بورڈ میاں راشد اقبال نے کہا کہ ببورے والا تحصیل میں 22.46 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ میلسی میں 12.29 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔






