وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے محکمہ صحت کے ”آن لائن میڈیسن آرڈرنگ“ پورٹل اور ای پی آئی ویکسینٹرز کے لئے فیول کارڈز کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت شروع دن سے لوگوں کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے، عوامی خدمات کی بہتری کے عمل میں صحت اور تعلیم ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ ہم نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے کام کرنے کے روایتی انداز سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں، کام کرنے کے سرکاری طریقہ کار میں پیچیدگیوں کو دور کرکے انہیں سہل بنا رہے ہیں، اس مقصد کے لئے مروجہ قواعد و ضوابط میں ضروری تبدیلیاں کر رہے ہیں، سرکاری امور میں شفافیت اور محکموں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے تمام شعبوں میں ڈیجیٹائز یشن پر کام کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے شعبوں میں بھی کرپشن کے کیسز سامنے آتے ہیں جن کا تعلق بلاواسطہ انسانی جانوں کے ساتھ ہے، ہم نے ایسا نظام وضع کرنا ہے جس میں کرپشن کرنے کی گنجائش ہی موجود نہ ہو، نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے اصلاحات کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، ہم بانی چئیرمین کے وژن کے مطابق صوبے کی مالی خود کفالت کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ صوبے کی استعداد کے حامل شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں، صوبے کی آمدن بڑھانے کے ساتھ ساتھ مالی نظم ونسق کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، موجودہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کے نتیجے میں صوبے کی آمدن میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے، ہمارے بہترین ٹیم ورک کے نتیجے میں صوبہ ترقی اور مالی خودکفالت کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے۔ علی امین خان گنڈاپور نے مزید کہا کہ
صحت کارڈ کے نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، ان اصلاحات کے نتیجے میں مفت علاج کی کوریج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ بہتر مانیٹرنگ کے نتیجے میں صوبائی حکومت کو ماہانہ ایک ارب روپے کی بھی بچت ہورہی ہے۔ تمام سرکاری ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل پر لانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی پر کام کر رہے ہیں، صحت کارڈ کے تحت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ بھی متعارف کرائیں گے، تمام ریجنز میں کم سے دو دو کارڈیک سیٹلائٹ سنٹرز قائم کر رہے ہیں۔






