سندھ حکومت نے دن کی اوقات میں شہر میں ڈمپر کی داخلے پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ڈمپرز کو رات 11 سے صبح 6 بجے تک شہر شہر میں داخلے کی اجازت ہوگی۔وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کا ٹریفک حادثات کے حوالے سے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں آئی جی سندھ، کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ, ڈی آئی جی ٹریفک سمیت دیگر شریک ہوئے۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو 3 ماہ کے اندر آپریشن رات کے ٹائم شفٹ کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔شہر میں چلنے والے تمام بڑے گاڑیوں اور ڈرائیوروں کے فزیکل ویری فکیشن کا فیصلہ کیا گیا۔
شہر میں چلنے والے تمام گاڑیوں کو محکمہ ٹرانسپورٹ سے کیو آر کوڈ لگا سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے۔ اجلاس میں فیصلہ،چیف سیکرٹری سندھ نے واٹر بورڈ کے تمام واٹر ٹینکرز کی ایک ماہ میں انسپکشن کی ہدایت کی۔موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ پہنے کی ہدایت، ٹریفک پولیس کو انفورسمینٹ بڑھانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ اطلاعات کو ٹریفک قوانین اور آگاہی کے لئے میڈیا پر مہم چلانے کی ہدایت کی۔شہر میں بڑھتے حادثات پر سخت اقدامات ضروری ہوگئے ہیں۔ چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے والون کے خلاف چالان کے ساتھ ایف آئی آر درج کی جائے۔
حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہیوی ٹریفک کے بنائےگئے قانون پرعملدرآمد نہ ہونا ہے۔سندھ حکومت نے صوبے میں وہیکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم (VICS) شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔چیف سیکرٹری سندھ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو وہیکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم شروع کرنے کا حکم دیا۔شہر میں چلنے والی گاڑیوں میں 65 فیصد موٹر سائیکل ہیں۔ ٹریفک پولیس کی آگاہی دی۔55 فیصد حادثات موٹر سائیکل سوار ہوتے ہیں۔ اجلاس میں اگاہی کے دوران
چیف سیکرٹری سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک کو ایک ماہ کے اندر ٹریفک حالات بہتر کرنے حکم دیا۔

تمام اقدامات کے پیش نظر ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ چیف سیکرٹری سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک کو ہدایت کی کہ ٹریفک چالان کو بھی 4 گنا بڑھایا جائے۔






