وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے اقوام متحدہ کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوارڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ کر رہے تھے۔ وفد کے دیگر اراکین میں مس ہیروکو، مس افکی بوٹسمین، کارلس عباس گیہا اور دیگر شامل تھے۔ ایم این اے فیصل امین گنڈاپور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی اور صوبائی حکومت کے دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔

ملاقات میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی صوبے میں مختلف شعبوں میں عوامی فلاح وبہبود کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ان شعبوں میں صحت خصوصا پولیو وائرس کا خاتمہ، زچہ و بچہ کی صحت اور نو زائیدہ بچوں کی اموات کی روک تھام سے متعلق امور سرفہرست تھے۔ دیگر شعبوں میں تعلیم، ماحولیات، کلچر، سیاحت، دیہی ترقی اور دیگر شامل ہیں۔ ملاقات میں صوبے میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے عملے کی سکیورٹی اور نقل و حمل سے متعلق معاملات پر بھی گفتگوہوئی۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مختلف سماجی شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، موجودہ صوبائی حکومت اقوام متحدہ کے ان اداروں کے ساتھ مزید مربوط انداز میں کام کرنا چاہتی ہے۔ صوبے سے پولیو وائرس کا خاتمہ موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے، صوبائی حکومت اس سلسلے میں ایک نئے عزم کے ساتھ سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے، ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ اسی دور حکومت میں صوبے سے پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ ہم بین الاقوامی پارٹنر اداروں کے ساتھ مل کر انسداد پولیو مہم کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے پارٹنر اداروں کا تعاون اور کردار قابل ستائش ہے۔صوبے میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی موجودہ شرح باعث تشویش ہے، صوبائی حکومت نچلی سطح پر زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے بنیادی مراکز صحت پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کر رہی ہے، اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو صحت کے شعبے میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔بچوں کا اسٹنٹ گروتھ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تعلیم خصوصا بچیوں کی تعلیم موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحاتی شعبوں میں سے ایک ہے، صوبائی حکومت صوبے خصوصا ضم اضلاع میں بچیوں کی شرح خواندگی کو بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ضم اضلاع کے 36 ہزار بچیوں کو تعلیمی وظائف دے رہے ہیں، اس اقدام سے ضم اضلاع میں بچیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں خاصی مدد مل رہی، صوبائی حکومت صوبے میں بسنے والے تمام مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔صوبے میں بسنے والے تمام اقلیتوں کو اپنے مذہبی اور ثقافتی رسومات کی ادائیگی کے لئے مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے، صوبے میں مساجد کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو سولر سسٹم کی فراہمی پر کام جاری ہے، صوبے میں ایک مثالی مذہبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔صوبائی حکومت ان تمام شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جن سے عام لوگوں کی زندگیوں پر جلد مثبت اثرات مرتب ہوں، صوبے میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے عملے کی سکیورٹی اور نقل و حمل میں آسانی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے۔ وفد کی خیبر پختونخواہنت صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی ۔ اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوارڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ نے کہا کہ لوگوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات متاثر کن ہیں،اقوام متحدہ کے متعلقہ ذیلی ادارے صحت کے شعبے خصوصاً پولیو وائرس کے خاتمے اور زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔






