وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں کروڑوں لوگ آباد ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے پاس کوئی ماسٹر پلان نہیں ہے۔ پاکستان بننے سے قبل اور بعد میں اب تک کراچی کے 5 ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی نہ کوئی وجہ کے باعث ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ کراچی شہر کے لئے ایک جامع ماسٹر پلان ضروری ہے، جس کے لئےگریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کا آغاز کیا گیا ہے جو اگست 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ بلدیات سندھ اور کے ڈی اے سمیت مختلف انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کے ساتھ تیار کئے جانے والے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047″ کی افتتاحی تقریب میں بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈی جی کے ڈی اے الطاف گوہر، پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد ارشد خان، پروجیکٹ مینیجر ڈیوڈ گونری، ٹیم لیڈر دارالجدسہ انٹرنیشنل کنسلٹنٹ رامی بیٹرون، انجنئیر سی ای او ایشین کنسلٹنٹ فرم انجنئیر ارسلان حنیف و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ یہ میرے لیے بے حد اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ میں آپ سب کو آج کی اس یادگار تقریب میں خوش آمدید کہوں کیونکہ آپ تمام کراچی کے مستقبل کے لیے پُرعزم ہیں، جو نہ صرف پاکستان کا اقتصادی مرکز ہے بلکہ استقامت، تنوع اور ترقی کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی کے لیے چھ ماسٹر پلان بنائے جا چکے ہیں، 1923، 1948، 1952، 1974، 1991 اور 2007 میں۔ آخری منصوبہ، جسے کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020 کا نام دیا گیا تھا، مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا، واٹر کمیشن نے 2018 میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے جب میں اس وقت بھی وزیر بلدیات تھا کہا کہ 2020 میں ختم ہونے والے ماسٹر پلان کو میں نوٹی فائی کریں، اس وقت بھی میں نے انہیں بتایا کہ نئے ماسٹر پلان بنائیں لیکن مجھ سے اپنی بات منوائی گئی اور اس کو نوٹائیفائیڈ کروایا گیا جو دو سال بھی پورے نہ کرسکا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس مرتبہ ہم نے کوشش کی ہے کہ ماسٹر پلان کو اوپن رکھیں اور اسے 2047 کا نام پاکستان کے 100 سال مکمل ہونے کی نسبت سے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر اکتوبر 2024 سے کام شروع کیا گیا ہے اور آج اس کی افتتاحی تقریب منعقد کی جارہی ہے اور یہ دو سال یعنی اگست 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ماسٹر پلان کے حوالے سے ماضی کا تجربہ رہا ہے کہ اس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اعتراضات اور اصلاحات آتی رہتی ہیں اس کئے اس ماسٹر پلان جسے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کا نام دیا گیا ہے، اس کو تمام فورم پر اوپن رکھا گیا ہے تاکہ تمام کی تجاویز اور اصلاحات کو شامل کیا جاسکے، ساتھ ہی اس شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں کو بھی آن بورڈ لیا جارہا ہے جو اپنے ایکسپرٹ کے ذریعے اس میں اپنی رائے شامل کروائیں۔ ساتھ ہی اس میں سول سوسائٹی سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو بھی آن بورڈ لیا جارہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ماسٹر پلان میں مکمل ہائوسنگ، ٹرانسپورٹ، موسمیاتی تبدیلیوں، انفراسٹرکچر، پانی، سیوریج اور بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، جو آئندہ 20 سال تک ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ یہ ماسٹر پلان کسی زبان، علاقہ، اکیڈمیہ یا سیاسی جماعت یا وزیر کا نہیں بلکہ کراچی کے شہریوں کا ماسٹر پلان ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم اس کو ایک ایسا صاف و شفاف اور تمام سے مشاورت سے بھرپور ماسٹر پلان بنانے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے، جو اس شہر، صوبے اور ملک کے لئے تاریخی ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ اب ہمیں ماضی کو بھلا کر مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔ کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے، ہمیشہ سے ہماری قوم کا دل رہا ہے۔ تاہم، جیسے جیسے یہ شہر بڑھا، اس کے چیلنجز بھی بڑھتے گئے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے، حکومتِ سندھ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی دور اندیش قیادت میں گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کی تیاری کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کو ایک عالمی معیار کا میٹروپولیٹن شہر بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جو اس کے باسیوں کے لیے ایک بہتر طرزِ زندگی اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل یقینی بنائے گا۔






