وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کو مزید مضبوط اور تیز کیا جائے گا اور کراچی میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس مسمار کر کے شہر میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے گا۔اجلاس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل اویس دستگیر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل محمد شمریز، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی)، اسپیشل برانچ کے ایڈیشنل آئی جی حضرات اور دیگر سکیورٹی اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے۔
کچے کے علاقے میں آپریشن
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کچے کے علاقوں میں جرائم کے خاتمے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈاکوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں اور غیرمسلح بنائیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں آپریشن کا آغاز 2024 میں ہوا تھا جسے اکتوبر 2024 سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران 729 انٹیلی جنس کارروائیاں اور 261 سرچ اینڈ سوئپ آپریشن کیے گئے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دشوارگزار راستوں کے باعث مشکلات کا سامنا تھا، تاہم پولیس اور رینجرز نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ رکاوٹیں دور کیں اور ڈاکوؤں سے براہِ راست مقابلے ممکن بنائے۔ سندھ پولیس نے سندھ رینجرز اور خفیہ اداروں کی معاونت سے مرحلہ وار پیش رفت کی، مضبوط قلعہ نما ٹھکانے قائم کیے اور ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ معروف جرائم پیشہ عناصر کے مراکز کو مسمار اور جلا کر زمین بوس کر دیا گیا۔جنوری 2024 سے 15 اگست 2025 تک 149 ڈاکو مارے گئے جن میں 10 سکھر، 10 گھوٹکی، 40 کشمور اور 89 شکارپور کے شامل ہیں۔ اس دوران پولیس نے 582 ڈاکو گرفتار کیے جن میں 41 سکھر، 33 گھوٹکی، 186 کشمور اور 322 شکارپور سے تھے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ہر صورت امن و امان کو برقرار رکھنا لازمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاوان کے لیے اغوا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2024 سے پولیس اور رینجرز کی مشترکہ کارروائیاں کچے کے علاقوں میں جاری ہیں اور اب یہ آپریشن مزید تیزی اور بھرپور قوت کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جو ڈاکو ہتھیار ڈالیں گے ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کچے کے علاقوں میں سخت اور فیصلہ کن کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطح کی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جس کی سربراہی صوبائی وزیر داخلہ کریں گے جبکہ اس میں سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ افسران شامل ہوں گے تاکہ آپریشن کی پیش رفت کی نگرانی کی جاسکے۔ مزید ایک اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو آپریشن کے مؤثر نفاذ اور فوری فیصلوں کی ذمہ داری سنبھالے گی۔اجلاس کے دوران مختلف اداروں کی جانب سے کچے کے علاقوں میں آپریشن کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا ہے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، مزید نتائج بھی متوقع ہیں۔
صوبائی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کچے کے علاقوں میں جاری کارروائیوں کے حوالے سے پنجاب حکومت کو باخبر رکھا جائے گا اور اسے شریکِ عمل بنایا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کچے کے علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کیے جائیں گے جن میں سڑکوں کا جال بچھانا، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی شامل ہے تاکہ مقامی آبادی کی زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کچے کے پرامن رہائشی بھی تحفظ اور سکیورٹی کے حق دار ہیں اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن کو مزید سخت کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ سروسز طویل مدت کے لیے معطل رہیں گی اور ڈاکوؤں کے زیرِ استعمال تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کر دیے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران موبائل ٹاورز کی نشاندہی بھی کی گئی جنہیں بند کیا جانا ہے۔ مزید برآں کچے کے علاقوں میں کارروائی کرنے والے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر ربط و تعاون پر زور دیا گیا اور پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کی موجودہ کارکردگی کو سراہا گیا۔
کراچی میں پانی کے مسائل
اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور واٹر بورڈ کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر کراچی کے پانی کے سنگین مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شہر کو درپیش بنیادی مسائل فرسودہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہیں، جس کے باعث کم دباؤ کے ساتھ پانی کی فراہمی، بار بار پائپ لائن پھٹنے اور لیکیج جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان حالات نے غیرقانونی پانی چوری کے لیے مواقع فراہم کیے ہیں۔واٹر بورڈ کی جانب سے بتایا گیا کہ اہم مقامات پر پانی کے بہاؤ اور دباؤ کی ریئل ٹائم نگرانی نہ ہونے کے سبب مؤثر انتظام ممکن نہیں ہو رہا۔ نفاذ میں تاخیر، غیر مستقل آڈٹ اور احتساب کی کمی بھی مسائل کو بڑھا رہی ہے۔ مزید یہ کہ ناکافی ڈیجیٹلائزیشن اور جی آئی ایس (جغرافیائی معلوماتی نظام) میپنگ نہ ہونے کی وجہ سے بل نہ دینے والے یا انتہائی کم ادائیگی کرنے والے کنکشن برقرار ہیں۔ کئی علاقوں میں درست ریکارڈنگ اور میٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے پانی چوری کا خطرہ زیادہ ہے۔اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ منظم جرائم پیشہ گروہ مین سپلائی لائنوں میں غیرقانونی کنکشن ڈال کر ٹینکر بھرتے ہیں اور بغیر فلٹر شدہ پانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ یہ غیرقانونی کام مکمل نظام کے تحت چل رہا ہے جس میں پائپ لائنز، والوز اور پمپ شامل ہیں اور اس پر کوئی روک ٹوک نہیں، جس سے کارپوریشن کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔واٹر بورڈ نے آگاہ کیا کہ غیرقانونی کنکشنز اور ہائیڈرنٹس کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ مستقل بنیادوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، بڑے نادہندگان کا پانی منقطع کیا جا رہا ہے اور سی او ڈی میں پانی سے متعلق جرائم کے لیے ایک پولیس اسٹیشن قائم کرنے کا عمل جاری ہے۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) ٹریبونل کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے۔ بتایا گیا کہ قانونی اصلاحات جاری ہیں، کمیونٹی رپورٹنگ سسٹم کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور اندرونی اصلاحات پر بھی کام جاری ہے۔ پانی کی میٹرنگ، مانیٹرنگ، ماسٹر پلاننگ کے ساتھ ساتھ ایک جدید ایس سی اے ڈی اے (سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن) سسٹم، ٹیکس سروے، بہتر جی آئی ایس اور اثاثہ جاتی انتظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ پانی چوری کے خلاف سخت قانونی اور ریگولیٹری اصلاحات کی جائیں گی تاکہ مؤثر سزائیں دی جا سکیں اور واجبات کی وصولی یقینی بنائی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ پانی چوری، غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا کے خلاف مضبوط اور مربوط کارروائی کی جا سکے۔ مزید برآں، پانی کے نئے ذرائع بڑھانے، انفراسٹرکچر کی بحالی اور ادارہ جاتی استحکام کے منصوبے بھی شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔






