پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ لاہور اور یونیسف کے درمیان شراکت داری کے حوالے سے سال 24-2023 کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس

پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ لاہور اور یونیسف کے درمیان شراکت داری کے حوالے سے سال 24-2023 کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ سال کے نتائج پر مبنی ورک پلان کا جائزہ لیا گیا اور سال 2025 کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔

اجلاس میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ، ڈاکٹر آصف طفیل نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب اور یونیسف کے درمیان طویل المدتی شراکت داری قائم ہے۔اور حکومت پنجاب مستقبل میں بھی یونیسف کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے پر ہے۔ اس موقع پر یونیسف کی چیف فنانشل آفیسر کی نمائندہ صباحت امبرین نے شراکت داری کی گزشتہ سالوں کی اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا۔

یونیسف پنجاب کے سوشل پالیسی پی ایم اینڈ ڈی اسپیشلسٹ نعمان غنی نے گورنمنٹ آف پنجاب اور یونیسف کے درمیان 2024 کی شراکت داری کی اہم جھلکیاں پیش کیں۔اور 24-2023 کے ورک پلان، اہم تجربات، اور آئندہ پروگرام سائیکل کے لیے طریقہ کار پر روشنی ڈالی ۔اجلاس میں زیر بحث موضوعات میں سماجی پالیسی اور ڈیٹا پروگرامز، چائلڈ سروائیول، پولیو پروگرام، نیوٹریشن پروگرام، پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے منصوبے، ماحولیاتی تبدیلی کا پروگرام، تعلیم کے منصوبے، اور بچوں کے تحفظ کے اقدامات شامل تھے۔ یہ تمام شعبے پنجاب کے بچوں اور خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہم ہیں اور حکومت پنجاب اور یونیسف کی شراکت داری کی بنیاد ہیں۔ اختتامی کلمات میں سینئر چیف ایکسٹرنل کیپیٹل اسسٹنٹ صبا اصغر علی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتی ہے، جس کے تحت ہم مشترکہ منصوبہ بندی اور موثر اقدامات کے ذریعے ترقی کے نئے باب رقم کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء کو نیٹ ورکنگ اور شراکت داری کے فروغ کا موقع فراہم کیا گیا۔ تقریب میں ڈپٹی سیکریٹری (ایڈمن) عمر لیاقت رندھاوا، سی ای او صاف پانی اتھارٹی سید زاہد عزیز، اسپیشل سیکرٹری اسکول ایجوکیشن اقبال، اسپیشل سیکرٹری (ڈیولپمنٹ) پی اینڈ ایس ایچ ڈیپارٹمنٹ برک اللہ، اے ایس (ٹیکنیکل) ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای ڈیپارٹمنٹ عمر فاروق، پی ڈی پی ای ایس آر پی فاروق رشید، ڈائریکٹر پی ای آر آئی انصر کمال، پلاننگ آفیسر محمد ساجد اور دیگر اہم متعلقین نے بھی شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button