وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے مقامی حکومتوں کے نئے قانون کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس کنوینر اور صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیرصدارت یہاں سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ ڈپٹی کنوینر، وزیر تعلیم رانا سکندر، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی ذیشان ملک، ارکان صوبائی اسمبلی چودھری افتخار حسین چاچڑ، سلمان نعیم، محمد احمد خان لغاری، غزالی سلیم بٹ، ضیا اللہ شاہ، امجد علی جاوید، سردار محمد عاصم شیر میکن، احمد اقبال، غضنفر عباس چھینہ، رئیس نبیل، راجہ محمد اسلم خان، غلام مرتضیٰ، کنول پرویز چودھری، سلمیٰ بٹ، سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری قانون اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔
کمیٹی نے پہلی بار یونین کونسل اور میونسپل کمیٹی کے درمیان ٹائون کمیٹی متعارف کرانے اور پانچ لاکھ سے اوپر آبادی یا ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر کیلئے میٹروپولیٹن کارپوریشن قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ پندرہ ہزار سے کم آبادی میں یونین کونسل قائم ہوگی۔ پندرہ ہزار سے 50 ہزار تک آبادی کیلئے ٹائون کمیٹی، پچاس ہزار سے 2 لاکھ آبادی کیلئے میونسپل کمیٹی جبکہ دو لاکھ سے 5 لاکھ تک آبادی کیلئے میونسپل کارپوریشنز بنانے کی تجویز بھی دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے بلدیاتی ایکٹ 2022 پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی بلدیاتی حلقہ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 والا مقامی حکومتوں کا ایکٹ قابل قبول نہیں کیونکہ اس میں اختیارات کی صحیح معنوں میں منتقلی کی بجائے پورے صوبے کو ون یونٹ بنایا گیا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ جتنا چھوٹا لوکل گورنمنٹ کا حجم ہوگا اتنے زیادہ نچلی سطح تک اختیارات منتقل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف دیہات میں بھی صفائی کا دیرپا نظام چاہتی ہیں، اس کے لئے وہاں مضبوط بلدیاتی نظام کی موجودگی ضروری ہے۔ ذیشان رفیق نے یقین دلایا کہ نیا قانون ہر لحاظ سے جامع اور سابق ایکٹ سے مختلف ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو صحیح معنوں میں ڈیلیور کرنے والا بلدیاتی نظام دیں گے۔ کمیٹی کے اجلاس میں بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال مقرر کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ یہ سفارش بھی کی گئی کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے اور مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کا نظام وضع کیا جائے۔ بعض ارکان نے بلدیاتی اداروں کو انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز دی۔ حتمی سفارشات کی تیاری سے پہلے کمیٹی کے مزید اجلاس بھی ہوں گے۔





